بجلی کے جھٹکے اور مہنگائی بم
آیندہ 5 سال تک مہنگائی اور اووربلنگ سے صارفین کی جان چھوٹنے کی اور خوشخبری ملنے کی امید نہیں
آیندہ 5 سال تک مہنگائی اور اووربلنگ سے صارفین کی جان چھوٹنے کی اور خوشخبری ملنے کی امید نہیں. فوٹو: فائل
KARACHI:
حکومت نے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر ایک اور بجلی بم گرا دیا۔ نیپرا نے بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت 3روپے 90پیسے تک بڑھانے کی منظوری دی ہے جس کے نتیجہ میں نئے ٹیرف کی منظوری کے بعد عوام کو 5سال تک بجلی کے جھٹکے لگتے رہیں گے۔اگرچہ کراچی والوں پر اطلاق نہیں ہوگا مگر بطور مجموعی اثرات مرتب ہونگے۔ بدھ کو نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اعلان کردہ اضافے کے مطابق 5سالہ ٹیرف کے تحت ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے60 پیسے جب کہ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی 3 روپے 90 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی۔
اس بات سے انکار نہیں کہ نیپرا نے وزارت پانی وبجلی کی طرف سے صارفین سے1235 ارب روپے بلوں میں اضافہ کی مد میں وصولیوں کو مسترد کیا جب کہ بجلی کمپنیوں کو مستقل ڈیفالٹرز کے ذمے واجب الادا 24 ارب روپے ٹیرف کا مشروط حصہ بنانے کی اجازت دینے اور وزارت پانی و بجلی کی جانب سے اربوں روپے کے واجب الادا گردشی قرضوں کو بھی ٹیرف کا حصہ بنانے سے انکار کردیا ہے اور اس ضمن میں وفاقی حکومت کے29فروری2016ء کے نظر ثانی شدہ فیصلہ پر ٹیرف متعین کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔
جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن حکومت جاری کریگی تاہم نومبر یا دسمبر تک ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے جس اعلان کی تیاریاں کی جارہی ہیں، شارٹ فال کے خاتمے اور بجلی کی پیداوار 20 ہزار میگاواٹ سے بڑھ جانے کی خوش آیند اطلاعات بجلی بم کے تازہ اعلان سے مطابقت نہیں رکھتیں جب کہ آیندہ 5 سال تک مہنگائی اور اووربلنگ سے صارفین کی جان چھوٹنے کی عوام کو خوشخبری ملنے کی امید نہیں جب کہ ایک خبر کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار میں کمی سے شارٹ فال بڑھ جانے سے لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
تین پاور جنریشن پلانٹ سالانہ مرمت کے باعث بند ہوئے ہیں ، تین آئی پی پیز بند ہونے پر نیشنل سسٹم سے تقریباً 1500 میگاواٹ بجلی نکل گئی ہے جو شارٹ فال میں اضافہ کا سبب بنی ہے ، چنانچہ ارباب اختیار ایسا مستحکم میکنزم وضع کریں جس سے ملک بھر کے شہری اور صنعتی صارفین کو بجلی کی پیداوار، تقسیم ، اس کے ضیاع کے سدباب اور بلنگ سسٹم کے شفاف اور فالٹ فری انتظام کے فوائد حاصل ہوں اور پاور پالیسی کے ثمرات بھی ملیں۔ حکومت توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے کوشاں ہے مگر اس سمت میں قومی معیشت کی ترقی اور ملکی برآمدات میں اضافہ کے لیے توانائی کے شعبہ میں پیش رفت انتہائی ضروری ہے۔
حکومت نے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر ایک اور بجلی بم گرا دیا۔ نیپرا نے بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت 3روپے 90پیسے تک بڑھانے کی منظوری دی ہے جس کے نتیجہ میں نئے ٹیرف کی منظوری کے بعد عوام کو 5سال تک بجلی کے جھٹکے لگتے رہیں گے۔اگرچہ کراچی والوں پر اطلاق نہیں ہوگا مگر بطور مجموعی اثرات مرتب ہونگے۔ بدھ کو نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اعلان کردہ اضافے کے مطابق 5سالہ ٹیرف کے تحت ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے60 پیسے جب کہ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی 3 روپے 90 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی۔
اس بات سے انکار نہیں کہ نیپرا نے وزارت پانی وبجلی کی طرف سے صارفین سے1235 ارب روپے بلوں میں اضافہ کی مد میں وصولیوں کو مسترد کیا جب کہ بجلی کمپنیوں کو مستقل ڈیفالٹرز کے ذمے واجب الادا 24 ارب روپے ٹیرف کا مشروط حصہ بنانے کی اجازت دینے اور وزارت پانی و بجلی کی جانب سے اربوں روپے کے واجب الادا گردشی قرضوں کو بھی ٹیرف کا حصہ بنانے سے انکار کردیا ہے اور اس ضمن میں وفاقی حکومت کے29فروری2016ء کے نظر ثانی شدہ فیصلہ پر ٹیرف متعین کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔
جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن حکومت جاری کریگی تاہم نومبر یا دسمبر تک ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے جس اعلان کی تیاریاں کی جارہی ہیں، شارٹ فال کے خاتمے اور بجلی کی پیداوار 20 ہزار میگاواٹ سے بڑھ جانے کی خوش آیند اطلاعات بجلی بم کے تازہ اعلان سے مطابقت نہیں رکھتیں جب کہ آیندہ 5 سال تک مہنگائی اور اووربلنگ سے صارفین کی جان چھوٹنے کی عوام کو خوشخبری ملنے کی امید نہیں جب کہ ایک خبر کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار میں کمی سے شارٹ فال بڑھ جانے سے لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔
تین پاور جنریشن پلانٹ سالانہ مرمت کے باعث بند ہوئے ہیں ، تین آئی پی پیز بند ہونے پر نیشنل سسٹم سے تقریباً 1500 میگاواٹ بجلی نکل گئی ہے جو شارٹ فال میں اضافہ کا سبب بنی ہے ، چنانچہ ارباب اختیار ایسا مستحکم میکنزم وضع کریں جس سے ملک بھر کے شہری اور صنعتی صارفین کو بجلی کی پیداوار، تقسیم ، اس کے ضیاع کے سدباب اور بلنگ سسٹم کے شفاف اور فالٹ فری انتظام کے فوائد حاصل ہوں اور پاور پالیسی کے ثمرات بھی ملیں۔ حکومت توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے کوشاں ہے مگر اس سمت میں قومی معیشت کی ترقی اور ملکی برآمدات میں اضافہ کے لیے توانائی کے شعبہ میں پیش رفت انتہائی ضروری ہے۔