بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ کاحتمی فیصلہ 5مارچ سے قبل کرلیا جائیگا

پیپلزپارٹی نے گورنرراج کے خاتمے کے لیے4رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی

پیپلزپارٹی نے گورنرراج کے خاتمے کے لیے4رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی

ISLAMABAD:
پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بلوچستان میں گورنر راج کے خاتمے اور صوبائی حکومت کی بحالی کیلیے وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں4 رکنی کمیٹی اعلیٰ سطح کی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے۔

اس کمیٹی میں وفاقی وزرا خورشید شاہ ،قمرالزماں کائرہ اور سردار فتح محمد حسنی شامل ہوں گے ۔اس کمیٹی کوٹاسک دیا گیا ہے کہ آئندہ چند روز میں بلوچستان میں صوبائی حکومت کی بحالی اور نئے قائد ایوان کو منتخب کرنے کے لیے مختلف سیاسی ومذہبی قوتوں سے مذاکرات کا مرحلہ مکمل کیا جائے۔ ان مذاکرات کے بعد آئندہ دس روزکے دوران بلوچستان میںگورنر راج کے خاتمے کاباضابطہ اعلان کردیا جائے گا اور نئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کومنتخب کرلیا جائے گا۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرآصف زرداری اور وزیراعظم راجا پرویزاشرف کے درمیان 2 روز قبل بلوچستان کے مسئلے پرمشاورت کے بعد وفاقی وزیرقانون نے صدر اور وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان کا نیا وزیر اعلیٰ صوبے کی سیاسی و پارلیمانی جماعتوں کے اتفاق رائے سے بنایاجائیگا ۔




ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت کی بحالی کیلیے وفاقی وزیر قانون نے جے یوآئی (ف) سمیت دیگرسیاسی قوتوں سے رابطے شروع کردیے ہیں اورنئے وزیر اعلیٰ کے لیے مختلف ناموں پرغورکیا جارہا ہے ۔ پیپلزپارٹی نے جے یو آئی (ف) اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو متفقہ وزیر اعلیٰ کا نام فوری طور پر کمیٹی کو دیں تواس نام پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت بلوچستان میں فوری طور پر صوبائی حکومت کی بحالی چاہتی ہے تاکہ16مارچ سے قبل متفقہ طور پر بلوچستان میں مرکز اور دیگر صوبوں کی طرح نگراں سیٹ اپ قائم کیا جاسکے ۔ بلوچستان میں نئے وزیر اعلیٰ کیلیے سابق سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع اور صادق عمرانی کے ناموں پرغورکیا جارہا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ 5مارچ سے پہلے کرلیا جائیگا۔

Recommended Stories

Load Next Story