محکمہ انٹرنل آڈٹ آئی آر زرعی شعبے پر ٹیکس لگانے کی تجویز دیدی

ایماندار ٹیکس دہندگان کو مراعات، خود تشخیصی اسکیم آڈٹ سے منسلک، ریٹرن فائلنگ اور ریکوری کیلیے رابطے بڑھائے جائیں

ٹیکس کلچرکو بذریعہ میڈیا فروغ، افسران کو تربیت، سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے، محدود آڈٹ بیس مسئلہ ہے۔ فوٹو : فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ذیلی ماتحت ادارے ڈائریکٹریٹ جنرل انٹرنل آڈٹ ان لینڈ ریونیو نے زرعی شعبے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس عائد کرنے اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے ٹیکس دہندگان کو مراعات دینے کی تجویز دیدی ہے۔

جبکہ ویلتھ ٹیکس کے خاتمے کو ایک بہٹ بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ ٹیکس اصلاحات کو محض ڈونر ایجنسیوں کو مطمئن کرنے کی سروس فراہم کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے ریفام پراسیس کو مکمل کامیاب بنایا جائے، ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے کیلیے متعارف کرائی جانے والی ٹیکس اصلاحات میں 12 بڑی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ڈائریکٹریٹ جنرل انٹرنل آڈٹ ان لینڈ ریونیو کی طرف سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ 2011-12 میں ایف بی آر کو 12 اہم تجاویز دی گئی ہیں اور ٹیکس اصلاحات میں 12 ہی بڑی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ ملکی معیشت کے غیر رسمی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جبکہ ٹیکس مشینری و ملازمین کی کارکردگی بڑھانے کیلیے صرف میرٹ کی بنیاد پر انہیں پرفارمنس الاؤنس فراہم کیا جائے، یونیورسل سیلف اسیسمنٹ اسکیم کو سخت آڈٹ بیک اپ سے منسلک کیا جائے۔




ٹیکس واجبات کی ریکوری اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے حوالے سے سخت انفورسمنٹ کے جائے مختلف اصلاحی فنکشنل یونٹس کے درمیان باضابطہ اور بہتر رابطے کو فروغ دیا جائے، فیلڈ افسران کیلیے ڈائریکشنل ٹریننگ پروگرام متعارف کرائے جائیں، ٹیکس بیس کو وسعت دی جائے، ایجوکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دیا جائے جبکہ تمام سرمایہ کاروں، صنعت کاروں کو یکساں مواقع کی فراہمی کیلیے سرمایہ کاری پر ٹیکسوں میں چھوٹ اور الاؤنسز کو ختم کیا جائے، ایمانداری کے ساتھ اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے کمپلائنٹ ٹیکس دہندگان کو عزت اور مراعات دی جائیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے اپنے نظام کو الیکٹرانیکلی فائلنگ پر تو منتقل کرلیا لیکن معنی خیز ڈیسک آڈٹ کو یقینی بنانے کیلیے ابھی تک معقول ڈیٹا بیس قائم نہیں کیا جاسکا، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے تعاون سے جامع اور جارحانہ ٹیکس اصلاحات کے پیکیج کے باوجود اب بھی بہت سی مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے۔

جن میں محدودآڈٹ بیس، بڑے پیمانے پر جوریزڈکشن کی تبدیلیاں اور ریکارڈ تک عدم رسائی شامل ہیں۔ رپورٹ میں ٹیکس اصلاحات میں جن 12 بڑی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں کہا گیا ہے کہ ویلتھ ٹیکس کا خاتمہ ایک بڑی غلطی ہے، ٹیکس وصولیوں کیلیے ڈائریکٹ ٹیکس کے بجائے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں پر زیادہ انحصار کرنا بھی غلطی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں نان فائلرز کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے، ایف بی آر نئے ٹیکس دہندگان تلاش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے، ڈائریکشنل ٹریننگ کا فقدان ہے، مناسب تربیت کے بغیر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کو ضم کرکے ان لینڈ ریونیو قائم کرنا بھی بڑی غلطی ہے، تربیت کیلیے مختص فنڈز کو فیلڈ فارمشن کے بجائے ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کی سطح پر ہی استعمال کرنا بھی بڑی غلطی ہے، علاوہ ازیں آٹومیشن کا پراسیس انتہائی سست روی کا شکار ہے۔
Load Next Story