50 جعلی فرمز کے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کرانے کا انکشاف

ٹیکس حکام کی ملی بھگت، کمپنیاں اربوں روپے ٹیکس چوری وجعلی ریفنڈز میں ملوث

محکمہ انٹیلی جنس نے فہرست تیارکرلی، آئندہ ہفتے کارروائی شروع کی جائیگی، ذرائع فوٹو: فائل

ملک بھر میں قائم 50 سے زائد جعلی ایکسپورٹ کمپنیوں کے ٹیکس حکام کی ملی بھگت سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے جو اربوں روپے کی ٹیکس چوری اور جعلی ریفنڈز اور جعلی و بوگس انوائسز کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ماتحت ادارے ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹٰ گیشن نے جعلی ایکسپورٹ کمپنیوں کی فہرست تیار کرلی ہے جن کے خلاف آئندہ ہفتے کارروائی شروع کی جائیگی۔ ایف بی آر ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹریٹ انٹیلی جنس اینڈ انویسٹٰ گیشن ان لینڈ ریونیو نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صنعت کاروں اور مینوفیکچررز نے جعلی انوائسز اور جعلی ریفنڈز، غلط ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کلیم کرنے اور زیرو ریٹنگ کی سہولت کے غلط استعمال کے لیے جعلی ایکسپورٹ کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں کیونکہ زیرو ریٹنگ کی سہولت صرف رجسٹرڈ ایکسپورٹ اورینٹڈ یونٹ کی تیار کردہ اشیا کی مقامی مارکیٹ میں رجسٹرڈ لوگوں اور کمپنیوں کو فروخت پر حاصل ہے ورنہ فروخت پر 5 فیصد ٹیکس کٹوتی کر کے ایف بی آر کو جمع کرانا ہوتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ رجسٹرڈ جعلی کمپنیوں کو زیرو ریٹنگ کی سہولت حاصل کرنے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے، رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی طرف سے اصل میں ان رجسٹرڈ لوگوں اور کمپنیوں کو اشیا فروخت کی جاتی ہیں مگر کاغذوں میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ اشیا رجسٹرڈ کمپنیوں کو فروخت کی جارہی ہیں۔




ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹٰ گیشن ان لینڈ ریونیو نے جو جعلی کمپنیاں پکڑی ہیں ان میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اصل میں ان کا وجود نہیں ہے، یہ ٹیکس چوروں نے ایف بی آر کے ٹیکس حکام کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کرنے کیلیے قائم کررکھی ہیں، اس اسکینڈل میں نہ صرف ٹیکس ملازمین بلکہ بعض افسران بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں کیونکہ ان جعلی کمپنیوں کی رجسٹریشن ٹیکس افسران اور ملازمین کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ اس اسکینڈل میں ملوث ٹیکس افسران و ملازمین کا تعین کرنے کیلیے بھی انکوائری جاری ہے اور توقع ہے کہ اسکینڈل میں ملوث ٹیکس افسران و ملازمین کا سراغ لگا کر انکی فہرست بھی ایف بی آر کو بھجوائی جائے گی۔
Load Next Story