وزیراعظم کی امریکا میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں
خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، امریکی نائب صدر مائیک پنس
خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، امریکی نائب صدر مائیک پنس۔ فوٹو : فائل
لاہور:
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں جہاں ان کی بدھ کو امریکی نائب صدر مائیک پنس سمیت ایرانی صدر حسن روحانی' اردن کے شاہ عبداللہ' برطانوی وزیراعظم تھریسامے' عالمی بینک کی سی ای او کرسٹالینا جارجیوا سمیت مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات کے دوران دوطرفہ امور سمیت خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مائیک پنس نے کہا کہ امریکا پاکستان سے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے' خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں' خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں' بہتر تعلقات کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ نیو یارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکی نائب صدر سے ملاقات سے برف پگھلے گی۔
ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکا پاکستان کے تعلقات ایک بار پھر سرد مہری کا شکار ہو گئے ہیں جس کے ذمے دار صدر ٹرمپ ہیں جن کے جارحانہ اور مسلم دنیا کے بارے میں متعصبانہ رویے کے باعث معاملات میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ بار بار اسلامی انتہا پسندی کا ذکر کرتے ہوئے اس سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ انتہا پسندی کے خلاف تو ساری اسلامی دنیا ہے بالخصوص پاکستان اس کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ لڑ رہا ہے جس میں اس نے بے مثال قربانیاں دے کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں لیکن صدر ٹرمپ کا اسلامی انتہا پسندی کے خلاف کارروائی کے بیان سے بہت سے خدشات جنم لیتے ہیں کہ وہ آڑ میں اسلامی دنیا کے کچھ ممالک کا عراق' لیبیا اور شام جیسا حشر کرنا چاہتے ہیں۔
چند روز قبل پاکستان میں بھی ڈرون حملہ کیا گیا جو امریکا کی پالیسیوں کا ایک تسلسل تو ہے لیکن وہ اس امر کا بھی آئینہ دار ہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس صورت حال میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان امریکی رویہ میں بہتری لانے کے لیے سفارتی مہم تیز کرے ۔ اس تناظر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی نائب صدر سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کا ذکر کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ملاقات سے کیا واقعتاً پاک امریکا تعلقات میں موجود برف پگھلتی ہے یا نہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاک امریکا بزنس کونسل سے بھی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی نقصانات اٹھائے اور وہ چاہتا ہے کہ عالمی برادری اس کی قربانیوں کا اعتراف کرے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے تعاون کے بغیر جیتی نہیں جا سکتی، امریکا کو بھی اس کا ادراک ہے اور وہ اسی لیے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری قائم کرنا اور بہتر تعلقات کی نئی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے لیکن پاک امریکا تعلقات اسی وقت مضبوط ہوں گے جب امریکا اپنے جارحانہ رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے خطے میں پاکستانی مفادات کا بھی تحفظ کرے گا۔ اگر امریکا جنوبی ایشیا کے خطے میں ایسی پالیسیاں وضع کرتا ہے جس سے پاکستانی مفادات کو زک پہنچتی ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنا خارج ازامکان ہے۔ افغانستان کی صورت حال کے باعث پاکستان کے لیے داخلی اور خارجی سطح پر بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں، پاکستان نے افغانستان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن طور پر کوششیں کیں لیکن افغان حکمرانوں کے رویے کے باعث بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
امریکا جنوبی ایشیا میں اس وقت بھارت کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا پارٹنر بنانے کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اس سے تمام ممالک کو مل کر نمٹنا ہو گا لیکن امریکا کو بھارتی دوستی کے نام پر پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے ورنہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہونے کے بجائے پھیلتی اور طویل ہوتی جائے گی۔بہرحال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکا میں جو ملاقاتیں کی ہیں' اس کے اچھے نتائج نکلنے کی امید کی جا سکتی ہے' پاکستان کو امریکا اور مغربی ممالک میں اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں جہاں ان کی بدھ کو امریکی نائب صدر مائیک پنس سمیت ایرانی صدر حسن روحانی' اردن کے شاہ عبداللہ' برطانوی وزیراعظم تھریسامے' عالمی بینک کی سی ای او کرسٹالینا جارجیوا سمیت مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات کے دوران دوطرفہ امور سمیت خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مائیک پنس نے کہا کہ امریکا پاکستان سے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے' خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں' خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں' بہتر تعلقات کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ نیو یارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکی نائب صدر سے ملاقات سے برف پگھلے گی۔
ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکا پاکستان کے تعلقات ایک بار پھر سرد مہری کا شکار ہو گئے ہیں جس کے ذمے دار صدر ٹرمپ ہیں جن کے جارحانہ اور مسلم دنیا کے بارے میں متعصبانہ رویے کے باعث معاملات میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ بار بار اسلامی انتہا پسندی کا ذکر کرتے ہوئے اس سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ انتہا پسندی کے خلاف تو ساری اسلامی دنیا ہے بالخصوص پاکستان اس کے خلاف وسیع پیمانے پر جنگ لڑ رہا ہے جس میں اس نے بے مثال قربانیاں دے کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں لیکن صدر ٹرمپ کا اسلامی انتہا پسندی کے خلاف کارروائی کے بیان سے بہت سے خدشات جنم لیتے ہیں کہ وہ آڑ میں اسلامی دنیا کے کچھ ممالک کا عراق' لیبیا اور شام جیسا حشر کرنا چاہتے ہیں۔
چند روز قبل پاکستان میں بھی ڈرون حملہ کیا گیا جو امریکا کی پالیسیوں کا ایک تسلسل تو ہے لیکن وہ اس امر کا بھی آئینہ دار ہے کہ صدر ٹرمپ پاکستان کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس صورت حال میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان امریکی رویہ میں بہتری لانے کے لیے سفارتی مہم تیز کرے ۔ اس تناظر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی نائب صدر سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کا ذکر کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ملاقات سے کیا واقعتاً پاک امریکا تعلقات میں موجود برف پگھلتی ہے یا نہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاک امریکا بزنس کونسل سے بھی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی نقصانات اٹھائے اور وہ چاہتا ہے کہ عالمی برادری اس کی قربانیوں کا اعتراف کرے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے تعاون کے بغیر جیتی نہیں جا سکتی، امریکا کو بھی اس کا ادراک ہے اور وہ اسی لیے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری قائم کرنا اور بہتر تعلقات کی نئی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے لیکن پاک امریکا تعلقات اسی وقت مضبوط ہوں گے جب امریکا اپنے جارحانہ رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے خطے میں پاکستانی مفادات کا بھی تحفظ کرے گا۔ اگر امریکا جنوبی ایشیا کے خطے میں ایسی پالیسیاں وضع کرتا ہے جس سے پاکستانی مفادات کو زک پہنچتی ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنا خارج ازامکان ہے۔ افغانستان کی صورت حال کے باعث پاکستان کے لیے داخلی اور خارجی سطح پر بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں، پاکستان نے افغانستان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن طور پر کوششیں کیں لیکن افغان حکمرانوں کے رویے کے باعث بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
امریکا جنوبی ایشیا میں اس وقت بھارت کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا پارٹنر بنانے کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اس سے تمام ممالک کو مل کر نمٹنا ہو گا لیکن امریکا کو بھارتی دوستی کے نام پر پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے ورنہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہونے کے بجائے پھیلتی اور طویل ہوتی جائے گی۔بہرحال وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکا میں جو ملاقاتیں کی ہیں' اس کے اچھے نتائج نکلنے کی امید کی جا سکتی ہے' پاکستان کو امریکا اور مغربی ممالک میں اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔