سندھ ریونیو بورڈ غیر ضروری منصوبے پر30 کروڑ خرچ کرنے کا فیصلہ
ڈیٹا سینٹرموجود ہونے کے باوجود نیا مرکز بنایا جارہا ہے، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ایک کمپنی کو ٹھیکہ بھی دیدیا گیا
بورڈ وپروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی سے منظوری نہیں لی گئی، ذرائع، نئے ڈیٹا سینٹر کی آڑ میں بھاری رقم ٹھکانے لگائے جانے کا خدشہ۔ فوٹو : فائل
سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی ) کی جانب سے پیشہ ورانہ خدمات پرسیلزٹیکس کی کامیاب وصولیوں کے باوجود کرائے کے عمارت میں قائم ایس آربی کے دفترمیںغیرضروری طور پرایک اورڈیٹا سینٹرقائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
جس پرقومی خزانے سے30 کروڑ روپے کے اخراجات کیے جائیں گے، قانونی تقاضے پورے کیے بغیربھاری مالیت سے اس نئے ڈیٹا سینٹرکے قیام پرشکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایس آربی کے دفتر میں پہلے ہی ایک ڈیٹا سینٹرقائم ہے اور ادارہ نے اپنی ضروریات کے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کے ماتحت ادارے پاکستان ریوینو آٹومیشن لمیٹڈ کی خدمات بھی حاصل کی ہوئی ہیں جسے ایس آربی کی جانب سے سالانہ5 کروڑ روپے فیس کی صورت میں ادائیگی کی جاتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈیٹا کی تمام ضروریات پوری ہونے کے باوجود ایس آربی کے بعض اعلیٰ حکام ادارے کے بورڈ اور پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیر خطیر مالیت سے مذکورہ نئے ڈیٹا سینٹرکی تعمیرپر بضد ہے جس سے ڈیٹا سینٹر ایک معمہ بن گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یکطرفہ طور پراس نئے ڈیٹا قائم کرنے کے فیصلے سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ بعض حکام محض ایک بڑی رقم کو ٹھکانے لگانے کے لیے اس سینٹر کوقائم کرنے کے لیے بضد ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ ریونیو بورڈ میں پہلے ہی ایک ڈیٹا سینٹر کرائے کی عمارت کی چھٹی منزل پر قائم ہے جو گزشتہ سال 20 لاکھ روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا تھا اوربعد ازاں اس پرانے سینٹر پرمزید14 لاکھ 9 ہزارروپے کے اخراجات کیے گئے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایس آر بی کوپاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) سے ایف بی آر اور پنجاب ریونیو اتھارٹی سمیت دیگر ضروری ڈیٹا کے حصول کی خدمات حاصل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس نئے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کا باقاعدہ کنٹریکٹ بھی ایک کمپنی کو دے دیا گیا ہے جس نے اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور اس سینٹر کے لیے کمپیوٹرز ،فرنیچر ودیگر ضروری اشیا کی خریداری کے علاوہ تزئین وآرائش پرایک تا ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت آنے کے امکانات ہیں، سندھ ریونیو بورڈ کے بعض حکام بھی اس نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام کی آڑ میں بھاری رقم کو ٹھکانے لگانے کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسی نئے ڈیٹا سینٹر کے نئی آسامیاں بھی نکالی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق سندھ ریونیو بورڈ کے کسی بھی پروجیکٹ کوشروع کرنے سے قبل موجودہ بورڈ ممبران اورپروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے لیکن مذکورہ نئے ڈیٹاسینٹرکے قیام کیلیے ایس آربی کی موجودہ قیادت نے نہ تو موجودہ بورڈ کے اراکین سے منظوری لی ہے اور نہ ہی پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی سے منظوری لینے کی زحمت کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض حکام نے ایس آربی کے چیئرمین کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ خطیر مالیت سے مذکورہ ڈیٹا سینٹر کوکرائے کی عمارت کے بجائے کسی سرکاری عمارت میں قائم کریں جبکہ منصوبے کو قانونی بنانے اورمستقبل میں آڈٹ اعتراضات سے بچنے کیلیے باقاعدہ سمری کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی محکمہ خزانہ اور موجودہ بورڈ اراکین سے منظوری حاصل کریں۔
واضح رہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ ریونیو بورڈکا قیام 2011 میں ہوا جسے صوبے کے شعبہ خدمات پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کی ذمے داری تفویض کی گئی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعدخدمات پرسیلز ٹیکس کی سب سے پہلے وصولیوں کا عمل بھی ایس آربی نے کیا اور اپنے مقررہ ریونیو اہداف پورے کیے جس کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی بھی تاحال حوصلہ افزا ہے۔
تاہم مذکورہ غیرضروری اوراضافی ڈیٹا سینٹرکے قیام اورماضی میں کی گئی بعض دیگر غیر ضروری خریداریوں کے پیش نظر اس بات کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ صوبے کے اس اہم ادارے میں انتظامی اخراجات پر قابو نہ پایا گیا تو دیگر حکومتی اداروں کی طرز پر صوبے کے شعبہ خدمات سے محصولات وصول کرنے والا یہ ادارہ بھی اپنے قیام کے مختصر مدت کے بعد ہی خسارے کا شکار ہو جائے گا۔ 30 کروڑ روپے سے نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام کی منظوری سمیت ادارے کا موقف حاصل کرنے کیلیے''ایکسپریس'' نے سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین شکیب قریشی سے رابطہ کیا توانہوں نے مذکورہ منصوبے سے لاتعلقی اور موقف دیے بغیر موبائل فون بند کردیا۔
جس پرقومی خزانے سے30 کروڑ روپے کے اخراجات کیے جائیں گے، قانونی تقاضے پورے کیے بغیربھاری مالیت سے اس نئے ڈیٹا سینٹرکے قیام پرشکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایس آربی کے دفتر میں پہلے ہی ایک ڈیٹا سینٹرقائم ہے اور ادارہ نے اپنی ضروریات کے ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کے ماتحت ادارے پاکستان ریوینو آٹومیشن لمیٹڈ کی خدمات بھی حاصل کی ہوئی ہیں جسے ایس آربی کی جانب سے سالانہ5 کروڑ روپے فیس کی صورت میں ادائیگی کی جاتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈیٹا کی تمام ضروریات پوری ہونے کے باوجود ایس آربی کے بعض اعلیٰ حکام ادارے کے بورڈ اور پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری کے بغیر خطیر مالیت سے مذکورہ نئے ڈیٹا سینٹرکی تعمیرپر بضد ہے جس سے ڈیٹا سینٹر ایک معمہ بن گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یکطرفہ طور پراس نئے ڈیٹا قائم کرنے کے فیصلے سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ بعض حکام محض ایک بڑی رقم کو ٹھکانے لگانے کے لیے اس سینٹر کوقائم کرنے کے لیے بضد ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سندھ ریونیو بورڈ میں پہلے ہی ایک ڈیٹا سینٹر کرائے کی عمارت کی چھٹی منزل پر قائم ہے جو گزشتہ سال 20 لاکھ روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا تھا اوربعد ازاں اس پرانے سینٹر پرمزید14 لاکھ 9 ہزارروپے کے اخراجات کیے گئے تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایس آر بی کوپاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) سے ایف بی آر اور پنجاب ریونیو اتھارٹی سمیت دیگر ضروری ڈیٹا کے حصول کی خدمات حاصل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس نئے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کا باقاعدہ کنٹریکٹ بھی ایک کمپنی کو دے دیا گیا ہے جس نے اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور اس سینٹر کے لیے کمپیوٹرز ،فرنیچر ودیگر ضروری اشیا کی خریداری کے علاوہ تزئین وآرائش پرایک تا ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت آنے کے امکانات ہیں، سندھ ریونیو بورڈ کے بعض حکام بھی اس نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام کی آڑ میں بھاری رقم کو ٹھکانے لگانے کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسی نئے ڈیٹا سینٹر کے نئی آسامیاں بھی نکالی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق سندھ ریونیو بورڈ کے کسی بھی پروجیکٹ کوشروع کرنے سے قبل موجودہ بورڈ ممبران اورپروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے لیکن مذکورہ نئے ڈیٹاسینٹرکے قیام کیلیے ایس آربی کی موجودہ قیادت نے نہ تو موجودہ بورڈ کے اراکین سے منظوری لی ہے اور نہ ہی پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی سے منظوری لینے کی زحمت کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بعض حکام نے ایس آربی کے چیئرمین کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ خطیر مالیت سے مذکورہ ڈیٹا سینٹر کوکرائے کی عمارت کے بجائے کسی سرکاری عمارت میں قائم کریں جبکہ منصوبے کو قانونی بنانے اورمستقبل میں آڈٹ اعتراضات سے بچنے کیلیے باقاعدہ سمری کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی محکمہ خزانہ اور موجودہ بورڈ اراکین سے منظوری حاصل کریں۔
واضح رہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ ریونیو بورڈکا قیام 2011 میں ہوا جسے صوبے کے شعبہ خدمات پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کی ذمے داری تفویض کی گئی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعدخدمات پرسیلز ٹیکس کی سب سے پہلے وصولیوں کا عمل بھی ایس آربی نے کیا اور اپنے مقررہ ریونیو اہداف پورے کیے جس کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی بھی تاحال حوصلہ افزا ہے۔
تاہم مذکورہ غیرضروری اوراضافی ڈیٹا سینٹرکے قیام اورماضی میں کی گئی بعض دیگر غیر ضروری خریداریوں کے پیش نظر اس بات کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ صوبے کے اس اہم ادارے میں انتظامی اخراجات پر قابو نہ پایا گیا تو دیگر حکومتی اداروں کی طرز پر صوبے کے شعبہ خدمات سے محصولات وصول کرنے والا یہ ادارہ بھی اپنے قیام کے مختصر مدت کے بعد ہی خسارے کا شکار ہو جائے گا۔ 30 کروڑ روپے سے نئے ڈیٹا سینٹر کے قیام کی منظوری سمیت ادارے کا موقف حاصل کرنے کیلیے''ایکسپریس'' نے سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین شکیب قریشی سے رابطہ کیا توانہوں نے مذکورہ منصوبے سے لاتعلقی اور موقف دیے بغیر موبائل فون بند کردیا۔