یہ سازشیں

یہ ساری سازشیں اس وقت تک جاری رہیںگی جب تک عوام میں سیاسی، سماجی اور طبقاتی شعور بیدار نہیں ہوتا

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

پاکستان نے سوئٹزر لینڈ سے آزاد بلوچستان سے متعلق تشہیری مہم روکنے اور بی ایل اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے، دفتر خارجہ نے سوئٹزر لینڈ کے پاکستان میں تعینات سفیر تھامس کولی کو دفتر خارجہ طلب کرکے جنیوا میں ہونے والی پاکستان مخالف تحریک یا اشتہاری مہم پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہاہے کہ پاکستان کے خلاف سوئٹزر لینڈ زمین کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، سوئٹزر لینڈ ایک آزاد اور خود مختار ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے۔ سوئس سفیر کو احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا گیا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر میں پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے سوئس ہم منصب کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں سوئس سرزمین کو بی ایل اے بھارتی گٹھ جوڑ سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

مراسلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں آزاد بلوچستان کے نعرے کی تشہیر پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ ہے کالعدم دہشت گرد تنظیم پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث ہے۔ مراسلے میں آزاد بلوچستان کی تشہیر روکنے اور کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کی تشہیری کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک طویل عرصے سی آزاد بلوچستان، بلوچستان لبریشن آرمی وغیرہ کے نام سے مختلف تنظیمیں کام کررہی ہیں لیکن غالباً یہ پہلا موقع ہے کہ ایک غیر ملک میں آزاد بلوچستان کے حق میں بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلائی جارہی ہے۔ بلاشبہ یہ مہم بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہی کہلائی جائے گی لیکن اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ اس قسم کی بلکہ اس سے زیادہ سنگین وارداتیں ایک عرصے سے پاکستان میں ہورہی ہیں۔

آج کی دنیا میں کئی ملک ایسی ہیں جہاں حکومتوں سے ناراض گروہ آزادی کے نام پر پرتشدد کارروائیاں کررہے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ناگا لینڈ سمیت ماؤ نواز تحریکیں سرگرم عمل ہیں اور پر تشدد کارروائیاں کررہی ہیں، دنیاکے کئی ملکوں میں ایسے گروہ موجود ہیں جو اپنی حکومتوں کی پالیسیوں بلکہ اس کے وجود ہی سے منکر ہیں۔

اس صورتحال کا نتیجہ عموماً بے گناہ عوام کے جانی نقصان کی شکل میں ہی نکلتا ہے۔ اس حوالے سے ہونا تو یہ چاہیے کہ ان ناراض گروہوں سے بامعنی مذاکرت کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ان اسباب کو دور کیا جائے جو اس قسم کے گروہوں کی ناراضی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں قیام پاکستان کے ساتھ ہی کچھ بلوچ حلقوں میں مخالفت کی گہری کھائی موجود رہی ہے اور ان گروہوں کے خلاف جو پہاڑوں پر چڑھ جاتے ہیں، باضابطہ فوجی آپریشن ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ فوجی حکومتوں کے دوران ہی نہیں بلکہ جمہوری حکومتوں کے دوران بھی جاری رہا۔ مرحوم بھٹو کی حکومت کے دوران بھی علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ہوتے رہے۔


شہریوں کی اپنی حکومتوں سے اختلافات دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک قسم ان اختلافات کی ہوتی ہے جو ریاست کے اندر رہتے ہوئے بات چیت سے حل کیے جاسکتے ہیں، دوسری قسم کے اختلافات ایسے ہوتے ہیں جو ریاست کو چیلنج کرتے ہیں اور ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے بلوچستان کے ناراض گروہوں کے اختلافات دوسری کیٹگری میں آتے ہیں اور ناراض گروہ جو نوجوانوں پر مشتمل ہوتے ہیں مذاکرات سے انکاری ہوتے ہیں اور آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں، بلوچستان میں جو مختلف گروہ کام کررہے ہیں وہ آزادی کے نعرے لگارہے ہیں اور اسی حوالے سے سوئٹزر لینڈ میں تشہیری مہم چلائی جارہی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کہلاتی ہے۔

بلوچستان کے سیاسی رہنما جن میں قوم پرست بھی شامل ہیں، پاکستان کے فریم ورک میں رہتے ہوئے اپنے اختلافات حل کرنا چاہتے ہیں اور یہی نہیں وہ بلوچستان کی حکومت میں بھی شامل ہیں جن میں بلوچستان کے معروف رہنما اور دانشور غوث بخش بزنجو کے صاحبزادے حاصل بزنجو بھی شامل ہیں۔ سردار عطا اللہ مینگل سمیت کئی بلوچ رہنما بلوچستان کی حکومتوں میں شامل رہے بلکہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے، مینگل کے صاحبزادے اختر مینگل بھی بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے اور آج بھی وہ بلوچستان کی سیاست میں سرگرم ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ معروف رہنما ریاست کے اندر رہتے ہوئے اپنے اختلافات کو حل کرنے کے قائل ہیں۔

اس خطے کی سب سے بڑی بد قسمتی یہی ہے کہ جنوبی ایشیا کے دو بڑے ملک ہندوستان اور پاکستان روز اول ہی سے متصادم ہیں اور اس حوالے سے تین بڑی جنگیں بھی لڑچکے ہیں اور ان دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کا سب سے بڑا سبب مسئلہ کشمیر ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دونوں ملک بے شمار تاویلات پیش کرتے رہے ہیں لیکن میرے خیال میں اس مسئلے کی جڑ کمزوری اور طاقتوری ہے اگر پاکستان فوجی اور اقتصادی لحاظ سے بھارت کے ہم پلہ ہوتا تو یہ مسئلہ کب کا حل ہوچکا ہوتا۔ لیکن پاکستان کی کمزور فوجی پوزیشن سے یہ مسئلہ 70 سال سے اٹکا ہوا ہے لیکن پاکستان اس حوالے سے طاقتور پوزیشن میں ہے کہ کشمیر کے عوام اس کے ساتھ ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے بھی پاکستان کی اخلاقی حیثیت مضبوط ہے۔

اس تناظر میں بھارت کے لیے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ طاقت کے بل پر کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھے اور بھارت 70 سال سے یہی کررہاہے لیکن وہ اس طویل عرصے میں کشمیری عوام کی حمایت حاصل نہ کرسکا بلکہ اب کشمیر میں آزادی کی تحریک اس قدر پھیل گئی ہے کہ سارا کشمیر اس کی لپیٹ میں آگیا ہے۔

ہم نے یہاں کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال کا ذکر اس لیے کیا کہ ہماری بے حس سیاست میں ایسے ایسے حربے استعمال کیے جاتے ہیں جو اخلاقی طور پر بہت گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کی تحریک پھیل گئی ہے بھارت کے لیے اس کو قابو کرنا نا ممکن ہورہا ہے اور کشمیری عوام کے جانی نقصان سے ساری دنیا میں بھارت کی بدنامی ہورہی ہے۔ کہا جارہاہے کہ بھارت کا حکمران طبقہ اس بد نامی کا توڑ کرنے کے لیے بلوچستان کے ناراض نوجوانوں کو استعمال کر رہا ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں آزاد بلوچستان کی مہم کو بھارت کی ان ہی کوششوں کا حصہ کہا جارہاہے۔ بلوچستان میں ناراض گروہ پاکستان کے خلاف ہمیشہ سرگرم رہے ہیں لیکن بلوچستان میں مقبوضہ کشمیر جیسی صورتحال پیدا نہیں کی جاسکی اور بلوچستان میں بد نظمی کے باوجود وہاں ایک منتخب حکومت کام کررہی ہے۔

بلوچستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس صوبے میں مذہبی انتہا پسند طاقتیں بھی متحرک ہیں اور آئے دن دھماکوں اور خودکش حملوں کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور یہ واقعات بلوچستان کی آزادی کی لڑائی لڑنے والوں کے کھاتوں میں بھی چلے جاتے ہیں۔ بلوچستان کے باغی نوجوانوں کو پاکستان سے جو شکایات ہیں یہ شکایات دوسرے چھوٹے صوبوں کے عوام خصوصاً سندھ کے عوام کو بھی ہیں جس کی بڑی وجہ چاروں صوبوں میں آبادی کا خطرناک عدم توازن ہے لیکن سندھی قوم پرست اس حوالے سے بلوچستان کے باغی عناصر کے نقش قدم پر چلنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ساری شکایات سارے خون خرابے یہ ساری سازشیں اس وقت تک جاری رہیںگی جب تک عوام میں سیاسی، سماجی اور طبقاتی شعور بیدار نہیں ہوتا اور قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندے نہیں آجاتے۔
Load Next Story