ادویات کی قیمتوں میں اضافہ

مہنگائی کے باعث بخار، دل، کینسر اور ہیپاٹائٹس کی دوائیں عام صارفین کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔

مہنگائی کے باعث بخار، دل، کینسر اور ہیپاٹائٹس کی دوائیں عام صارفین کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔۔ فوٹو؛ فائل

مہذب معاشروں میں ادویات کو بھی انسان کی انتہائی بنیادی ضرورت قرار دیا جاتا ہے اس لیے اشیائے خورونوش کی طرح دواؤں کی قیمتوں میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے یہاں ان چیزوںکی قیمت سب سے پہلے بڑھائی جاتی ہے جو سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہیں لہذا پاکستان میں آٹا دال اور دودھ دہی کے ساتھ دواؤں کی قیمتیں بھی بڑھا دی جاتی ہیں۔


تازہ اخباری اطلاع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادویات کی قیمتوں میں پندرہ فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جن ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے ان کی تعدادخاصی ہے'اس سے یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ تقریباً تمام ادویات مہنگی ہو گئی ہیں۔ مہنگائی کے باعث بخار، دل، کینسر اور ہیپاٹائٹس کی دوائیں عام صارفین کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ حالیہ اضافہ تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا ہے جب کہ اس کے علاوہ بھی ڈرگسٹ دواؤں کی قیمتوں میں اپنے طور پر اضافے کے لیے ان دواؤں کو مارکیٹ سے غائب کر دیتے ہیں اور مریضوں کے لواحقین انھیں منہ مانگے داموں پر خریدنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

اب حالت یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات نہیں ملتیں' بازار میں ان کی قیمت بہت زیادہ ہے' ارباب اختیار کو اس صورت حال پر غور کرنا چاہیے' پاکستان میں علاج و معالجہ پہلے ہی بہت زیادہ مہنگا ہے' غریب آدمی اگر بیمار ہو جائے تو ڈاکٹروں کی فیس' لیبارٹری ٹیسٹ اور ادویات کی خریداری اس کی قوت خرید سے باہر ہے' ایسی صورت حال میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا زیادتی ہے' حکومت کو چاہیے کہ وہ ادویات پر عائد مختلف قسم کے ٹیکس ختم کر دے یا ان میں کمی کر دے' اس طریقے سے ادویات کی قیمتوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔
Load Next Story