ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کے لیے دستخطوں کی مہم
اُن کی جانب سے ٹریٹی کی مخالفت کی گئی ہے جن کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگے ہوئے ہیں
اُن کی جانب سے ٹریٹی کی مخالفت کی گئی ہے جن کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ فوٹو:فائل
اقوام متحدہ نے بدھ کو ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کے اولین معاہدے پر دستخط کرانے کی مہم شروع کر دی ہے جس کو ایک سو سے زائد ملکوں کی حمایت حاصل ہے مگر ان تمام بڑی طاقتوں کی طرف سے اس ٹریٹی کی مخالفت کی گئی ہے جن کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرایع نے بتایا ہے کہ 51 ممالک اس ٹریٹی کے اوپننگ ڈے کے موقع پر اپنے نام درج کرنے کی اجازت دے دیں گے۔
اس سمجھوتے پر سب سے پہلے برازیل کے صدر مائیکل ٹیمر نے دستخط کیے۔ اس سمجھوتے میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نہ ایٹمی ہتھیار تیار کریں گے نہ انھیں ترقی دیں گے نہ تجربات کریں گے اور نہ انھیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی انھیں جمع کر کے ان کا انبار لگائیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ دنیا کے بہت سے ممالک ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا سمجھوتہ اقوام متحدہ کا نہایت مثبت اقدام ہے اور اس کی حیثیت موجودہ وقت میں ایک اہم سنگ راہ کی سی ہے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تشویش ہے لہٰذا وہ ہر قیمت پر وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو پھیلاؤ سے روکنا چاہتا ہے۔
سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تیاری کئی دہائیوں سے جاری ہے مگر اب تک اقوام متحدہ کی طرف سے ان پر باضابطہ طور پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ (این پی ٹی) کو تقریباً 50 سال ہو گئے ہیں لیکن اس کے بعد سے اس کی توثیق نہیں ہو سکی۔ انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی میزائلوں کے تجربات کو عالمی امن کے لیے خطرے کا موجب بتایا جاتا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے تحت نیا عالمی سمجھوتہ تیار کیا جائے تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے خطرے سے دنیا کو نجات مل سکے۔ بہرحال حالات نے ثابت یہی کیا ہے کہ جب تک دنیا کی بڑی ایٹمی طاقتیں اپنے ہتھیار ختم نہیں کرتیں' ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا کوئی معاہدہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اس سمجھوتے پر سب سے پہلے برازیل کے صدر مائیکل ٹیمر نے دستخط کیے۔ اس سمجھوتے میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نہ ایٹمی ہتھیار تیار کریں گے نہ انھیں ترقی دیں گے نہ تجربات کریں گے اور نہ انھیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور نہ ہی انھیں جمع کر کے ان کا انبار لگائیں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ دنیا کے بہت سے ممالک ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کا سمجھوتہ اقوام متحدہ کا نہایت مثبت اقدام ہے اور اس کی حیثیت موجودہ وقت میں ایک اہم سنگ راہ کی سی ہے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تشویش ہے لہٰذا وہ ہر قیمت پر وسیع تباہی کے ہتھیاروں کو پھیلاؤ سے روکنا چاہتا ہے۔
سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تیاری کئی دہائیوں سے جاری ہے مگر اب تک اقوام متحدہ کی طرف سے ان پر باضابطہ طور پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ (این پی ٹی) کو تقریباً 50 سال ہو گئے ہیں لیکن اس کے بعد سے اس کی توثیق نہیں ہو سکی۔ انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی میزائلوں کے تجربات کو عالمی امن کے لیے خطرے کا موجب بتایا جاتا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے تحت نیا عالمی سمجھوتہ تیار کیا جائے تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے خطرے سے دنیا کو نجات مل سکے۔ بہرحال حالات نے ثابت یہی کیا ہے کہ جب تک دنیا کی بڑی ایٹمی طاقتیں اپنے ہتھیار ختم نہیں کرتیں' ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کا کوئی معاہدہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔