لاپتہ افراد کیس رینجرز کے سابق افسر کیخلاف کارروائی نہ کرنے پر عدالت برہم

شہریوں کو ہراساں کرنےوالےپولیس افسران کیخلاف کارروائی نہیں کرسکتےتو آئی جی سندھ کے وجود پرسوالیہ نشان اٹھتے ہیں،عدالت.

سابق انسپکٹرشیر افسر کے خلاف کارروائی نہ کرنے پرایس ایچ او لیاقت آبادکو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے، پولیس کاموقف۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے غازی خان ، محمدامین ، شیرافضل اور شیراز خان کی گمشدگی سے متعلق بلن خاتون اور مومل بی بی کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

چیف جسٹس مشیر عالم نے رشوت لینے والے رینجرز کے سابق افسر کے خلاف پولیس کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے آئی جی سندھ کو 12مارچ کوذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے،عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر شہریوںکو ہراساں کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی نہیںکرسکتے تو صوبے میں آئی جی سندھ کے وجود پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں ، عدالت نے آئی جی سندھ کو متنبہ کیا کہ ڈی ایس پی کرائم برانچ جاوید تنولی نے درخواست گزار کو ہراساں کیا تو متعلقہ افسران کارروائی کیلیے تیار رہیں۔

درخواست گزارو کو تحفظ فراہم کیا جائے، پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ رینجرز کے سابق انسپکٹرشیر افسر کے خلاف کارروائی نہ کرنے پرایس ایچ او لیاقت آباد کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے، تفتیشی افسر ڈی ایس پی جاوید تنولی عمرے کی ادائیگی کیلیے سعودی عرب میں ہیں،عدالت کو بتا یا گیا کہ متعدد اضلاع کے ڈی پی اوز کی جانب سے جواب موصول ہوگیا اور انھوں نے مذکورہ لاپتا افراد کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، عدالت نے ڈی ایس پی راجا مشتاق کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایس پی جاوید تنولی کو بھی بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔


 



درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ڈی ایس پی جاوید تنولی کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے اور دھمکی دی گئی ہے اگر انھوں نے شکایت کی تو انہیں بھی غائب کردیا جائے گا ، عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ رینجرزکے سابق انسپکٹر شیرافسرکے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی تفصیلات اور اور جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے، قبل ازیں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ تحقیقات کے دوران رینجرز کے انسپکٹر شیرافسر نے رشوت وصول کرنے کا اعتراف کیا جس پر اسے برطرف کردیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ غازی خان ، محمدامین ، شیرافضل اور شیرازخان کو یکم اگست2010 کو نیوٹائون کے علاقے سے رینجرز کے کرنل کی نگرانی میں انسپکٹر شیر افسر اور ریاض تمان نے حراست میں لیا اوران کی رہائی کیلیے تین لاکھ روپے رشوت طلب کیے ،بعدازاں ایک لاکھ روپے وصول کیے مگر گرفتار شدگان کو رہا نہیں کیا گیا ، عدالت نے سماعت12مارچ تک ملتوی کردی۔
Load Next Story