لاپتہ افراد
سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی جدوجہد میں بیگم آمنہ کی قیادت میں کمیٹی خاصی متحرک رہی
tauceeph@gmail.com
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد انکشاف کیا کہ ان کے کئی حامیوں کو نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اﷲ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہا کہ حلقہ NA-120 کی حدود میں آنے والے مقامی بلدیاتی یونینوں کے کئی چیئرمین انتخاب سے ایک دن قبل لاپتہ ہوگئے۔ لاہور کے مسلم لیگ کے رہنماؤں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے 60 کارکنوں کو اہلکار رات گئے، ان کے گھروں سے سیاہ شیشوں والی ڈبل کیبن گاڑی میں سوار مسلح افراد آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر لے گئے۔ مقامی پولیس افسروں کا کہنا تھا کہ بعض لاپتہ ہونے والے افراد صبح اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔
ادھر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم انکوائری کمیشن کی اگست کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 1372 ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کا قائم کردہ انکوائری کمیشن جسٹس (ریٹائر) جاوید اقبال، جسٹس غوث محمد اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس محمد شریف پر مشتمل ہے جس کی کوششوں سے بہت سے افراد بازیاب ہوئے مگر یہ معاملہ بڑھتا چلا جارہا ہے ۔
ملکی اور غیر ملکی ذرایع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب تک اس موضوع پر شایع ہونے والی خبروں اور آرٹیکلز کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد میں سب سے پہلے مری قبیلے کے لوگ شامل ہوئے، القاعدہ اور طالبان کی تنظیموں سے متعلق افراد کے اچانک غائب ہوئے اور کالعدم مذہبی تنظیموں کے کارکن زد میں آئے۔ سابق صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی اور اسلام آباد اور کراچی میں حملے ہوئے تو افواج سے وابستہ اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی عرض داشتوں کی مختلف ہائی کورٹوں میں بھرمار ہوئی۔
بلوچستان میں سردار اکبر بگٹی کے قتل کے بعد دیگر صوبوں سے آ کر برسوں پہلے آباد ہونے والے افراد کی ٹارگٹڈ کلنگ شروع ہوئی۔ جنگجوؤں نے اس لہر میں اساتذہ، وکلاء، صحافیوں، سرکاری ملازمین، خواتین اور حتیٰ کہ حجاموں تک کو نشانہ بنایا۔ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی وفاق اور بلوچستان میں حکومتوں کے قیام کے بعد یہ سلسلہ کسی حد تک رکا مگر پھر اس میں شدت آگئی۔ 2006ء سے ایم کیو ایم کے ان کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے بارے میں خبریں شایع ہوئیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عسکری سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ 2013ء سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی شدید لہر آئی اور بہت سے کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں۔
سندھ میں ایک مخصوص قوم پرست گروپ کے اراکین کے لاپتہ ہونے اور بعض نوجوانوں کی لاشیں ملنے کی خبریں شایع ہوئیں۔ سابق صدر زرداری کے بعض قریبی معاونین لاپتہ ہوئے۔ ان میں سے دو تو کچھ عرصے کے بعد اپنے گھروں کو پہنچ گئے اور دو کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بازیاب کیا گیا۔ گزشتہ سال سوشل میڈیا پر بلاگ لکھنے والے بعض سوشل ایکٹوسٹ اور استاد لاپتہ ہوگئے۔ یہ لوگ کچھ عرصے بعد محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔
ایک دفعہ پھر سندھ بھر میں جئے سندھ تحریک کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا ذکر ہونے لگا۔ ان افراد کی بازیابی کے لیے قائم ہونے والی کمیٹی کے سربراہ پنہور ساریو اچانک لاپتہ ہوگئے۔ اندرون سندھ مختلف شہروں سے غائب ہونے والے کارکن جب واپس اپنے گھروں کوپہنچے تو انھوں نے پریس کانفرنس میں قو م پرست تحریک سے سندھ کو ہونے والے نقصان کی تفصیلات بیان کیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے ملک گیر مقاصد کے لیے سیاست کرنے کا اعلان کیا۔ کچھ نے بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر عملی سیاست سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2006ء میں اسلام آباد میں گمشدہ افراد کی بازیابی کی کوششوں کے لیے بیگم آمنہ کی قیادت میں ایک کمیٹی متحرک تھی۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی جدوجہد میں بیگم آمنہ کی قیادت میں کمیٹی خاصی متحرک رہی۔ جسٹس افتخار چوہدری نے ازخود نوٹس کے طریقہ کار کے تحت لاپتہ ہونے والے کافی افراد بازیاب ہوئے تھے۔
جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں انکوائری کمیشن قائم کیا گیا تھا تاکہ یہ معاملہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے۔ بیگم آمنہ کی قیادت میں لاپتہ افراد کی بازیابی کی کمیٹی 2013ء تک خاصی فعال رہی۔ 2013ء میں مسلم لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد منظر نامہ تبدیل ہوا ۔اب سپریم کورٹ میں بھی ان افراد کے مقدمات کی تاریخیں طویل ہوگئیں۔ جب سندھ میں قانون نافذ کرنے والی ایک وفاقی ایجنسی نے سابق صدر آصف زرداری کے قریبی مشیر ڈاکٹر عاصم اور کئی افسروں کو اٹھایا اور ان میں سے بعض کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلا تو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں زوردار جھڑپیں ہوئیں۔ چوہدری نے اس صورتحال کی ذمے داری پیپلز پارٹی کی حکومت کی کرپشن پر ڈالی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے وزیر داخلہ پر سیاسی کارکنوں کے اغواء کے الزامات لگائے۔ فریقین نے ان کارکنوں کو اغواء کرنے والے افراد کے بارے میں ایک دوسرے پر الزاما ت لگائے مگر اصلی حقائق کسی نے بھی ظاہر نہ کیے۔
جب میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تو لاپتہ افراد کا معاملہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر موجود تھا۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ایک وفد پاکستان آیا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس وفد کو اہمیت نہیں دی تھی مگر اس مشن کے اراکین نے اسلام آباد، پشاور،کوئٹہ، لاہور اورکراچی میں لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین، انسانی حقوق کے مقدمات کا دفاع کرنے والے وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی قومی تنظیموں کے کارکنوں کے انٹرویو کیے تھے اور اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو دی تھی، یوں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس رپورٹ کو شامل کیا گیا تھا ۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے کو اجاگرکرنے کے لیے ایک سابق سیاسی کارکن ماما قدیر نے (جس کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش کچھ عرصے پہلے ملی تھی) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا تھا۔
اس مارچ کی خبریں ملکی اور بین الاقوامی میڈیا پر خوب شایع ہوئی تھیں۔ اس وقت میاں نواز شریف اور ان کی زیر نگرانی کام کرنے والے وزارتیں اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر تیار نہیں تھیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے کچھ افغانستان چلے گئے ہیں اور کچھ ملک میں روپوش ہیں، یوں یہ کوئی بہت زیادہ سنجیدہ معاملہ نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میاں نوا زشریف کی حکومت نے اس مسئلے پر کسی قسم کی قانون سازی کا اہمیت کو محسوس نہیں کیا، یوں لاپتہ ہونے والے افراد کا معاملہ خود ان کے گھر تک پہنچ گیا مگر اب بھی وفاق اور پنجاب میں میاں نواز شریف کی نامزد کردہ حکومت ہے۔
ان حکومتوں کی یہ براہِ راست ذمے داری ہے کہ اس انسانی مسئلے کو حل کریں۔ اس صورتحال میں میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو عوام کو مکمل حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر وفاق اور پنجاب کی حکومتیں ان عناصر کا محاسبہ کرسکتی ہیں تو اس انسانی جرم کے ذمے دار کے خلاف انھیں فوری کارروائی کرنی چاہیے، دوسری صورت میں میاں صاحب کے نامزدہ کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔
ادھر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم انکوائری کمیشن کی اگست کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد 1372 ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کا قائم کردہ انکوائری کمیشن جسٹس (ریٹائر) جاوید اقبال، جسٹس غوث محمد اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس محمد شریف پر مشتمل ہے جس کی کوششوں سے بہت سے افراد بازیاب ہوئے مگر یہ معاملہ بڑھتا چلا جارہا ہے ۔
ملکی اور غیر ملکی ذرایع ابلاغ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اب تک اس موضوع پر شایع ہونے والی خبروں اور آرٹیکلز کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد میں سب سے پہلے مری قبیلے کے لوگ شامل ہوئے، القاعدہ اور طالبان کی تنظیموں سے متعلق افراد کے اچانک غائب ہوئے اور کالعدم مذہبی تنظیموں کے کارکن زد میں آئے۔ سابق صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی اور اسلام آباد اور کراچی میں حملے ہوئے تو افواج سے وابستہ اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی عرض داشتوں کی مختلف ہائی کورٹوں میں بھرمار ہوئی۔
بلوچستان میں سردار اکبر بگٹی کے قتل کے بعد دیگر صوبوں سے آ کر برسوں پہلے آباد ہونے والے افراد کی ٹارگٹڈ کلنگ شروع ہوئی۔ جنگجوؤں نے اس لہر میں اساتذہ، وکلاء، صحافیوں، سرکاری ملازمین، خواتین اور حتیٰ کہ حجاموں تک کو نشانہ بنایا۔ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی وفاق اور بلوچستان میں حکومتوں کے قیام کے بعد یہ سلسلہ کسی حد تک رکا مگر پھر اس میں شدت آگئی۔ 2006ء سے ایم کیو ایم کے ان کارکنوں کے لاپتہ ہونے کے بارے میں خبریں شایع ہوئیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عسکری سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ 2013ء سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی شدید لہر آئی اور بہت سے کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگیں۔
سندھ میں ایک مخصوص قوم پرست گروپ کے اراکین کے لاپتہ ہونے اور بعض نوجوانوں کی لاشیں ملنے کی خبریں شایع ہوئیں۔ سابق صدر زرداری کے بعض قریبی معاونین لاپتہ ہوئے۔ ان میں سے دو تو کچھ عرصے کے بعد اپنے گھروں کو پہنچ گئے اور دو کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بازیاب کیا گیا۔ گزشتہ سال سوشل میڈیا پر بلاگ لکھنے والے بعض سوشل ایکٹوسٹ اور استاد لاپتہ ہوگئے۔ یہ لوگ کچھ عرصے بعد محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔
ایک دفعہ پھر سندھ بھر میں جئے سندھ تحریک کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا ذکر ہونے لگا۔ ان افراد کی بازیابی کے لیے قائم ہونے والی کمیٹی کے سربراہ پنہور ساریو اچانک لاپتہ ہوگئے۔ اندرون سندھ مختلف شہروں سے غائب ہونے والے کارکن جب واپس اپنے گھروں کوپہنچے تو انھوں نے پریس کانفرنس میں قو م پرست تحریک سے سندھ کو ہونے والے نقصان کی تفصیلات بیان کیں۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے ملک گیر مقاصد کے لیے سیاست کرنے کا اعلان کیا۔ کچھ نے بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر عملی سیاست سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔ 2006ء میں اسلام آباد میں گمشدہ افراد کی بازیابی کی کوششوں کے لیے بیگم آمنہ کی قیادت میں ایک کمیٹی متحرک تھی۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی جدوجہد میں بیگم آمنہ کی قیادت میں کمیٹی خاصی متحرک رہی۔ جسٹس افتخار چوہدری نے ازخود نوٹس کے طریقہ کار کے تحت لاپتہ ہونے والے کافی افراد بازیاب ہوئے تھے۔
جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں انکوائری کمیشن قائم کیا گیا تھا تاکہ یہ معاملہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے۔ بیگم آمنہ کی قیادت میں لاپتہ افراد کی بازیابی کی کمیٹی 2013ء تک خاصی فعال رہی۔ 2013ء میں مسلم لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد منظر نامہ تبدیل ہوا ۔اب سپریم کورٹ میں بھی ان افراد کے مقدمات کی تاریخیں طویل ہوگئیں۔ جب سندھ میں قانون نافذ کرنے والی ایک وفاقی ایجنسی نے سابق صدر آصف زرداری کے قریبی مشیر ڈاکٹر عاصم اور کئی افسروں کو اٹھایا اور ان میں سے بعض کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلا تو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں زوردار جھڑپیں ہوئیں۔ چوہدری نے اس صورتحال کی ذمے داری پیپلز پارٹی کی حکومت کی کرپشن پر ڈالی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے وزیر داخلہ پر سیاسی کارکنوں کے اغواء کے الزامات لگائے۔ فریقین نے ان کارکنوں کو اغواء کرنے والے افراد کے بارے میں ایک دوسرے پر الزاما ت لگائے مگر اصلی حقائق کسی نے بھی ظاہر نہ کیے۔
جب میاں نواز شریف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تو لاپتہ افراد کا معاملہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر موجود تھا۔ پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ایک وفد پاکستان آیا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس وفد کو اہمیت نہیں دی تھی مگر اس مشن کے اراکین نے اسلام آباد، پشاور،کوئٹہ، لاہور اورکراچی میں لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین، انسانی حقوق کے مقدمات کا دفاع کرنے والے وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی قومی تنظیموں کے کارکنوں کے انٹرویو کیے تھے اور اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو دی تھی، یوں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس رپورٹ کو شامل کیا گیا تھا ۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے کو اجاگرکرنے کے لیے ایک سابق سیاسی کارکن ماما قدیر نے (جس کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش کچھ عرصے پہلے ملی تھی) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک پیدل مارچ کیا تھا۔
اس مارچ کی خبریں ملکی اور بین الاقوامی میڈیا پر خوب شایع ہوئی تھیں۔ اس وقت میاں نواز شریف اور ان کی زیر نگرانی کام کرنے والے وزارتیں اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر تیار نہیں تھیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف تھا کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے کچھ افغانستان چلے گئے ہیں اور کچھ ملک میں روپوش ہیں، یوں یہ کوئی بہت زیادہ سنجیدہ معاملہ نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میاں نوا زشریف کی حکومت نے اس مسئلے پر کسی قسم کی قانون سازی کا اہمیت کو محسوس نہیں کیا، یوں لاپتہ ہونے والے افراد کا معاملہ خود ان کے گھر تک پہنچ گیا مگر اب بھی وفاق اور پنجاب میں میاں نواز شریف کی نامزد کردہ حکومت ہے۔
ان حکومتوں کی یہ براہِ راست ذمے داری ہے کہ اس انسانی مسئلے کو حل کریں۔ اس صورتحال میں میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو عوام کو مکمل حقائق سے آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر وفاق اور پنجاب کی حکومتیں ان عناصر کا محاسبہ کرسکتی ہیں تو اس انسانی جرم کے ذمے دار کے خلاف انھیں فوری کارروائی کرنی چاہیے، دوسری صورت میں میاں صاحب کے نامزدہ کردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔