ٹرمپ کا جنرل اسمبلی سے خطاب

ٹرمپ انتظامیہ دہشتگردی کے خاتمہ کے نام پر عراق ولیبیا کی طرح عالم اسلام کو مصائب کا شکار نہ بنادے

ٹرٹرمپ انتظامیہ دہشتگردی کے خاتمہ کے نام پر عراق ولیبیا کی طرح عالم اسلام کو مصائب کا شکار نہ بنادے فوٹو : فائل

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بہت گرجے برسے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا سربراہ اپنے اور اپنی ریاست کے لیے خودکش مشن پر ہے، اگر امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوا تو شمالی کوریا کو ختم کرنے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بحیثیت امریکی صدر اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری تجربات پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں، وہاں کی حکومت کرپٹ ہے اور اخلاقی طور پر یہ ایک ناکام ریاست ہے، شمالی کوریا کے لیڈر کو جارحانہ رویہ ترک کرنے تک تنہا کرنے کی ضرورت ہے، ان کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہوں۔

ٹرمپ کے خطاب کا امریکی اور تقریباً تمام عالمی میڈیا نے معروضی و بین الاقوامی تناظر میں ناقدانہ جائزہ لیا ہے، نیویارک ٹائمز نے ٹرمپ کے خطاب میں قوموں کی خود مختاری کے حوالہ سے موقف کو متضاد قراردیتے ہوئے استدلال پیش کیا کہ ایک طرف وہ ہر ملک کی خود مختاری کے احترام کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب وہ شمالی کوریا،ایران اور وینزویلا کے خلاف اقدامات اور سخت ترین کارروائی کا عندیہ دیتے ہیں، ان کی تقریر متحاربانہ بلکہ ایسے آدمی کی تھی جو مرنے مارنے پر تلاہوا ہو، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ کی لذت تقریر ''امریکا پہلے'' کے محور پر گھومتی رہی، بھارتی اخبار ''انڈین ایکسپریس'' نے شمالی کوریا سے متعلق ٹرمپ کے خطاب کو سخت انتباہ سے تعبیر کیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے شمالی کوریا ، ایران اور وینزویلا سمیت مختلف مسلم اور اشتراکی ممالک (کیوبا سمیت) کو مختلف القابات اور دھمکیوں سے نوازا، شمالی کوریا کے مرد آہن کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے انھیں '' راکٹ مین '' قراردیا ہے۔

یوکرائنی، شمالی کوریائی اور بحیرہ جنوبی چین کے تنازع کو سلامتی کے لیے خطرہ جب کہ ایران کے جوہری معاہدہ کو امریکا کی تاریخ کا شرمناک معاہدہ ٹھہرایا، جس کے جواب میں ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے تعاون سے طے شدہ معاہدہ کا خاتمہ امریکا کو مہنگا پڑیگا، ٹرمپ کے رویے کی شکایت بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد نے بھی کی ،ان کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد وہ ٹرمپ کو روک کر ان سے روہنگیا مسلمانوں پر کچھ کہنا چاہتی تھیں مگر ٹرمپ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے کہ بنگلہ دیش کیسے چل رہا ہے؟ تارکین وطن پر اخراجات کی مد میں ان کا انداز نظر مخاصمانہ اور جارحانہ تھا، ٹرمپ کے مسلم جہادی قوتوں کے خلاف عالمی کریک ڈاؤن کے عزائم سے اس بات کا خدشہ ہے کہ مسلمانوں پر ہی برق گرے گی، تارکین وطن تنگ ہونگے اور ان کا تعاقب امریکی پالیسی کا سنگ بنیاد رہے گا، تشویش یہ بھی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دہشتگردی کے خاتمہ کے نام پر عراق ولیبیا کی طرح عالم اسلام کو پھر سے نئے مصائب کا شکار نہ بنادے، شام و یمن کی کیا حالت ہوگئی ہے۔


اسلامی شدت پسندی کی آڑ میں امریکی عزائم ٹرمپ کی تقریر سے جھلک رہے تھے، ٹرمپ ایران امریکا جوہری معاہدہ کی تنسیخ پر کمربستہ ہیں، ریکس ٹیلرسن ٹرمپ کے موقف کے حامی ہیں، ٹرمپ کے نزدیک 6 ملکی معاہدہ اکتوبر کے وسط میں ان کے ہاتھوں توثیق نہیں پا سکے گا، ادھر چینی وزیر خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے نیویارک میں منعقدہ اجلاس پر بریفنگ دی، ایران ، امریکا، برطانیہ، چین، روس، فرانس اور جرمنی نے بھی شرکت کی، اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام بارے اور ایران پر عائد کردہ پابندیوں بارے بحث ہوئی، طے یہ پایا کہ ایران جوہری پروگرام ڈیل پرآیند چند سال من وعن عمل کرتا ہے تو ایران پرعائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکھانگ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ جامع لائحہ عمل بین الاقوامی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

جس کے تحت دنیا کے مختلف معاملات کے سفارتی حل نکالے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں افغان پالیسی کے حوالہ سے پاکستان کا کوئی ذکر نہیں چھیڑا ، البتہ افغان صدر اشرف غنی نے اپنی تقریر میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن واستحکام کے لیے جامع مذاکرات کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشلزم کی بطور نظریہ تحقیر کی اور اسے ناکام کہا، القاعدہ، طالبان، حزب اللہ اور دیگر دہشتگرد گروپوں کی مدد کرنے والے ملکوں کو بے نقاب کرنے کی بات کی ۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے اپنی تقریر سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی لیڈروں کے خطابات پر مبنی چھ روزہ اجلاس کا آغاز کر دیا ۔

اجلاس کے آغاز پر سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ دنیا شمالی کوریا کے ساتھ جوہری جنگ سے خوفزدہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے لاکھوں انسان شمالی کوریائی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے خوف میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ اب جب کہ گلوبل پالیٹکس پر امریکی غلبہ بڑھ چکا ہے پاکستان سمیت مسلم دنیا کو اپنی بقا ، جغرافیائی سالمیت ،خود مختاری اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے سنجیدگی سے مشترکہ اقدامات اور یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا نہ ہوں۔
Load Next Story