بینظیر بھٹو قتل کیس شفاف تحقیقات کی ضرورت

عوام کو ہمیشہ یہی تاثر ملا جیسے بڑی شخصیات کے قاتلوں کو چھپایا جارہا ہو

عوام کو ہمیشہ یہی تاثر ملا جیسے بڑی شخصیات کے قاتلوں کو چھپایا جارہا ہو،فوٹو: فائل

بینظیر بھٹو قتل کیس کے تناظر میں سابق صدر پرویز مشرف کے ویڈیو بیان اور آصف زرداری کے الزامات نے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے کہ یہاں بڑی شخصیات کے قتل کی تحقیقات نہ تو کبھی شفاف انداز سے کی گئیں اور نہ ہی تحقیقاتی کمیشن رپورٹس کو عوام کے سامنے لایا گیا، عوام کو ہمیشہ یہی تاثر ملا جیسے دیدہ و دانستہ بڑی شخصیات کے قاتلوں کو چھپایا جارہا ہو یا تحقیقات منظر عام پر لانے سے گریز برتا جارہا ہو۔ شہید ملت خان لیاقت علی خان کے قتل سے لے کر دختر مشرق بینظیر بھٹو کے قتل تک یہی طرز عمل اپنایا گیا، جس نے عوام کو مضطرب کیے رکھا۔ لیکن اب اس روایت کا خاتمہ ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔


کیونکہ راولپنڈی میں انسداد دہشتگردی عدالت کے بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ سنانے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے بعد سابق صدر آصف زرداری اور پرویز مشرف کے درمیان جو الزامات در الزامات کی جنگ شروع ہوئی ہے اس نے ملکی سیاست میں ایک ہلچل پیدا کردی ہے۔ سیاست کے دونوں منجھے ہوئے کردار اس بات سے بے بہرہ نہیں ہوسکتے کہ ان الزامات کے مضمرات کیا ہوسکتے ہیں۔ بلاشبہ زرداری اور پرویز مشرف ایک دوسرے کو واقعہ کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں لیکن دونوں شخصیات کی جانب سے جو بیانات دیے جا رہے ہیں ان سے مکمل صرف نظر نہیں کیا جانا چاہیے۔

کیونکہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ پس پردہ کون کون سے کردار سرگرم عمل رہے ہیں، بینظیر بھٹو کے قتل میں طالبان کے ملوث ہونے کے واضح امکانات سامنے آئے ہیں، سازش کی کڑیاں بھی ملتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، لیکن بیت اﷲ محسود سے کس کے روابط تھے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ صائب ہوتا کہ پرویز مشرف نے اپنے حالیہ وڈیو پیغام میں جو الزامات عائد کیے ہیں، انھیں عدالت کے سامنے بیان کیا جاتا، کیونکہ بہرحال یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس میں بیان بازی سے زیادہ عدالتی فیصلے کی اہمیت ہے، فیصلہ عدالت کو کرنا ہے اس لیے راست اقدام تو یہی ہوگا کہ پرویز مشرف ملک میں آکر عدالتوں کا سامنا کریں اور اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کریں۔ تمام فریقین کی موجودگی میں جب شفاف تحقیقات ہوں گی تو چھپے ہوئے کردار نمایاں ہوں گے۔ صائب ہوگا کہ بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات شفاف طریقے سے کروائی جائیں اور رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
Load Next Story