عراقی کردوں کا ریفرنڈم…92 فیصد آزادی کے حامی
عراق کو کردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لینا چاہیے,عراقی پارلیمنٹ
عراق کو کردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لینا چاہیے,عراقی پارلیمنٹ۔ فوٹو: فائل
عراق میں کرد باشندوں کا جو ریفرنڈم ہوا ہے، اس میں 92 فیصد کرد عوام نے عراق سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس کا اعلان ریفرنڈم کرانے والوں نے بدھ کو کیا جب کہ عراقی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بغیر ملک کو متحد رکھنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ریفرنڈم کے نتائج اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں کہ کردوں کو عراقی حکومت کے خلاف طویل عرصہ سے اختلاف موجود ہے جس کی وجہ سے حکومت نے کردوں کے علاقے سے طیاروں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر رکھی ہے، نیز عراق اور اس کے پڑوسی ممالک اپنے ملکی نقشوں میں کس قسم کی تبدیلی کے شدت سے مخالف ہیں۔
کردش ریجن کے الیکشن کمیشن کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس میں ریفرنڈم کے سرکاری نتائج کا اعلان کیا اور بتایا کہ آزادی کے حق میں 92.73 فیصد ووٹ پڑے ہیں جب کہ مجموعی طور پر 72 فیصد سے زائد کردآبادی اپنے علاقے کی خود مختاری اور ''سیلف رول'' چاہتی ہے۔ ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ خود مختار کردش ریجن کے تین صوبوں میں کرائی گئی جب کہ ان متنازعہ علاقوں میں بھی ووٹنگ ہوئی جن کا کنٹرول بغداد کی حکومت کے پاس ہے اور یہی حکومت ان علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ بھی کرتی ہے۔ ادھر عراقی پارلیمنٹ نے' جس میں عربوں کی اکثریت ہے' وزیراعظم حیدر الآبادی کو مینڈیٹ دے دیا تھا کہ وہ متنازعہ علاقے میں فوجی دستے تعینات کر سکتے ہیں، ان علاقوں میں تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک کا شہر بھی شامل ہے۔
لیکن وزیراعظم الآبادی نے کہا کہ وہ عراقی شہریوں کے ساتھ لڑائی نہیں کرنا چاہتے، اس کے برعکس انھوں نے اعلان کیا کہ وہ کردش علاقے پر آئین کی حکمرانی قائم کرنے کے حق میں ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ عراق کو کردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لینا چاہیے تاآنکہ وہ ریفرنڈم کے نتائج کو منسوخ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ پارلیمنٹ نے کرد لیڈر مسعود بارزانی اور ان کے ساتھیوں کو پابند سلاسل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
وزیراعظم الآبادی نے کہا ہے کہ کردش لیڈر اپنے ہوائی اڈوں کا کنٹرول وفاقی حکام کے سپرد کر دیں بصورت دیگر ان کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ واضح رہے کہ کردوں کی آبادی مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں بٹی ہوئی ہے جن میں عراق' ترکی اور شام کے علاوہ ایران بھی شامل ہے۔ کردوں کی قوم ایک طویل عرصہ سے اپنے اتحاد اور یکجہتی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے لیکن وہ تمام ممالک جن میں کردوں کی آبادی موجود ہے وہ کردوں کو آزادی اور خود مختاری دینے پر تیار نہیں اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کردوں کے علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
کردش ریجن کے الیکشن کمیشن کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس میں ریفرنڈم کے سرکاری نتائج کا اعلان کیا اور بتایا کہ آزادی کے حق میں 92.73 فیصد ووٹ پڑے ہیں جب کہ مجموعی طور پر 72 فیصد سے زائد کردآبادی اپنے علاقے کی خود مختاری اور ''سیلف رول'' چاہتی ہے۔ ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ خود مختار کردش ریجن کے تین صوبوں میں کرائی گئی جب کہ ان متنازعہ علاقوں میں بھی ووٹنگ ہوئی جن کا کنٹرول بغداد کی حکومت کے پاس ہے اور یہی حکومت ان علاقوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ بھی کرتی ہے۔ ادھر عراقی پارلیمنٹ نے' جس میں عربوں کی اکثریت ہے' وزیراعظم حیدر الآبادی کو مینڈیٹ دے دیا تھا کہ وہ متنازعہ علاقے میں فوجی دستے تعینات کر سکتے ہیں، ان علاقوں میں تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک کا شہر بھی شامل ہے۔
لیکن وزیراعظم الآبادی نے کہا کہ وہ عراقی شہریوں کے ساتھ لڑائی نہیں کرنا چاہتے، اس کے برعکس انھوں نے اعلان کیا کہ وہ کردش علاقے پر آئین کی حکمرانی قائم کرنے کے حق میں ہیں۔ عراقی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ عراق کو کردوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لینا چاہیے تاآنکہ وہ ریفرنڈم کے نتائج کو منسوخ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ پارلیمنٹ نے کرد لیڈر مسعود بارزانی اور ان کے ساتھیوں کو پابند سلاسل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
وزیراعظم الآبادی نے کہا ہے کہ کردش لیڈر اپنے ہوائی اڈوں کا کنٹرول وفاقی حکام کے سپرد کر دیں بصورت دیگر ان کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ واضح رہے کہ کردوں کی آبادی مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں بٹی ہوئی ہے جن میں عراق' ترکی اور شام کے علاوہ ایران بھی شامل ہے۔ کردوں کی قوم ایک طویل عرصہ سے اپنے اتحاد اور یکجہتی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے لیکن وہ تمام ممالک جن میں کردوں کی آبادی موجود ہے وہ کردوں کو آزادی اور خود مختاری دینے پر تیار نہیں اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کردوں کے علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔