پاکستانی قوم کی عادات جو انہیں مشکل میں ڈال دیتی ہیں
وقت سے محبت کے بجائے اِس کے استعمال کو وطیرہ بنا کر ہم ترقی کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھ سکتے ہیں.
ایسی عادات میں ہماری قوم بظاہر تو جوش و جذبے کے ساتھ مبتلا نظر آتی ہے مگر بدقسمتی سے اِن عادات کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا۔ فوٹو: فائل
اسلامی جمہوریہ پاکستان جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور رقبے کے لحاظ سے تینتیسویں نمبر پر آتا ہے، جنوبی ایشیا میں اس کی اہمیت ایک ایسے جنکشن کی ہے جو خلیج فارس سے لے کر وسط ایشیا تک، درجنوں ملکوں اور خطّوں کو آپس میں جوڑنے والے جنکشن کی حیثیت رکھتا ہے۔
بحیثیت قوم پاکستانیوں کی شناخت پوری دنیا میں شدت پسند اور جاں فشاں افراد کے طور پر کی جاتی ہے اور چونکہ میرا شمار بھی اسی قوم میں ہوتا ہے لہذا میں اِن تمام خصوصیات کی حامل ہوں جو اِس قوم کا وطیرہ ہیں۔ آئیے بحیثیت پاکستانی اپنی مجموعی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں۔
ہم بہت اچھے مسلمان ہیں اور الحمدللہ جتنا مسلمانوں کا درد ہمارے دل میں ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک کے مسلمانوں میں ہو۔ یہی سبب ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان کو تکلیف پہنچے تو ہم اِس تکلیف سے خود کو دور نہیں سمجھتے، فوراً ہی سڑکوں پر نکل آتے ہیں، ٹریفک جام کر دیتے ہیں ملک کی املاک کو آگ لگا دیتے ہیں تاکہ ہمارے ملک کے باسی بھی دوسرے مسلمانوں کی تکلیف کو حقیقی طور پر محسوس کرسکیں۔
پاکستانی قوم کے نزدیک صفائی کی اہمیت دوسری قوموں سے بہت زیادہ ہے، اِس کا سب سے زیادہ احساس ہمارے سیاست دانوں کو ہوتا ہے۔ لہذا سب سے زیادہ زور ہمارے حکمران ملک کے خزانے کی صفائی پر دیتے ہیں۔ حکومت میں آتے ہی سب سے پہلے یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ ملک کے خزانے میں کہاں کہاں نوٹوں کی صورت میں کچرا موجود ہے، اِس کچرے کو سمیٹ کر مختلف ذرائع سے ملک سے باہر بھجوا دیا جاتا ہے تاکہ ملک کے خزانے کو صاف ستھرا کیا جاسکے۔
وقت ایک قیمتی اثاثہ ہے اور اِس کو بچانا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ لہذا اِس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ہم وقت کو استعمال ہی نہیں کرتے۔ ہر کام کو وقت کی قید سے آزاد ہوکر اپنی مرضی سے کرتے ہیں، اِس کی سب سے بڑی مثال ہمارے سرکاری ملازمین ہیں جو نہ تو کبھی وقت پر دفتر آتے ہیں اور نہ ہی کسی منصوبے کی تکمیل وقت پر کرتے ہیں۔
ہماری قوم انتہائی عادل اور انصاف پسند واقع ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے ملک میں احتساب کا سلسلہ ہر دور حکومت میں سابق حکمرانوں کا جھوٹے سچے مقدمات کی صورت میں جاری رہتا ہے۔ کبھی تو سرے محل کی ملکیت کا احتساب اور کبھی لندن فلیٹ کے نام پر احتساب کبھی سوئٹزرلینڈ کے بینک اکاؤنٹ کے نام پر احتساب، قصہ مختصر یہ کہ ہماری قوم اپنے قیام سے لے کر آج تک احتساب میں مصروف ہے۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ اب تک اِس احتساب کو مکمل نہیں کر پائی ہے۔
یہ کچھ ایسی عادات ہیں جن میں ہماری قوم بظاہر تو جوش و جذبے کے ساتھ مبتلا نظر آتی ہے مگر بدقسمتی سے اِن عادات کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا۔ جس ہمدردی کے سبب ہم لوگ اپنے ہم وطنوں کو تکلیف دے رہے ہوتے ہیں، اسی ہمدردی سے ہم اُن کو سکھ بھی دے سکتے ہیں۔ خزانے کی صفائی کے بجائے اگر ہمارے حکمران گلی کوچوں کی صفائی پر توجہ دیں تو ہمارا ملک سیاحوں کی جنت بن سکتا ہے۔
وقت سے محبت کے بجائے اِس کے استعمال کو اپنا وطیرہ بنا کر ہم ترقی کی سیڑھیاں انتہائی تیزی سے چڑھ سکتے ہیں اور اسی طرح احتساب کے عمل کو بھی جلد از جلد مکمل کرکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر آنے والے دور میں بے ایمانی اور کرپشن کا راستہ روک سکتے ہیں۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ اِس سب کو کہنے کا مقصد یہی تھا کہ
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
بحیثیت قوم پاکستانیوں کی شناخت پوری دنیا میں شدت پسند اور جاں فشاں افراد کے طور پر کی جاتی ہے اور چونکہ میرا شمار بھی اسی قوم میں ہوتا ہے لہذا میں اِن تمام خصوصیات کی حامل ہوں جو اِس قوم کا وطیرہ ہیں۔ آئیے بحیثیت پاکستانی اپنی مجموعی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہیں۔
پاکستانی بہت ہمدرد واقع ہوئے ہیں
ہم بہت اچھے مسلمان ہیں اور الحمدللہ جتنا مسلمانوں کا درد ہمارے دل میں ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک کے مسلمانوں میں ہو۔ یہی سبب ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان کو تکلیف پہنچے تو ہم اِس تکلیف سے خود کو دور نہیں سمجھتے، فوراً ہی سڑکوں پر نکل آتے ہیں، ٹریفک جام کر دیتے ہیں ملک کی املاک کو آگ لگا دیتے ہیں تاکہ ہمارے ملک کے باسی بھی دوسرے مسلمانوں کی تکلیف کو حقیقی طور پر محسوس کرسکیں۔
پاکستانیوں کے نزدیک صفائی نصف ایمان ہے
پاکستانی قوم کے نزدیک صفائی کی اہمیت دوسری قوموں سے بہت زیادہ ہے، اِس کا سب سے زیادہ احساس ہمارے سیاست دانوں کو ہوتا ہے۔ لہذا سب سے زیادہ زور ہمارے حکمران ملک کے خزانے کی صفائی پر دیتے ہیں۔ حکومت میں آتے ہی سب سے پہلے یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ ملک کے خزانے میں کہاں کہاں نوٹوں کی صورت میں کچرا موجود ہے، اِس کچرے کو سمیٹ کر مختلف ذرائع سے ملک سے باہر بھجوا دیا جاتا ہے تاکہ ملک کے خزانے کو صاف ستھرا کیا جاسکے۔
پاکستانی قوم وقت کو کبھی ضائع ہونے نہیں دیتی
وقت ایک قیمتی اثاثہ ہے اور اِس کو بچانا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ لہذا اِس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے ہم وقت کو استعمال ہی نہیں کرتے۔ ہر کام کو وقت کی قید سے آزاد ہوکر اپنی مرضی سے کرتے ہیں، اِس کی سب سے بڑی مثال ہمارے سرکاری ملازمین ہیں جو نہ تو کبھی وقت پر دفتر آتے ہیں اور نہ ہی کسی منصوبے کی تکمیل وقت پر کرتے ہیں۔
پاکستانی قوم احتساب کرنے میں ماہر ہے
ہماری قوم انتہائی عادل اور انصاف پسند واقع ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے ملک میں احتساب کا سلسلہ ہر دور حکومت میں سابق حکمرانوں کا جھوٹے سچے مقدمات کی صورت میں جاری رہتا ہے۔ کبھی تو سرے محل کی ملکیت کا احتساب اور کبھی لندن فلیٹ کے نام پر احتساب کبھی سوئٹزرلینڈ کے بینک اکاؤنٹ کے نام پر احتساب، قصہ مختصر یہ کہ ہماری قوم اپنے قیام سے لے کر آج تک احتساب میں مصروف ہے۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ اب تک اِس احتساب کو مکمل نہیں کر پائی ہے۔
یہ کچھ ایسی عادات ہیں جن میں ہماری قوم بظاہر تو جوش و جذبے کے ساتھ مبتلا نظر آتی ہے مگر بدقسمتی سے اِن عادات کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا۔ جس ہمدردی کے سبب ہم لوگ اپنے ہم وطنوں کو تکلیف دے رہے ہوتے ہیں، اسی ہمدردی سے ہم اُن کو سکھ بھی دے سکتے ہیں۔ خزانے کی صفائی کے بجائے اگر ہمارے حکمران گلی کوچوں کی صفائی پر توجہ دیں تو ہمارا ملک سیاحوں کی جنت بن سکتا ہے۔
وقت سے محبت کے بجائے اِس کے استعمال کو اپنا وطیرہ بنا کر ہم ترقی کی سیڑھیاں انتہائی تیزی سے چڑھ سکتے ہیں اور اسی طرح احتساب کے عمل کو بھی جلد از جلد مکمل کرکے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر آنے والے دور میں بے ایمانی اور کرپشن کا راستہ روک سکتے ہیں۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ اِس سب کو کہنے کا مقصد یہی تھا کہ
''شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات''
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔