شاہد خاقان عباسی کی تقریر خطے کا آئینہ
بھارت کشمیر میں جنگی جرائم سے جنیوا کنونشن کی قراردادوں کو پامال کر رہا ہے،وزیر اعظم خاقان عباسی
بھارت کشمیر میں جنگی جرائم سے جنیوا کنونشن کی قراردادوں کو پامال کر رہا ہے،وزیر اعظم خاقان عباسی۔ فوٹو : فائل
LIVERPOOL/MANCHESTER:
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن بھارتی مہم جوئی اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے 70 سال میں دنیا کو کئی تنازعات سے بچایا لیکن بدقسمتی سے اقوام متحدہ کے منشور پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور خطے کے زمینی حقائق پر سنجیدہ اور مدلل تقریر کی، انھوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی ظلم و جبر، مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوجیوں کو تعیناتی، کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچلنے اور پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا واشگاف اعلان کیا، روہنگیا میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ظلم اور زیادتیوں کا حوالہ دیا، وزیراعظم کا فوکس بھارت کی جنگی چالوں، کنٹرول لائن پر دانستہ اشتعال انگیزیوں، سفارت کارانہ مکاریوں اور امریکی افغان پالیسی کی آڑ میں خطے کی بالادستی حاصل کرنے کو بے نقاب کرانا تھا اور انھوں نے عمدہ طریقے سے دنیا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے غیر معمولی کردار کا مقدمہ پیش کیا۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کشمیری بھارت سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں، بھارت کشمیر میں جنگی جرائم سے جنیوا کنونشن کی قراردادوں کو پامال کر رہا ہے، طالبان، حقانی سمیت دیگر نیٹ ورکس کے محفوظ ٹھکانوں کے امریکی الزام کو بھی انھوں نے اس مضبوط استدلال کے ساتھ رد کیا کہ طالبان کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں نہیں افغانستان میں موجود ہیں جہاںسے اکثر سرحد پار حملے ہوتے ہیں، شاہد خاقان عباسی کی تقریر کا نچوڑ یہ تھا کہ 16 سال سے جاری افغان جنگ کا حل صرف مذاکرات میں ہے، بین الاقوامی طاقتیں افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر مت ڈالیں، پاکستان افغان جنگ کو پاکستانی سرزمین پر لڑنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی پاکستان قربانی کا بکرا بنے گا۔
وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے۔بلاشبہ دنیا کو وزیراعظم عباسی کی معروضات پر توجہ دینی چاہیے، دہشتگردی کی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر اقوام متحدہ کے اراکین کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ پاکستان کی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، مسئلہ فلسطین فوری طور پر حل ہو، یہ انتباہ بر وقت ہے کہ یورپ کو ایک نئی سرد جنگ کا سامنا ہے جب کہ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری بنانے کے لیے پاکستانی وزیراعظم نے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ اب لازم ہے عالمی برادری داعش کی عراق اور شام میں دہشتگردی کو روکے۔ دہشتگردی کے بنیادی اسباب وعلل اور محرکات کا جائزہ لے۔وزیراعظم عباسی نے متعدد ملاقاتوںکے دوران اہم شخصیات سے رابطے کیے، برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان کو بہت کچھ سہنا پڑا۔شاہد خاقان امریکی میڈیا نمایندوں سے ملے، ان کے تند وتیز سوالوں کے جواب دیے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں بلکہ کم فاصلے تک مار کرنیوالے جوہری ہتھیار ہیں جو میدان جنگ میں استعمال کے لیے نہیں بنائے گئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس سے ملاقات میں وزیراعظم نے یو این سیکریٹری جنرل کے سامنے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اٹھایا اور انھیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈوزیئر دیا جب کہ نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کے دوران مختلف سوا لوں کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑی اور خطرناک جنگ اپنے وسائل سے لڑی۔حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کو داخلی محاذ پر بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، بلوچستان کی صورتحال کو بگاڑنے میں بھارت لابی فعال ہوگئی ہے، پاکستانی دفتر خارجہ کی بھارت پاکستان مخالف تنظیموں کو فنڈنگ کا انکشاف تشویش ناک جب کہ سوئس اسکینڈل لائق توجہ ہے، ایوان بالا نے پاکستان کی نشاندہی کے باوجود سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے خلاف بینرز لگنے کے خلاف کسی قسم کا ایکشن نہ لینے پر سینیٹ میں پاک سوئس فرینڈ شپ گروپ کی سرگرمیوں کو معطل کرنیکی منظوری دیدی،اقوام متحدہ کے 51 رکن ملکوں نے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ کیا ہے، یہ تمام ممالک جوہری ہتھیار نہیں رکھتے،اس معاہدہ کے تحت ایسے ہتھیار رکھنا ممنوع ہوگا۔
وزیراعظم کے جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد پاک امریکا سہ جہتی مذاکرات آیندہ ماہ شروع ہونگے جس سے برف مزید پگھلے کی اور خطے میں امن اور افغان صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی کے امکانات بھی روشن ہوسکتے ہیں بشرطیکہ بھارت اس پروسیس میں تعاون اور علاقائی امن واستحکام کے نئے روڈ میپ کی تیاری میں امریکا کے کان نہ بھرے ۔ پاکستان کی افغان صدر اشرف غنی سے بھی یہی توقع ہونی چاہیے کہ خطے میں قیام امن کے پاکستانی خواب کی تعبیر میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں معاونت کرے، پاکستان پر الزام تراشی اور اس کی نیک نیتی کو شک وشبہ کی نذر نہ کرے۔ ہمسائیگی کے تقاضوں کا ادراک بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل چاہتے ہیں لیکن بھارتی مہم جوئی اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے 70 سال میں دنیا کو کئی تنازعات سے بچایا لیکن بدقسمتی سے اقوام متحدہ کے منشور پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور خطے کے زمینی حقائق پر سنجیدہ اور مدلل تقریر کی، انھوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی ظلم و جبر، مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوجیوں کو تعیناتی، کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچلنے اور پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا واشگاف اعلان کیا، روہنگیا میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ظلم اور زیادتیوں کا حوالہ دیا، وزیراعظم کا فوکس بھارت کی جنگی چالوں، کنٹرول لائن پر دانستہ اشتعال انگیزیوں، سفارت کارانہ مکاریوں اور امریکی افغان پالیسی کی آڑ میں خطے کی بالادستی حاصل کرنے کو بے نقاب کرانا تھا اور انھوں نے عمدہ طریقے سے دنیا کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے غیر معمولی کردار کا مقدمہ پیش کیا۔
وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ کشمیری بھارت سے آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں، بھارت کشمیر میں جنگی جرائم سے جنیوا کنونشن کی قراردادوں کو پامال کر رہا ہے، طالبان، حقانی سمیت دیگر نیٹ ورکس کے محفوظ ٹھکانوں کے امریکی الزام کو بھی انھوں نے اس مضبوط استدلال کے ساتھ رد کیا کہ طالبان کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں نہیں افغانستان میں موجود ہیں جہاںسے اکثر سرحد پار حملے ہوتے ہیں، شاہد خاقان عباسی کی تقریر کا نچوڑ یہ تھا کہ 16 سال سے جاری افغان جنگ کا حل صرف مذاکرات میں ہے، بین الاقوامی طاقتیں افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر مت ڈالیں، پاکستان افغان جنگ کو پاکستانی سرزمین پر لڑنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی پاکستان قربانی کا بکرا بنے گا۔
وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے۔بلاشبہ دنیا کو وزیراعظم عباسی کی معروضات پر توجہ دینی چاہیے، دہشتگردی کی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کے طور پر اقوام متحدہ کے اراکین کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ پاکستان کی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، مسئلہ فلسطین فوری طور پر حل ہو، یہ انتباہ بر وقت ہے کہ یورپ کو ایک نئی سرد جنگ کا سامنا ہے جب کہ سلامتی کونسل کو زیادہ جمہوری بنانے کے لیے پاکستانی وزیراعظم نے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ اب لازم ہے عالمی برادری داعش کی عراق اور شام میں دہشتگردی کو روکے۔ دہشتگردی کے بنیادی اسباب وعلل اور محرکات کا جائزہ لے۔وزیراعظم عباسی نے متعدد ملاقاتوںکے دوران اہم شخصیات سے رابطے کیے، برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں پاکستان کو بہت کچھ سہنا پڑا۔شاہد خاقان امریکی میڈیا نمایندوں سے ملے، ان کے تند وتیز سوالوں کے جواب دیے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں بلکہ کم فاصلے تک مار کرنیوالے جوہری ہتھیار ہیں جو میدان جنگ میں استعمال کے لیے نہیں بنائے گئے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس سے ملاقات میں وزیراعظم نے یو این سیکریٹری جنرل کے سامنے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اٹھایا اور انھیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈوزیئر دیا جب کہ نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کے دوران مختلف سوا لوں کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑی اور خطرناک جنگ اپنے وسائل سے لڑی۔حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم کو داخلی محاذ پر بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں، بلوچستان کی صورتحال کو بگاڑنے میں بھارت لابی فعال ہوگئی ہے، پاکستانی دفتر خارجہ کی بھارت پاکستان مخالف تنظیموں کو فنڈنگ کا انکشاف تشویش ناک جب کہ سوئس اسکینڈل لائق توجہ ہے، ایوان بالا نے پاکستان کی نشاندہی کے باوجود سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کے خلاف بینرز لگنے کے خلاف کسی قسم کا ایکشن نہ لینے پر سینیٹ میں پاک سوئس فرینڈ شپ گروپ کی سرگرمیوں کو معطل کرنیکی منظوری دیدی،اقوام متحدہ کے 51 رکن ملکوں نے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ کیا ہے، یہ تمام ممالک جوہری ہتھیار نہیں رکھتے،اس معاہدہ کے تحت ایسے ہتھیار رکھنا ممنوع ہوگا۔
وزیراعظم کے جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد پاک امریکا سہ جہتی مذاکرات آیندہ ماہ شروع ہونگے جس سے برف مزید پگھلے کی اور خطے میں امن اور افغان صورتحال میں ڈرامائی تبدیلی کے امکانات بھی روشن ہوسکتے ہیں بشرطیکہ بھارت اس پروسیس میں تعاون اور علاقائی امن واستحکام کے نئے روڈ میپ کی تیاری میں امریکا کے کان نہ بھرے ۔ پاکستان کی افغان صدر اشرف غنی سے بھی یہی توقع ہونی چاہیے کہ خطے میں قیام امن کے پاکستانی خواب کی تعبیر میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں معاونت کرے، پاکستان پر الزام تراشی اور اس کی نیک نیتی کو شک وشبہ کی نذر نہ کرے۔ ہمسائیگی کے تقاضوں کا ادراک بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔