ایڈوانس ٹیکس وصولیاں ایف بی آر کو ریونیو شارٹ فال کا سامنا
رواں مالی سال کے پہلے 2ماہ کا ٹیکس گزشتہ مالی سال جون میں ہی ایڈوانس ٹیکس کی مد میں لیے جانے کا انکشاف
جولائی 2017 میں بھی ٹیکس دہندگان کو اس قسم کی جعلی ای میلز موصول ہو رہی تھیں۔ فوٹو : فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے گزشتہ مالی سال 2016-17 کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ سے رواں مالی سال 2017-18 کے پہلے 2 ماہ کا 80 ارب روپے کا ایڈوانس ٹیکس بھی جون 2017 میں ہی لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے.
مگر اس کے باوجود گزشتہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا نظر ثانی شُدہ ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکا اور ایف بی آرکو ڈیڑھ سو ارب روپے کے لگ بھگ ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایف بی آرکی سابق انتظامیہ کی جانب سے رواں مالی سال کا ٹیکس بھی گزشتہ سال میں ہی ایڈوانس لینے کے باعث ایف بی آر کی نئی انتظامیہ کو رواں مالی سال کے پہلے ماہ ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا جس کا نوٹس لیتے ہوئے نئے چیئرمین ایف بی آر طارق پاشانے فوری اقدامات کرتے ہوئے چیف کمشنرز کانفرنس طلب کی اور ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔
جن کے نتیجے میں گزشتہ ماہ(اگست)کے دوران ٹیکس وصولیوں میں خاطر خواہ بہتری واقع ہوئی ہے جبکہ ایف بی آر کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے آخری ماہ (جون)ایڈوانس لینے کا انکشاف زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ سے ایڈوانس ٹیکس کے واجبات کے بارے میں مرتب کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو زیڈ ٹی بی ایل کے ذمے واجب الادا ایڈوانس ٹیکس بارے بھجوائی جانے والی رپورٹ کی ایکسپریس کو دستیاب کاپی میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ مالی سال کے سال کے آخری ماہ (جون) کی زیڈ ٹی بی ایل کے ذمے بننے والے ایڈوانس ٹیکس کی قسط سمیت مجموعی طور پرایک ارب چھ کروڑ لاکھ ہزار روپے ایڈوانس ٹیکس لیا گیا ہے جس میں جولائی اور اگست 2017 کے لیے بننے والے اسی کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ زرعی ترقیاتی بینک سے جون 2017 میں پکڑے جانے والے ایڈوانس ٹیکس میں سے 40 کروڑ روپے جولائی 2017 میں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں اور 40 کروڑ روپے اگست2017 میں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں جس وجہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو زیڈ ٹی بی ایل سے مذکورہ دو ماہ (جولائی، اگست) کے دوران ایڈوانس ٹیکس کی مد میں نقد کوئی ریونیو حاصل نہیں ہوا ہے تاہم زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) سے رواں ماہ(ستمبر) کے دوران ایڈوانس ٹیکس کی مد میں35 کروڑ روپے وصول کیے جائیں گے۔
مگر اس کے باوجود گزشتہ مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا نظر ثانی شُدہ ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکا اور ایف بی آرکو ڈیڑھ سو ارب روپے کے لگ بھگ ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایف بی آرکی سابق انتظامیہ کی جانب سے رواں مالی سال کا ٹیکس بھی گزشتہ سال میں ہی ایڈوانس لینے کے باعث ایف بی آر کی نئی انتظامیہ کو رواں مالی سال کے پہلے ماہ ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا جس کا نوٹس لیتے ہوئے نئے چیئرمین ایف بی آر طارق پاشانے فوری اقدامات کرتے ہوئے چیف کمشنرز کانفرنس طلب کی اور ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کی ہدایات جاری کیں ۔
جن کے نتیجے میں گزشتہ ماہ(اگست)کے دوران ٹیکس وصولیوں میں خاطر خواہ بہتری واقع ہوئی ہے جبکہ ایف بی آر کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے آخری ماہ (جون)ایڈوانس لینے کا انکشاف زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ سے ایڈوانس ٹیکس کے واجبات کے بارے میں مرتب کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کو زیڈ ٹی بی ایل کے ذمے واجب الادا ایڈوانس ٹیکس بارے بھجوائی جانے والی رپورٹ کی ایکسپریس کو دستیاب کاپی میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ مالی سال کے سال کے آخری ماہ (جون) کی زیڈ ٹی بی ایل کے ذمے بننے والے ایڈوانس ٹیکس کی قسط سمیت مجموعی طور پرایک ارب چھ کروڑ لاکھ ہزار روپے ایڈوانس ٹیکس لیا گیا ہے جس میں جولائی اور اگست 2017 کے لیے بننے والے اسی کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ زرعی ترقیاتی بینک سے جون 2017 میں پکڑے جانے والے ایڈوانس ٹیکس میں سے 40 کروڑ روپے جولائی 2017 میں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں اور 40 کروڑ روپے اگست2017 میں ایڈجسٹ کیے گئے ہیں جس وجہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو زیڈ ٹی بی ایل سے مذکورہ دو ماہ (جولائی، اگست) کے دوران ایڈوانس ٹیکس کی مد میں نقد کوئی ریونیو حاصل نہیں ہوا ہے تاہم زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) سے رواں ماہ(ستمبر) کے دوران ایڈوانس ٹیکس کی مد میں35 کروڑ روپے وصول کیے جائیں گے۔