ریلوے کالونیوں میں غیر قانونی تعمیرات جاری کچرے کے انبار
محکمہ ریلوے کراچی کچرا اٹھانے کیلیے2لاکھ12ہزار روپے ماہوار پرائیوٹ ٹھیکیدار کو ادا کرتا ہے
سٹی ریلوے کالونی میں نکاسی آب کا نظام تباہ ہونے کے بعدسیوریج کا گندا پانی گلیوں میں کھڑا ہے، جس سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
ISLAMABAD:
شہر میں واقع ریلوے کالونیوں میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے،کچرے کے انبار اورسیوریج لائنیں چوک ہوگئیں جس کے باعث آنے جانے کے راستے بند ہوگئے۔
محکمہ ریلوے کراچی کچرا اٹھانے کے لیے2 لاکھ 12ہزار روپے ماہوار پرائیوٹ ٹھیکیدار نوید صدیقی نامی کمپنی کو ادا کرتا ہے، معاہدے کے تحت ایک دن میں2 مرتبہ صبح وشام کچرا اٹھایا جانا چاہیے تاہم ہفتے میں ایک مرتبہ کچرا اٹھایا جاتا ہے، تفصیلات کے مطابق محکمہ ریلوے کراچی ڈویژن میں کیماڑی ، سٹی اورکینٹ ریلوے کالونیوں میں پولیس اورسیاسی جماعتوںکی سرپرستی میں غیرقانونی تعمیرات کا کام زورو شور سے جاری ہے، ریلوے کالونیوں میںجگہ جگہ کچرے کے انبار لگ گئے ہیں، سیوریج لائنیں چوک ہونے کی وجہ سے گٹر ابلنے لگے، غلاظت اورگندا پانی گلیوں اورریلوے کالونی کی مین شاہراہ پرکھڑا ہوگیا، گندے پانی کے باعث نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
جگہ جگہ سیمنٹ کے بلاک اورلکڑی کے پٹرے رکھ کرگزرگاہ بنائی گئی ہیں، گذشتہ15سال کے دوران ریلوے سے ریٹائر ہونے والے خاکروبوں کی جگہ نئے خاکروب بھرتی نہیں کیے گئے،چند خاکروب ہیں جنھیں کبھی افسران کے گھروں پر توکبھی اسٹیشن پر صفائی کے لیے بھیج دیا جا تا ہے، ہفتے میں3مرتبہ کالونی میں برائے نام جھاڑو لگائی جاتی ہے، خاکروب سینٹری انسپکٹرزکے حکم پر ریلوے کالونیوں میں ہی کچرے کے انبار لگا کر اسے آگ لگا دیتے ہیں،محکمہ ریلوے کیماڑی ،سٹی اور کینٹ ریلوے کالونیوں سے کچرا اٹھانے کے لیے نجی ٹھیکیدار نوید صدیقی اینڈ کمپنی کو ہر ماہ 2 لاکھ 12ہزار روپے ادا کررہا ہے۔
ذرائع نے بتا یا کہ نجی کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ریلوے کالونیوں سے صبح اور شام دن میں 2 مرتبہ کچرا اٹھایا جا ئے گا جبکہ کچرا اٹھانے کے لیے بند ٹرکوں کا استعمال کیا جائے گا ، نجی ٹھیکیدار مبینہ طور پر ریلوے کے سینٹری انسپکٹرز کی ملی بھگت سے ہفتے میں2 بار کچرا اٹھاتا ہے،کچرا اٹھانے کے لیے ایک ٹریکٹر ٹرالی اور ایک قدیم زمانے کا کھلا ٹرک استعمال کیا جا تا ہے۔
کچرا اٹھانے کے بعد ریلوے کالونی سے باہر نکلتے نکلتے آدھے سے زیادہ کچرا یا تو ہوا سے اڑجاتا ہے یا پھر غیرہموارسڑک کی وجہ سے جگہ جگہ گر جاتا ہے،کچرا اٹھانے والی نجی کمپنی نے ریلوے سے معاہدہ کرتے وقت بتایا تھا کہ ایک ڈرائیور اور4 قلی ٹرک کے ساتھ کچرا اٹھانے کے لیے ہوں گے تاہم ٹرک کے ساتھ ایک ڈرائیور اور2قلی ہوتے ہیں،ریلوے کالونیوں میں رہائش پذیرملازمین سیوریج لائنوں کے چوک ہونے اورکچرے کے انبار لگنے کی متعدد بار متعلقہ محکمے میں شکایت کر چکے ہیں تاہم ان کی کوئی سننے والا نہیں ہے ۔
شہر میں واقع ریلوے کالونیوں میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے،کچرے کے انبار اورسیوریج لائنیں چوک ہوگئیں جس کے باعث آنے جانے کے راستے بند ہوگئے۔
محکمہ ریلوے کراچی کچرا اٹھانے کے لیے2 لاکھ 12ہزار روپے ماہوار پرائیوٹ ٹھیکیدار نوید صدیقی نامی کمپنی کو ادا کرتا ہے، معاہدے کے تحت ایک دن میں2 مرتبہ صبح وشام کچرا اٹھایا جانا چاہیے تاہم ہفتے میں ایک مرتبہ کچرا اٹھایا جاتا ہے، تفصیلات کے مطابق محکمہ ریلوے کراچی ڈویژن میں کیماڑی ، سٹی اورکینٹ ریلوے کالونیوں میں پولیس اورسیاسی جماعتوںکی سرپرستی میں غیرقانونی تعمیرات کا کام زورو شور سے جاری ہے، ریلوے کالونیوں میںجگہ جگہ کچرے کے انبار لگ گئے ہیں، سیوریج لائنیں چوک ہونے کی وجہ سے گٹر ابلنے لگے، غلاظت اورگندا پانی گلیوں اورریلوے کالونی کی مین شاہراہ پرکھڑا ہوگیا، گندے پانی کے باعث نمازیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
جگہ جگہ سیمنٹ کے بلاک اورلکڑی کے پٹرے رکھ کرگزرگاہ بنائی گئی ہیں، گذشتہ15سال کے دوران ریلوے سے ریٹائر ہونے والے خاکروبوں کی جگہ نئے خاکروب بھرتی نہیں کیے گئے،چند خاکروب ہیں جنھیں کبھی افسران کے گھروں پر توکبھی اسٹیشن پر صفائی کے لیے بھیج دیا جا تا ہے، ہفتے میں3مرتبہ کالونی میں برائے نام جھاڑو لگائی جاتی ہے، خاکروب سینٹری انسپکٹرزکے حکم پر ریلوے کالونیوں میں ہی کچرے کے انبار لگا کر اسے آگ لگا دیتے ہیں،محکمہ ریلوے کیماڑی ،سٹی اور کینٹ ریلوے کالونیوں سے کچرا اٹھانے کے لیے نجی ٹھیکیدار نوید صدیقی اینڈ کمپنی کو ہر ماہ 2 لاکھ 12ہزار روپے ادا کررہا ہے۔
ذرائع نے بتا یا کہ نجی کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ریلوے کالونیوں سے صبح اور شام دن میں 2 مرتبہ کچرا اٹھایا جا ئے گا جبکہ کچرا اٹھانے کے لیے بند ٹرکوں کا استعمال کیا جائے گا ، نجی ٹھیکیدار مبینہ طور پر ریلوے کے سینٹری انسپکٹرز کی ملی بھگت سے ہفتے میں2 بار کچرا اٹھاتا ہے،کچرا اٹھانے کے لیے ایک ٹریکٹر ٹرالی اور ایک قدیم زمانے کا کھلا ٹرک استعمال کیا جا تا ہے۔
کچرا اٹھانے کے بعد ریلوے کالونی سے باہر نکلتے نکلتے آدھے سے زیادہ کچرا یا تو ہوا سے اڑجاتا ہے یا پھر غیرہموارسڑک کی وجہ سے جگہ جگہ گر جاتا ہے،کچرا اٹھانے والی نجی کمپنی نے ریلوے سے معاہدہ کرتے وقت بتایا تھا کہ ایک ڈرائیور اور4 قلی ٹرک کے ساتھ کچرا اٹھانے کے لیے ہوں گے تاہم ٹرک کے ساتھ ایک ڈرائیور اور2قلی ہوتے ہیں،ریلوے کالونیوں میں رہائش پذیرملازمین سیوریج لائنوں کے چوک ہونے اورکچرے کے انبار لگنے کی متعدد بار متعلقہ محکمے میں شکایت کر چکے ہیں تاہم ان کی کوئی سننے والا نہیں ہے ۔