انٹرنیٹ پردہشتگردی کا پھیلاوبڑا خطرہ بن گیا برطانوی اخبار
گرفتار ملزمان انٹرنیٹ کے ذریعے دہشتگردی پر مائل ہوئے اورالقاعدہ سے تربیت حاصل کی.
دھماکوں کے منصوبہ سازوں کو کسی نظریاتی گروپ نے براہ راست بھرتی نہیں کیا، رپورٹ فوٹو: فائل
برطانوی اخبار ڈیلی میل نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو دہشت گردی کے نئے خطرات کا سامنا ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی کا پھیلاو ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دھماکوں کی منصوبہ بندی میں گرفتار ملزمان کو کسی نظریاتی دہشت گرد گروپ کی جانب سے براہ راست بھرتی نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی کی جانب سے مائل ہونے کے بعد پاکستان گئے جہاں انھوں نے آسانی کے ساتھ القاعدہ کے تربیتی کیمپ میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق تینوں دہشت گرد عرفان نصیر، عرفان خالد اور عاشق علی انتقام کے طور پر برطانیہ میں بم دھماکے کرنا چاہتے تھے اس سلسلے میں انھوں نے پاکستان میں القاعدہ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد فنڈ ریزنگ کی اور خودکش بمبار بھرتی کیے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان نے گاڑیاں چوری کرکے پرہجوم جگہوں پر دھماکا خیز مواد سے اڑانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دھماکوں کی منصوبہ بندی میں گرفتار ملزمان کو کسی نظریاتی دہشت گرد گروپ کی جانب سے براہ راست بھرتی نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی کی جانب سے مائل ہونے کے بعد پاکستان گئے جہاں انھوں نے آسانی کے ساتھ القاعدہ کے تربیتی کیمپ میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق تینوں دہشت گرد عرفان نصیر، عرفان خالد اور عاشق علی انتقام کے طور پر برطانیہ میں بم دھماکے کرنا چاہتے تھے اس سلسلے میں انھوں نے پاکستان میں القاعدہ سے تربیت حاصل کرنے کے بعد فنڈ ریزنگ کی اور خودکش بمبار بھرتی کیے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان نے گاڑیاں چوری کرکے پرہجوم جگہوں پر دھماکا خیز مواد سے اڑانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔