افغانستان کیلیے بھارتی گندم کی پشاور میں ٹرانس لوڈنگ بے نقاب

ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے2010 کے برخلاف ایف بی آرنے من پسند کمپنی کو اجازت دی۔

ترسیل بھی کھلے ٹرکوں میں کی جارہی ہے، گندم کے پاکستان میں ہی استعمال کا خدشہ ہے، ذرائع۔ فوٹو: فائل

بھارت سے افغانستان کیلیے درآمدکی جانیوالی ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم کی پشاور میںٹ رانس لوڈنگ کیلیے ایف بی آر کی جانب سے غیرقانونی طورپر اجازت دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ خط نمبر3(2)/L&P/2011 میں افغانستان کیلیے بھارتی گندم کو طورخم کے بجائے پشاورمیں اتارنے کے احکامات جاری کیے گئے تاہم ایف بی آرنے اپنے مکتوب میں گمراہ کرنے کیلیے بھارتی گندم کو پشاورمیں ٹرانس لوڈکرنے کی ہدایت دی جس سے یہ تاثرپیداہورہاہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے درآمدی کنسائنمنٹس طورخم سرحد پراتارنے کی اجازت ہے جبکہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈمعاہدے 2010 میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے تمام کنسائنمنٹس کی ترسیل کراچی سے براہ راست افغانستان میں منزل مقصود تک پہنچانے کیلیے وضاحت کی گئی ہے لیکن اس کے باوجودایف بی آر نے مذکورہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسندکمپنی کوبھارتی گندم پشاور میں ٹرانس لوڈنگ کی اجازت دے دی ہے جبکہ دیگرکمپنیوں کو اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ معاہدے میں ٹرانزٹ ٹریڈکے کنسائنمنٹس پشاور میں ٹرانس لوڈ کرنے کی اجازت نہیں۔ ایف بی آرکے مکتوب میں کہا گیا کہ بھارت سے افغانستان کیلیے برآمد کی جانے والی ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم گذشتہ سال کی بقیہ مقدار ہے۔




گزشتہ سال افغانستان کیلیے1 لاکھ ٹن گندم ''ون ٹائم بنیاد'' پر برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی جومکمل ہونے کے بعد ایف بی آر کی جانب سے دی جانیوالی اجازت کی میعاد ختم ہوگئی لیکن ایف بی آرنے اپنے اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے گزشتہ سال درآمدکی جانیوالی گندم کوبنیاد بناکر مبینہ طورپر ایجیلیٹی کو بھارتی گندم پشاورمیں ٹرانس لوڈکرنے کی اجازت دے دی جس سے گندم پاکستان میں استعمال ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارتی گندم کی پاکستان میں درآمدات پر پابندی عائد ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ افغانستان کیلیے پورٹ قاسم کلکٹریٹ پر بوریوں میں درآمد کی جانیوالی بھارتی گندم پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیل کنٹینرز کے بجائے کھلے ٹرکوں میںرسیوں سے باندھ کر ترسیل کی جارہی ہے جس سے من پسند ٹرانسپورٹرز کو نوازنے کی بھی نشاندہی ہورہی ہے۔
Load Next Story