آپ بھی ’’کھانا گھر‘‘ کھولیں

اگر ہر گھر سے روزانہ ایک مٹھی آٹا اکٹھا کیا جائے تو پاکستان میں کوئی بھوکا نہ سوئے.

zahedahina@gmail.com

غربت اور بھک مری جس تیزی سے ہمارے یہاں پھیلی، اس کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ہمارے لوگ محنتی تھے، ہمارے کھیت سونا اگلتے تھے اور ہمارے کار خانے لمحے بھر کو نہیں رکتے تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ ہم اپنی مشکلوں پر قابو پا لیں گے اور ایک سنہرا مستقبل ہمارے بچوں کا انتظارکر رہا ہے۔ جنرل ایوب خان کا مارشل لاء اور پھر مشرقی پاکستان کا سقوط ہماری بدبختی تھی۔

ہماری تمام امیدیں اس وقت خاک میں مل گئیں جب جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کی پہلی منتخب جمہوری حکومت کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا، پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی، اپنے اقتدار کے لیے افغان جنگ کو ''مسلم امہ کی جنگ'' کہہ کر اپنایا اور یوں پاکستان کا نقشہ بدل گیا۔

مختصر مدت کے لیے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں آئیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر دکھاتیں، ان کا بستر لپیٹ دیا گیا۔ ایک لمبی مدت تک جنرل پرویز مشرف کی آمریت ہم پر مسلط رہی جس نے دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ کو پاکستان کی جنگ میں تبدیل کر دیا اور ہمارے سماج کی بنت یکسر ادھڑ گئی۔

یہ وہی دور تھا جب سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر SPDC نے ترقی، نابرابری اور غربت کے موضوع پر ایک ایسی رپورٹ شایع کی جو چشم کشا بھی تھی اور المناک بھی۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے غربت کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ وہ ملک جہاں کبھی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے 10 سے 15 فیصد پائے جاتے تھے وہاں اب شرح بڑھ کر 38 اور 40 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اس غربت نے جہاں متوسط طبقے کو نچلے طبقے کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا ہے، وہیں نچلا طبقہ مفلسی کی ڈھلان پر تیزی سے نیچے کی طرف پھسل رہا ہے۔

یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ غربت کسی سماج پر اسی وقت حملہ کرتی ہے، جب اس کے معاملات کی نگرانی کرنے والے، اس پر حکمرانی کرنے والے اپنے لوگوں کے مسائل سے لاتعلق ہو چکے ہوں۔ ایک ایسی صورت حال میں کیا مرد، کیا عورتیں اور کیا بچے سب ہی بے آسرا اور بے وسیلہ لوگ غربت کے شکنجے میں جکڑے جاتے ہیں لیکن اس مفلسی کی سب سے بڑی مار عورت سہتی ہے۔ اپنے بھوکے بچوں اور خاندان کا پیٹ بھرنا اسی کی ذمے داری ہوتی ہے۔ مفلسی کا جہنم اسے اور اس کی روح کو کس طرح جھلساتا ہے، اس کی ایک جھلک مجھے ایس پی ڈی سی کی رپورٹ میں نظر آئی۔ ذیل میں ان عورتوں کے کہے ہوئے جملے ہیں جو انھوں نے ایس پی ڈی سی کی ٹیم کے ارکان سے کہے تھے۔

ان عورتوں کا کہنا ہے: ''بچے اپنی محرومیوں سے شدید طور پر متاثر ہیں۔ وہ مجھ سے مسلسل شکایت کرتے ہیں کہ دوسرے بچوں کے باپ ان کے لیے پھل اور دوسری چیزیں لاتے ہیں، ہمارے باپ ایسی چیزیں کیوں نہیں لاتے۔ میں کسی نہ کسی طرح ان کی توجہ بٹا دیتی ہوں، لیکن راتوں میں چھپ چھپ کر روتی ہوں۔'' ''بعض اوقات میں اپنے بچوں کے زرد چہرے اور کمزور جسم دیکھ کر رو دیتی ہوں۔ انھیں مناسب خوراک مہیا کرنے کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ میں اس سلسلے میں رونے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی۔'' ''میں لنڈا بازار کی پرانی پتلونیں ادھیڑنے کا کام کرتی ہوں۔ میں روزانہ 50 سے 60 پتلونیں نمٹا لیتی ہوں اور اس طرح 10 سے 15 روپے تک کی آمدنی ہوجاتی ہے۔'' ''میں میتوں کو غسل دیتی ہوں، یہ کام روز نہیں ملتا، جب بھی ملتا ہے تو مجھے 50 سے 100 روپے تک کی آمدنی ہوجاتی ہے۔''

''میرا شوہر اور میں مزدور کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ لیکن اب ہر چیز اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ اس آمدنی میں ہمارا گزارا نہیں ہوپاتا۔ لہذا میں نے بھیک مانگنا شروع کر دیا۔ یہ کام بہت مشکل اور ذلت آمیز ہے۔ مجھے بہت زیادہ فحش حرکات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔''


''میرے شوہر کی ملازمت چھوٹ گئی اور وہ ہیروئنچی بن گیا۔ گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں رہا۔ میں نے بہت کام تلاش کیا لیکن کہیں بھی نہیں ملا۔ بالآخر ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی جس نے مجھے وہ ''کام'' کرنے پر راضی کر لیا میں نے جس کے بارے میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ میرے مستقل گاہک ہیں۔ میرے خاندان کے کسی فرد کو میرے اس کام کا علم نہیں ہے۔ جلد یا بہ دیر میرے بھائی کو اس کا علم ہو جائے گا۔ لہٰذا میں یہاں سے دور جانا چاہتی ہوں۔''

آپ کو شاید خیال آئے کہ میں اتنی پرانی بات کیوں کر رہی ہوں لیکن بات اتنی سی ہے کہ اسی زمانے میں ایک دل دوز خبر آئی۔ جنوری2002ء میں ایک خبر شایع ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ اپنے بچوں کی بھوک اور اپنی غربت سے ہار جانے والی ماں نے اپنے دو چھوٹے بچوں کو گلا گھونٹ کر مار دیا۔ ہم سب نے یہ خبر پڑھی، سب ہی کو صدمہ ہوا اور پھر سب اس الم ناک واقعے کو بھول گئے۔ کراچی کی ایک غریب بستی میں رہنے والی مختصر حال ہائوس وائف پروین سعید کی نظر سے بھی یہ خبر گزری اور وہ ان کی زندگی بدل گئی۔ پروین کی راتوں کی نیند اڑ گئی اوردن کا چین ختم ہوگیا۔

وہ سوچتی رہیں اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ صرف افسوس کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کے ارد گرد جو بھیانک بھک مری ہے اس سے انھیں لڑنا چاہیے۔ انھوں نے سوچا کہ انھیں اپنے گھر سے غریب لوگوں کو ایک وقت کا کھانا کھلانے کی اسکیم شروع کرنی چاہیے۔ ان کے جاننے والوں نے ان کا مذاق اڑایا لیکن انھوں نے کسی کی بات پر کان نہیں دھرا۔ اپنے آس پاس کی گلیوں میں وہ جن نہایت غریب لوگوں کو جانتی تھیں۔ انھیں جا کر بتایا کہ انھوں نے اپنے گھر میں 'کھاناگھر' کھولا ہے اور اب انھیں بھوکا رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دوپہر کو ان کے گھر آ کر گرم دال روٹی یا دال چاول کھائیں جس کے لیے انھیں صرف 2 روپے دینے ہوں گے۔

پہلے تو کسی کو ان کی بات کا یقین نہ آیا کہ 2 روپے میں پیٹ بھر کھانا کیسے مل سکتا ہے۔ لیکن جب دو چار عورتیں اپنے بچوں کا ہاتھ تھام کر ان کے گھر آئیں اور ان میں سے ہر عورت یا بچے کو پیٹ بھر کھانے کے صرف 2 روپے دینے پڑے تو وہ حیران رہ گئیں اور پروین سعید کے 'کھانا گھر' کے سامنے چند ہی دنوں میں لمبی قطاریں لگ گئیں۔ پروین متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہیں، ان کے لیے 'کھانا گھر' اسکیم کو تنہا چلانا ممکن نہ تھا۔ انھوں نے رشتے داروں اور دوستوں سے کہا کہ وہ ان کی مدد کریں اور پھر کھانے والے بھی انھیں دو روپے دے کر جا رہے تھے۔ جاننے والوں نے انھیں روپے اور دال، چاول، آٹا دینا شروع کیا۔

کچھ لوگوں کو اس بات پر اعتراض تھا کہ وہ ان لوگوں کو کھانا مفت کیوں نہیں کھلاتیں۔ پروین نے کہا کہ وہ لوگوں کو مفت خور نہیں بنانا چاہتیں اور دو روپے کی رقم ایسی ہے جو غریب بھی دے سکتا ہے۔ کچھ ایسی عورتیں جو خود بھی کم حیثیت ہیں انھوں نے جب پوچھا کہ وہ 'کھاناگھر' میں آنے والوں کی کس طرح مدد کر سکتی ہیں تو پروین نے ان سے کہا کہ وہ اور کچھ نہ کریں انھیں روزانہ صرف ایک مٹھی آٹا دے دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہر گھر سے روزانہ ایک مٹھی آٹا اکٹھا کیا جائے تو پاکستان میں کوئی بھوکا نہ سوئے۔

'کھانا گھر' دیکھتے ہی دیکھتے کمیونٹی میں اتنا مشہور ہوا کہ ایک این جی او اسے دیکھنے آئی اور ان کے کام سے متاثر ہو کر انھیں سرجانی ٹائون میں پلاٹ خرید کر دیا جس کے بعد 'کھانا گھر' پروین کے اپنے چھوٹے سے مکان سے اس بڑے پلاٹ پرمنتقل ہو گیا جہاں دوپہر سے رات تک کھانا کھانے والوں کی قطار لگی ہوتی ہے۔ ان دس برسوں میں پروین سعید نے ایک 'کھانا گھر' شہر کی دوسری غریب بستی میں کھول لیا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے اب لوگوں سے 2 روپے کے بجائے 5 روپے لیے جاتے ہیں لیکن یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ 5 روپے میں پیٹ بھر کر گرم کھانا اس مہنگائی کے زمانے میں مفت ہے۔

پروین دس برس میں شہر کی ایک محترم شخصیت بن چکی ہیں اور انھیں کئی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ ان سے مل کر حیرت ہوتی ہے کہ نہایت سادہ سی خاتون نے کسی کے بغیر اپنی ہمت سے وہ کام کر دکھایا کہ جس کے لیے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ سماج سے بھوک اور غربت، معاشی ترقی اور منصفانہ نظام قائم کیے بغیر ختم نہیں ہو سکتی۔ تاہم، جب تک ایسا نہ ہو پروین سعید کی طرح ''کھانا گھر'' کھول کر ہم کچھ لوگوں کی بھوک تومٹا سکتے ہیں۔

وہ ماں جس نے غربت کے سبب اپنے بچوں کو ہلاک کرنے اور خود کشی کرنے کا ناقابل برداشت صدمہ سہا تھا، زندگی کے آخری سانسوں میں اس کے گمان بھی نہ آیا ہوگا کہ اپنی جان دے کر وہ ان گنت لوگوں کی بھوک کا سامان کر جائے گی۔
Load Next Story