ایم کیوایم کومنانے کی کوشش کریں گےقائم علی شاہ

کوئٹہ کے زخمیوںکی عیادت،میڈیا سے گفتگو،سردارعلی گوہرکی وزیراعلیٰ سے ملاقات۔

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سانحہ کوئٹہ کے زخمیوں کی عیادت کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کو منانے کی کوشش کریں گے۔

سندھ کی تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ بالکل غلط نعرہ ہے، کراچی کی جو حیثیت قانون میں پہلے تھی وہ آج بھی ہے، محترمہ بینظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی کے تحت سب کو ساتھ لے کر چلنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ وہ جمعے کی شام آغاخان اسپتال میں سانحہ کوئٹہ کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر کمشنرکراچی سیدہاشم رضازیدی، معاون خصوصی وقارمہدی اور دیگر بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے کمشنرکراچی کو ہدایت کی کہ زیرعلاج زخمی افراد کے ہمرا ہ آنے والے اہل خانہ اور رشتے داروں کے لیے بھی اسپتال کے نزدیک رہائش کاانتظام کریں۔ سیدقائم علی شاہ نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ ایک دردناک واقعہ تھا جو تباہی کا منظر پیش کررہاتھا۔ انھوں نے کہا کہ اس دل خراش واقعے پر جتنا بھی افسوس یا غم کیا جائے، کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں جتنے بھی افراد زخمی یا معذور ہوئے ہیں، حکومت اپنے وسائل سے ان کے علاج کے لیے بھرپور کوششیں کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچھ اخبارات میں میرے بیان کو توڑمروڑ کر شائع کیا گیا کہ ہم مغرور لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم مغرور نہیں بلکہ شہیدمحترمہ بینظیربھٹو کی طرف سے دی گئی مفاہمتی پالیسی اور صدرآصف زرداری کی طرف سے تعاون اور رابطے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔




انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ہماری اتحادی اور دوست جماعت رہی ہے اور کل بھی ان سے بات چیت ہوئی ہے، ہم انھیں منانے کی کوشش کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2012 عوام کے جذبات اور مطالبات کی روشنی میں واپس لیا ہے اور 1979 کے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو بحال کیا ہے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوسکیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے سیاسی پروگرام کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے، کسی مخالف جماعت سے متاثر ہو کر نہیں۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ سندھ کی تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نہ ہی سندھ کو کوئی خطرہ ہے۔

سیدقائم علی شاہ نے کہا کہ غلط اور بے بنیاد باتیں کرنا اور عوام کے جذبات کو بھڑکانا اچھا نہیں ہے جبکہ کراچی کی وہی پرانی حیثیت برقرار ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 1979 کے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کی بحالی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی آبزرویشن بھی ہمارے مدنظر رہی۔ دریںاثنا ضلع گھوٹکی سے پیپلزپارٹی کے رہنما سردارعلی گوہرمہر نے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سکھر کے سابق ناظم سیدناصرشاہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں بالائی سندھ بالخصوص ضلع گھوٹکی میں سیاسی صورت حال، ترقیاتی اسکیموں اور آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔

نان]�������Զ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وزارت خارجہ اس ضمن میں جامع رپورٹ پیش کرے ۔

 
Load Next Story