بجلی لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ کا تدارک ناگزیر
اوور بلنگ سے نمٹنے کے لیے موبائل میٹر ریڈنگ سسٹم کام کررہا ہے
اوور بلنگ سے نمٹنے کے لیے موبائل میٹر ریڈنگ سسٹم کام کررہا ہے ۔ فوٹو: فائل
بجلی کی بے تحاشا لوڈشیڈنگ اور زائد بلنگ کے معاملہ پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ لوڈشیڈنگ کے معاملے نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے، اس پر ادارے کی جانب سے زائد بلنگ ''مرے پر سو درے'' کے مترادف ہے۔ عوام احتجاج کناں ہیں کہ جب بجلی حسب ضرورت فراہم ہی نہیں کی جاتی، دن میں آٹھ سے سولہ گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے تو پھر یہ اضافی بل کیسے اور کیونکر بھیج دیے جاتے ہیں۔
بالآخر یہ معاملہ قومی اسمبلی کے فلور پر آہی گیا ہے تو اب اس کی صحیح انداز میں شنوائی ہونی چاہیے تاکہ عوام کی پریشانیوں کا تدارک ہوسکے۔ قومی اسمبلی میں بجلی کے تجاوز بلنگ پر بحث کی تحریک پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا اوور بلنگ کا مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن اس پر کوئی بھی عملی اقدام نہیں ہوا۔ رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ علاقے میں 20 گھنٹوں سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور اوپر سے اضافی بل بھیج دیے جاتے ہیں جس نے عوام کی کمر توڑ دی، یہاں وعدے کیے جاتے ہیں لیکن عملدرآمد صفر ہوتا ہے۔
وزیر مملکت عابد شیر علی کا اس حوالے سے موقف ہے کہ لوڈشیڈنگ میں واضح کمی ہوگئی ہے، 2013 میں دورانیہ 18 گھنٹے تھا جب کہ اب چار گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، اوور بلنگ سے نمٹنے کے لیے موبائل میٹر ریڈنگ سسٹم کام کررہا ہے اور ملک میں 93 فیصد ریڈنگ فوٹو سسٹم کے ذریعے ہوتی ہے۔ وزیر مملکت کو علم ہونا چاہیے کہ لوڈشیڈنگ میں کمی مخصوص علاقوں تک محدود ہے، بیشتر علاقے اب بھی بے تحاشا لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں، نیز اوور بلنگ کے معاملے پر عوامی احتجاج میڈیا کی زینت بن رہے ہیں جو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بعض علاقوں میں ادارے کی جانب سے ایوریج بلنگ بھی کی جاتی ہے اور کچھ بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کے لوگوں کو جرمانہ کرکے بھگتنی پڑتی ہے۔
اس روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے 2018 میں بجلی لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا مژدہ سنایا تھا، یہ وقت بھی قریب ہے، دیکھیں اس بار لوڈشیڈنگ خاتمے کا وعدہ وفا ہوتا ہے یا نہیں۔ بجلی کی بچت کے لیے ملک میں ریورس میٹرنگ سسٹم متعارف کروایا گیا تھا یہ سسٹم سندھ میں بھی متعارف کروایا جانا چاہیے جس سے بجلی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ملک میں بجلی کی مستقل فراہمی اور زائد بلنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
بالآخر یہ معاملہ قومی اسمبلی کے فلور پر آہی گیا ہے تو اب اس کی صحیح انداز میں شنوائی ہونی چاہیے تاکہ عوام کی پریشانیوں کا تدارک ہوسکے۔ قومی اسمبلی میں بجلی کے تجاوز بلنگ پر بحث کی تحریک پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا اوور بلنگ کا مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن اس پر کوئی بھی عملی اقدام نہیں ہوا۔ رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ علاقے میں 20 گھنٹوں سے زائد کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور اوپر سے اضافی بل بھیج دیے جاتے ہیں جس نے عوام کی کمر توڑ دی، یہاں وعدے کیے جاتے ہیں لیکن عملدرآمد صفر ہوتا ہے۔
وزیر مملکت عابد شیر علی کا اس حوالے سے موقف ہے کہ لوڈشیڈنگ میں واضح کمی ہوگئی ہے، 2013 میں دورانیہ 18 گھنٹے تھا جب کہ اب چار گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، اوور بلنگ سے نمٹنے کے لیے موبائل میٹر ریڈنگ سسٹم کام کررہا ہے اور ملک میں 93 فیصد ریڈنگ فوٹو سسٹم کے ذریعے ہوتی ہے۔ وزیر مملکت کو علم ہونا چاہیے کہ لوڈشیڈنگ میں کمی مخصوص علاقوں تک محدود ہے، بیشتر علاقے اب بھی بے تحاشا لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں، نیز اوور بلنگ کے معاملے پر عوامی احتجاج میڈیا کی زینت بن رہے ہیں جو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بعض علاقوں میں ادارے کی جانب سے ایوریج بلنگ بھی کی جاتی ہے اور کچھ بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کے لوگوں کو جرمانہ کرکے بھگتنی پڑتی ہے۔
اس روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے 2018 میں بجلی لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے کا مژدہ سنایا تھا، یہ وقت بھی قریب ہے، دیکھیں اس بار لوڈشیڈنگ خاتمے کا وعدہ وفا ہوتا ہے یا نہیں۔ بجلی کی بچت کے لیے ملک میں ریورس میٹرنگ سسٹم متعارف کروایا گیا تھا یہ سسٹم سندھ میں بھی متعارف کروایا جانا چاہیے جس سے بجلی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ملک میں بجلی کی مستقل فراہمی اور زائد بلنگ کے خاتمے کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔