سرکاری ملازمین اوراتحادیوں پرحملے جاری رہیں گے افغان طالبان کی دھمکی

2014 میں انخلا کے بعد افغانستان میں 12 ہزار تک اتحادی فوجی تعینات رہ سکتے ہیں، پینٹاگون.

سڑک کنارے نصب بم دھماکے کے نتیجے میں ایک اتحادی فوجی ہلاک ہوگیا، یہ اتحادی فوج کی رواں ماہ پہلی ہلاکت ہے، میڈیا رپورٹس. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

ISLAMABAD:
افغان طالبان نے دھمکی دی ہے کہ افغانستان میں سرکاری ملازمین کو نشانہ بنانے کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔

آن لائن کے مطابق جمعے کو طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے میڈیا کو جاری کی جانے والی ایک ای میل میں ان افغانیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے جو اتحادی افواج کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ افغانستان میں 2014 کے بعد نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد8 ہزار سے 12 ہزار تک اتحادی فوجی تعینات رہ سکتے ہیں، افغانستان میں ایک اتحادی فوجی بھی مارا گیا، امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے ترجمان جارج لٹل نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان فوجیوں میں کتنے امریکی فوجی شامل ہونگے۔




انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے گردش ہونے والی خبروںمیں کوئی صداقت نہیں ہے کہ 2014 میں نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد افغانستان میں 12 ہزار امریکی فوجی تعینات ہونگے، انھوں نے کہا کہ 2014 کے بعد افغانستان میں تعینات ہونیوالے اتحادی فوجی افغان فورسز کو ٹریننگ کے ساتھ ساتھ اسسٹ بھی کریں گی۔ افغانستان میں سڑک کنارے نصب بم دھماکا کے نتیجے میں ایک اتحادی فوجی ہلاک ہوگیا، ذرائع ابلاغ کے مطابق سڑک کنارے نصب دھماکے جنوبی افغانستان میں ہوا ہے، یہ اتحادی فوج کی رواں ماہ ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔
Load Next Story