کسٹمزانٹیلی جنس کی کارروائیبھارتی اسمگلڈ کپڑا فروخت کرنیکی کوشش ناکام
ڈائریکٹوریٹ کوخفیہ نیٹ ورک سے اطلاع ملی تھی،ملزم جعلی گڈزڈیکلریشنزظاہرکرکے اپنے جرم چھپاتے تھے
لان فیبرک،دوپٹے اورمہنگے ترین ایمبرائیڈری ویمن ڈریسزکی تیاری میں وسیع پیمانے پر استعمال کیاجاتاہے،ذرائع فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی نے مقامی مارکیٹوں میں بھاری مقدار میں بھارتی اسمگل شدہ کپڑے کی فروخت کی کوشش ناکام بناتے ہوئے غیرملکی کپڑے کی 1150گانٹھیں ضبط کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ذرائع نے''ایکسپریس'' کو بتایاکہ ڈائریکٹرجنرل شوکت علی کوخفیہ نیٹ ورک سے یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ملک میں وسیع پیمانے پر ممنوعہ بھارتی کپڑے کی منظم اسمگلنگ کی جارہی ہے اوراسمگلروں کا منظم گروہ ممکنہ طورپرپکڑے جانے کی صورت میں جعلی گڈزڈیکلریشنزظاہرکرکے اپنے جرم کو چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل کے دفتر سے ڈائریکٹر کراچی ثمینہ تسلیم زہرہ اورڈپٹی ڈائریکٹرصنم قریشی کو بھارت سمیت دیگرممالک سے اسمگل ہونیوالے گرے کلاتھ کیخلاف کریک ڈائون کے احکامات جاری کیے گئے۔
جس پر ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس کراچی کی جانب سے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جنہوں نے سائیٹ شیرشاہ کے خفیہ گودام پر چھاپہ مار کارروائی کی تو انکشاف ہوا کہ مذکورہ گودام میں فیض محمد، محب اللہ اور جمشید کے نام سے اسمگلڈبھارتی کپڑے کے1150 گانٹھیں موجود ہیں جن کی مالیت 3 کروڑ سے زائد ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ مارٹیم کی کارروائی کے بعد فیض محمد نامی شخص نے ڈائریکٹوریٹ کے دفتر میں آکرضبط شدہ کپڑے کی486 گانٹھوں کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے عدنان ٹیکسٹائل اور ملٹی ٹیکسٹائل ملزکے نام سے مذکورہ کپڑا درآمدکرنے کی گڈزڈیکلریشن ظاہر کی تاہم محکمے نے فیض محمد کی فراہم کردہ درآمدی دستاویزات کی جب مذکورہ ٹیکسٹائل ملوں ودیگر ذرائع سے تصدیق کیلیے جانچ پڑتال کی توفراہم کردہ گڈزڈیکلریشنز جعلی ثابت ہوئیں۔
جس کے بعد فیض محمد کو باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم فیض محمد نے ابتدائی تحقیقات کے دوران انکشاف کیا کہ ایک شخص نے دبئی سے486 کپڑوں کی گانٹھیں پاکستان پہنچانے تک 56 لاکھ80 ہزار روپے وصول کیے تھے اور بعد ازاں اسمگلنگ یہ کھیپ کراچی پہنچائی گئیں۔ انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 30 سنگل پولیسٹر مونوفلیمنٹ فیبرک کی مینوفیکچرنگ ہوتی ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی ویونگ انتہائی مشکل اورپیداواری لاگت اسمگل شدہ گرے کلاتھ سے40 تا50 سے زائد ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لان فیبرک، دوپٹے اورمہنگے ترین ایمبرائیڈری ویمن ڈریسزکی تیاری میں مذکورہ اسمگل شدہ کپڑے کا وسیع پیمانے پر استعمال ہورہا ہے۔ اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی کریک ڈائون خوش آئند اقدام ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ مخصوص ٹیم اس ضمن میں تحقیقاتی عمل کوتوسیع دیتے ہوئے بھارتی کپڑے کی اسمگلنگ میں ملوث منظم گروہوں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی وضح کرلی گئی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی نے مقامی مارکیٹوں میں بھاری مقدار میں بھارتی اسمگل شدہ کپڑے کی فروخت کی کوشش ناکام بناتے ہوئے غیرملکی کپڑے کی 1150گانٹھیں ضبط کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ذرائع نے''ایکسپریس'' کو بتایاکہ ڈائریکٹرجنرل شوکت علی کوخفیہ نیٹ ورک سے یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ملک میں وسیع پیمانے پر ممنوعہ بھارتی کپڑے کی منظم اسمگلنگ کی جارہی ہے اوراسمگلروں کا منظم گروہ ممکنہ طورپرپکڑے جانے کی صورت میں جعلی گڈزڈیکلریشنزظاہرکرکے اپنے جرم کو چھپانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل کے دفتر سے ڈائریکٹر کراچی ثمینہ تسلیم زہرہ اورڈپٹی ڈائریکٹرصنم قریشی کو بھارت سمیت دیگرممالک سے اسمگل ہونیوالے گرے کلاتھ کیخلاف کریک ڈائون کے احکامات جاری کیے گئے۔
جس پر ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس کراچی کی جانب سے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جنہوں نے سائیٹ شیرشاہ کے خفیہ گودام پر چھاپہ مار کارروائی کی تو انکشاف ہوا کہ مذکورہ گودام میں فیض محمد، محب اللہ اور جمشید کے نام سے اسمگلڈبھارتی کپڑے کے1150 گانٹھیں موجود ہیں جن کی مالیت 3 کروڑ سے زائد ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کی چھاپہ مارٹیم کی کارروائی کے بعد فیض محمد نامی شخص نے ڈائریکٹوریٹ کے دفتر میں آکرضبط شدہ کپڑے کی486 گانٹھوں کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے عدنان ٹیکسٹائل اور ملٹی ٹیکسٹائل ملزکے نام سے مذکورہ کپڑا درآمدکرنے کی گڈزڈیکلریشن ظاہر کی تاہم محکمے نے فیض محمد کی فراہم کردہ درآمدی دستاویزات کی جب مذکورہ ٹیکسٹائل ملوں ودیگر ذرائع سے تصدیق کیلیے جانچ پڑتال کی توفراہم کردہ گڈزڈیکلریشنز جعلی ثابت ہوئیں۔
جس کے بعد فیض محمد کو باقاعدہ گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ملزم فیض محمد نے ابتدائی تحقیقات کے دوران انکشاف کیا کہ ایک شخص نے دبئی سے486 کپڑوں کی گانٹھیں پاکستان پہنچانے تک 56 لاکھ80 ہزار روپے وصول کیے تھے اور بعد ازاں اسمگلنگ یہ کھیپ کراچی پہنچائی گئیں۔ انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 30 سنگل پولیسٹر مونوفلیمنٹ فیبرک کی مینوفیکچرنگ ہوتی ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی ویونگ انتہائی مشکل اورپیداواری لاگت اسمگل شدہ گرے کلاتھ سے40 تا50 سے زائد ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لان فیبرک، دوپٹے اورمہنگے ترین ایمبرائیڈری ویمن ڈریسزکی تیاری میں مذکورہ اسمگل شدہ کپڑے کا وسیع پیمانے پر استعمال ہورہا ہے۔ اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی کریک ڈائون خوش آئند اقدام ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ مخصوص ٹیم اس ضمن میں تحقیقاتی عمل کوتوسیع دیتے ہوئے بھارتی کپڑے کی اسمگلنگ میں ملوث منظم گروہوں کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی وضح کرلی گئی ہے۔