جنرل ٹائر کے اعلیٰ معیاری موٹر سائیکل ٹائروٹیوب متعارف
جی ٹی نے ٹائروٹیوب کی تیاری اور استعداد ومعیار بہتری کیلیے 50 کروڑ کا سرمایہ لگایا۔
روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، چیف ایگزیکٹو شاہد حسین اور علی قلی کی پریس کانفرنس۔ فوٹو : فائل
جنرل ٹائر نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہوئے موٹر سائیکل ٹائر و ٹیوب کی تیاری اور پلانٹ کی استعداد اور معیار میں بہتری کے لیے 50 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے، جنرل ٹائر کی یہ سرمایہ کاری ملکی مارکیٹ پر اعتماد کا اظہار ہے جس سے معاشی سست روی کے باوجود مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار جنرل ٹائر کے چیف ایگزیکٹو شاہد حسین نے جنرل ٹائر کے تیار کردہ موٹر سائیکل ٹائر و ٹیوب کے افتتاحی تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس میں کیا۔ جنرل ٹائر کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) علی قلی خان خٹک نے کہا کہ اگر جنرل ٹائر ملک میں ٹائر نہ بنا رہی ہوتی تو حکومت کو اتنی تعداد میں ٹائروں کی درآمد پر سالانہ 20 کروڑ ڈالر خرچ کرنے پڑتے جبکہ دوسری طرف درآمد کنندہ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے جس سے ہماری معیشت بری طرح متاثر ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ٹائر مینوفیکچرنگ ایک بڑی لاگت اور محنت طلب کام ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کی مسلسل توسیع کیلیے بڑے حجم میں فنڈز درکار ہوتے ہیں، غیر مسابقانہ ماحول کی وجہ سے یہ ہمارے لیے نہایت مشکل ہوگیا ہے کہ صرف 2 فیصد سے 2.5 فیصد کے انتہائی کم منافع پر مینوفیکچرنگ میں توسیع کی جائے، امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے ہمارا ملک اس وقت مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، ملک سے صنعتیں دیگر ملکوں میں منتقل کی جارہی ہیں، اس کے برعکس ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس رجحان کے برخلاف عمل کریں گے اور جدید خطوط پر موٹر سائیکل ٹائر اور ٹیوب مینوفیکچرنگ پلانٹ کیلیے بھاری سرمایہ کاری کی۔
اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹروسی ای او شاہد حسین نے کہا کہ جنرل ٹائر نے حال ہی میں رکشا ٹائر بھی متعارف کرائے تھے جو رکشہ ڈرائیوروں میں نہایت مقبول ہیں، ہم نہایت پر اعتماد ہیں کہ اعلیٰ معیاری 6 پلائی والے موٹر سائیکل ٹائر موٹر سائیکل چلانے والوں کی توقعات پر پورا اتریں گے، ہم نے اس مرحلہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، پہلے مرحلے میں ہم موجودہ موٹر سائیکل ریپلیسمنٹ مارکیٹ میں جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں ہم بااعتماد سپلائرز بنانے کیلیے چوٹی کے خاص اسمبلی پلانٹس سے رجوع کریں گے۔
اس موقع پر کانٹی نیٹنل اے جی' کے نمائندے ڈاکٹر ولی فلیم نے بھی خطاب کیااور کہا کہ کانٹی نینٹل اے جی کا جنرل ٹائر کے ساتھ طویل المدت اشتراک ہے اور جی ٹی کی سپورٹ اسی طرح جاری رہے گی۔ جنرل ٹائر کے نصیر کمال کے مطابق جنرل ٹائر پاکستان میں موٹرسائیکلوں کے لیے ٹیوب لیس ٹائر بھی تیار کرسکتی ہے تاہم اس کے لیے موٹرسائیکلوں میں روایتی رم کے بجائے خصوصی رم نصب کرنا ہوں گے، پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں چل رہی ہیں جس میں سے 60 فیصد موٹرسائیکلوں کو ہرسال ٹائر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار جنرل ٹائر کے چیف ایگزیکٹو شاہد حسین نے جنرل ٹائر کے تیار کردہ موٹر سائیکل ٹائر و ٹیوب کے افتتاحی تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس میں کیا۔ جنرل ٹائر کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) علی قلی خان خٹک نے کہا کہ اگر جنرل ٹائر ملک میں ٹائر نہ بنا رہی ہوتی تو حکومت کو اتنی تعداد میں ٹائروں کی درآمد پر سالانہ 20 کروڑ ڈالر خرچ کرنے پڑتے جبکہ دوسری طرف درآمد کنندہ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے جس سے ہماری معیشت بری طرح متاثر ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ٹائر مینوفیکچرنگ ایک بڑی لاگت اور محنت طلب کام ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کی مسلسل توسیع کیلیے بڑے حجم میں فنڈز درکار ہوتے ہیں، غیر مسابقانہ ماحول کی وجہ سے یہ ہمارے لیے نہایت مشکل ہوگیا ہے کہ صرف 2 فیصد سے 2.5 فیصد کے انتہائی کم منافع پر مینوفیکچرنگ میں توسیع کی جائے، امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے ہمارا ملک اس وقت مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، ملک سے صنعتیں دیگر ملکوں میں منتقل کی جارہی ہیں، اس کے برعکس ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس رجحان کے برخلاف عمل کریں گے اور جدید خطوط پر موٹر سائیکل ٹائر اور ٹیوب مینوفیکچرنگ پلانٹ کیلیے بھاری سرمایہ کاری کی۔
اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹروسی ای او شاہد حسین نے کہا کہ جنرل ٹائر نے حال ہی میں رکشا ٹائر بھی متعارف کرائے تھے جو رکشہ ڈرائیوروں میں نہایت مقبول ہیں، ہم نہایت پر اعتماد ہیں کہ اعلیٰ معیاری 6 پلائی والے موٹر سائیکل ٹائر موٹر سائیکل چلانے والوں کی توقعات پر پورا اتریں گے، ہم نے اس مرحلہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، پہلے مرحلے میں ہم موجودہ موٹر سائیکل ریپلیسمنٹ مارکیٹ میں جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں ہم بااعتماد سپلائرز بنانے کیلیے چوٹی کے خاص اسمبلی پلانٹس سے رجوع کریں گے۔
اس موقع پر کانٹی نیٹنل اے جی' کے نمائندے ڈاکٹر ولی فلیم نے بھی خطاب کیااور کہا کہ کانٹی نینٹل اے جی کا جنرل ٹائر کے ساتھ طویل المدت اشتراک ہے اور جی ٹی کی سپورٹ اسی طرح جاری رہے گی۔ جنرل ٹائر کے نصیر کمال کے مطابق جنرل ٹائر پاکستان میں موٹرسائیکلوں کے لیے ٹیوب لیس ٹائر بھی تیار کرسکتی ہے تاہم اس کے لیے موٹرسائیکلوں میں روایتی رم کے بجائے خصوصی رم نصب کرنا ہوں گے، پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں چل رہی ہیں جس میں سے 60 فیصد موٹرسائیکلوں کو ہرسال ٹائر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔