بڑے اداروں کے ہزاروں ملازمین کا انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سے گریز
پاکستان اسٹیل ملز، کے الیکٹرک، ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی،سول ایوی ایشن اتھارٹی،پی ٹی وی،اسٹیٹ لائف ودیگر کمپنیاں شامل
ایف بی آر گوشوارے بھرانے کیلیے اداروں کے سربراہان سے رجوع کریگا، دستاویز۔ فوٹو : فائل
پاکستان اسٹیل ملز، کے الیکٹرک، ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن سمیت مزید 11 بڑے اداروں کے مجموعی طور پر 47 ہزار 755 افسران و ملازمین کا قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بڑے اداروں کے ملازمین کے نیشنل ٹیکس نمبر اور ان اداروں کے ٹیکس پروفائل سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان 11 بڑے اداروں میں سے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے سب سے زیادہ ملازمین کا تعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے ہے۔
مذکورہ 11بڑے اداروں کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے صرف 15 ہزار 826 ملازمین انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرا رہے ہیں جبکہ 47 ہزار 755 افسران وملازمین قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرا رہے۔
دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے افسران و ملازمین کی تعداد 7 ہزار958 ہے مگر صرف 2ہزار49 ملازمین ٹیکس گوشوارے جمع کرارہے ہیں اور5ہزار909 ریٹرنز فائل نہیں کر رہے، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل 7ہزار918 میں سے صرف 1ہزار181 ملازمین ریٹرن فائل کررہے ہیں جبکہ کے الیکٹرک کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے 7 ہزار816 افسران و ملازمین میں سے 5ہزار 962 انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرارہے۔
علاوہ ازیں سوئی سدرن گیس کمپنی کے6ہزار776 میں سے 2 ہزار 171 ملازمین، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے 5 ہزار418 میں سے صرف 891 ملازمین، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے 4 ہزار685 میں سے صرف 2 ہزار 195 ملازمین، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے 4 ہزار 58 میں سے صرف 775 ملازمین، ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی(میپکو) کے 3 ہزار310 میں سے محض 330 ملازمین، نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن ہیڈکوارٹرز کے 3ہزار57 میں سے 1 ہزار215 ملازمین اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے 3ہزار 193 میں سے صرف 1 ہزار13 ملازمین ٹیکس گوشوارے جمع کرارہے ہیں جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے افسران و ملازمین کی تعداد 9 ہزار392 ہے مگر ان میں سے صرف 2 ہزار152 ملازمین ٹیکس گوشوارے جمع کرارہے ہیں اور باقی 7 ہزار 240 افسران و ملازمین قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرارہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بڑے اداروں کے ملازمین کے نیشنل ٹیکس نمبر اور ان اداروں کے ٹیکس پروفائل سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی جانے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان 11 بڑے اداروں میں سے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے سب سے زیادہ ملازمین کا تعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے ہے۔
مذکورہ 11بڑے اداروں کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے صرف 15 ہزار 826 ملازمین انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرا رہے ہیں جبکہ 47 ہزار 755 افسران وملازمین قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرا رہے۔
دستاویز کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے افسران و ملازمین کی تعداد 7 ہزار958 ہے مگر صرف 2ہزار49 ملازمین ٹیکس گوشوارے جمع کرارہے ہیں اور5ہزار909 ریٹرنز فائل نہیں کر رہے، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کے قابل ٹیکس آمدنی کے حامل 7ہزار918 میں سے صرف 1ہزار181 ملازمین ریٹرن فائل کررہے ہیں جبکہ کے الیکٹرک کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے 7 ہزار816 افسران و ملازمین میں سے 5ہزار 962 انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرارہے۔
علاوہ ازیں سوئی سدرن گیس کمپنی کے6ہزار776 میں سے 2 ہزار 171 ملازمین، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے 5 ہزار418 میں سے صرف 891 ملازمین، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے 4 ہزار685 میں سے صرف 2 ہزار 195 ملازمین، پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے 4 ہزار 58 میں سے صرف 775 ملازمین، ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی(میپکو) کے 3 ہزار310 میں سے محض 330 ملازمین، نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن ہیڈکوارٹرز کے 3ہزار57 میں سے 1 ہزار215 ملازمین اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے 3ہزار 193 میں سے صرف 1 ہزار13 ملازمین ٹیکس گوشوارے جمع کرارہے ہیں جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قابل ٹیکس آمدنی رکھنے والے افسران و ملازمین کی تعداد 9 ہزار392 ہے مگر ان میں سے صرف 2 ہزار152 ملازمین ٹیکس گوشوارے جمع کرارہے ہیں اور باقی 7 ہزار 240 افسران و ملازمین قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرارہے۔