سلام اس ماں کو جس نے شہید لیفٹیننٹ ارسلان کو جنم دیا
شہید کی ماں! وطن کی مٹی تمہارے دودھ کا یہ قرض کبھی اتار نہیں پائے گی۔ ہمیں تم پر فخر ہے
کوئی نہیں جانتا تھا کہ کاتب تقدیر ان سب دعاؤں کو جمع کرتا جارہا ہے، تاکہ لیفٹیننٹ ارسلان کو اس ابدی زندگی سے سرفراز کرسکے جس کی خواہش اس کے جری دل میں موجزن ہے۔ (فوٹو: فائل)
مشرقی معاشرے میں بیٹے کے پیدا ہونے کو ایک فخر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مائیں ان فرزندوں کو اپنے خون سے سینچتی ہیں۔ ان کی بھیگتی مسوں کے ساتھ ہی ان کے سر پر سہرا سجانے کے خواب ان کی آنکھیں خودبخود دیکھنے لگتی ہیں۔ ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بیٹے کی آنے والی نسل سے اس کا آنگن روشن ہو۔ اس کے بچوں کو وہ اپنے بازو پر لٹا کر انہیں ان کے باپ کے بچپن کے قصے سنائے۔ ان کی معصوم حرکتوں اور شرارتوں میں اپنے بیٹے کی شرارتوں کی جھلک دیکھے۔ لیفٹیننٹ ارسلان شہید بھی ہمارے معاشرے میں ایک ایسی ہی ماں کا لعل تھا۔ اس کی ماں نے بھی جب تین بہنوں کے اس اکلوتے بھائی کو پروان چڑھایا ہوگا تو اس کی آنکھوں نے بھی یہی خواب دیکھے ہوں گے۔
جس پل اس کے محنتی اور فرماں بردار بیٹے کی آرمی میں سلیکشن ہوئی ہوگی تو ساری دنیا کے سامنے مبارکبادیں وصول کرتے ہوئے ایک فخر کے ساتھ ایک ڈر بھی رات کے اندھیرے میں اس ماں کو ستاتا ہوگا۔ ماں جانتی تھی کہ جس راہ کا انتخاب اس کے بیٹے نے کیا ہے وہ خطرات سے پر ہے۔ مگر پھر بھی اس ماں نے وطن کی محبت کو اپنے لعل کی محبت پر فوقیت دی۔ اس نے اپنے منتوں مرادوں سے پلے بیٹے کو پاک سرزمین کی حفاظت کےلیے پیش کردیا۔
وہ جانتی تھی کہ اس کی تربیت اس کو کسی مقام پر شرمندہ نہیں ہونے دے گی۔ اسے یقین تھا کہ ارسلان دشمنوں کے سامنے اپنے پاک وطن کی حفاظت کےلیے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دے گا مگر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اسی خواہش کا اظہار لیفٹیننٹ ارسلان نے راجگال میں اپنی پوسٹنگ کے دوران اپنے دوست سے بھی بات کرتے ہوئے کیا کہ وہ شہادت کا متمنی اور منتظر ہے۔ جس پل وہ اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے دوست کے سامنے کر رہا تھا، یقیناً یہ ماں اس پل بھی اپنے وطن کے ساتھ ساتھ اپنے شہزادے ارسلان کی لمبی عمر کےلیے دعا گو ہوگی۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ کاتب تقدیر ان سب دعاؤں کو جمع کرتا جارہا ہے، تاکہ لیفٹیننٹ ارسلان کو اس ابدی زندگی سے سرفراز کرسکے جس کی خواہش اس کے جری دل میں موجزن ہے۔ بزدل دشمن کی چھپی ہوئی گولی جب لیفٹیننٹ ارسلان کو لگی ہوگی تو آسمان سے فرشتے اس لاڈلے کو لینے آئے ہوں گے۔ پھولوں کی ڈولی میں اس کے وجود کو سنبھال لیا ہوگا۔ ماں کے دل میں صبر بھر دیا ہوگا۔ اس بہادر ماں کو سلام پیش کرنے کےلیے تمام ماؤں کے ہاتھ خود بخود اٹھ گئے ہوں گے۔ شہید کی ماں! وطن کی مٹی تمھارے دودھ کا یہ قرض کبھی اتار نہیں پائے گی۔ ہمیں تم پر فخر ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
جس پل اس کے محنتی اور فرماں بردار بیٹے کی آرمی میں سلیکشن ہوئی ہوگی تو ساری دنیا کے سامنے مبارکبادیں وصول کرتے ہوئے ایک فخر کے ساتھ ایک ڈر بھی رات کے اندھیرے میں اس ماں کو ستاتا ہوگا۔ ماں جانتی تھی کہ جس راہ کا انتخاب اس کے بیٹے نے کیا ہے وہ خطرات سے پر ہے۔ مگر پھر بھی اس ماں نے وطن کی محبت کو اپنے لعل کی محبت پر فوقیت دی۔ اس نے اپنے منتوں مرادوں سے پلے بیٹے کو پاک سرزمین کی حفاظت کےلیے پیش کردیا۔
وہ جانتی تھی کہ اس کی تربیت اس کو کسی مقام پر شرمندہ نہیں ہونے دے گی۔ اسے یقین تھا کہ ارسلان دشمنوں کے سامنے اپنے پاک وطن کی حفاظت کےلیے اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دے گا مگر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اسی خواہش کا اظہار لیفٹیننٹ ارسلان نے راجگال میں اپنی پوسٹنگ کے دوران اپنے دوست سے بھی بات کرتے ہوئے کیا کہ وہ شہادت کا متمنی اور منتظر ہے۔ جس پل وہ اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے دوست کے سامنے کر رہا تھا، یقیناً یہ ماں اس پل بھی اپنے وطن کے ساتھ ساتھ اپنے شہزادے ارسلان کی لمبی عمر کےلیے دعا گو ہوگی۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ کاتب تقدیر ان سب دعاؤں کو جمع کرتا جارہا ہے، تاکہ لیفٹیننٹ ارسلان کو اس ابدی زندگی سے سرفراز کرسکے جس کی خواہش اس کے جری دل میں موجزن ہے۔ بزدل دشمن کی چھپی ہوئی گولی جب لیفٹیننٹ ارسلان کو لگی ہوگی تو آسمان سے فرشتے اس لاڈلے کو لینے آئے ہوں گے۔ پھولوں کی ڈولی میں اس کے وجود کو سنبھال لیا ہوگا۔ ماں کے دل میں صبر بھر دیا ہوگا۔ اس بہادر ماں کو سلام پیش کرنے کےلیے تمام ماؤں کے ہاتھ خود بخود اٹھ گئے ہوں گے۔ شہید کی ماں! وطن کی مٹی تمھارے دودھ کا یہ قرض کبھی اتار نہیں پائے گی۔ ہمیں تم پر فخر ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔