معاشرتی پسماندگی

اس سال بھی مذہبی اکابرین نے وزارت مذہبی امورکے تحت ایک ضابطہ اخلاق پر اتفاق کیا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

اسے ہم اپنی قوم کی خوش بختی کہیں یا بدبختی کہ ہر سال ہمارے اکابرین کو ایک سے زیادہ بار آپس میں ضابطہ اخلاق بنانا پڑتا ہے۔ خاص طور پر محرم کی آمد سے پہلے مذہبی اکابرین کے درمیان ضابطہ اخلاق کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ روایت کے مطابق اس سال بھی مذہبی اکابرین نے وزارت مذہبی امورکے تحت ایک ضابطہ اخلاق پر اتفاق کیا ہے۔ اس ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام مکاتب فکر کے افراد یا قیادت اشتعال انگیز بیانات اور دوسروں کی دل آزاری سے گریز کریں گے۔ عوامی پلیٹ فارم کو ''مخالفین'' کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ وزارت مذہبی امور کے تحت ہونے والے علمائے کرام کے اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری ہوا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ''تمام مکاتب فکر'' محبت اور رواداری کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اعتدال پیدا کریں گے۔ اشتعال انگیز بیانات اور تقاریر سے پرہیز کریں گے اور مسلکی تنازعات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

بلاشبہ اس قسم کے ضابطہ اخلاق پر اتفاق سے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک مذہب، ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے اجتماعی اخلاق حمیدہ بھی لائق فخر ہیں پھر ہمیں ضابطہ اخلاق کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ اس قسم کا ضابطہ اخلاق عموماً یا تو خاص موقعوں پر سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہوتا ہے یا دو مذاہب یا دو قوموں کے درمیان مخصوص موقعوں پر اس قسم کے ضابطہ اخلاق کی ضرورت پیش آتی ہے جس کا ایک معقول جواز ہوتا ہے کیونکہ ان فریقین کے درمیان بدامنی کے خدشات ہوتے ہیں اور یہ خدشات متحارب سیاست اور متحارب مذاہب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جن کا ایک معقول جواز ہوتا ہے۔

ہمارا اجتماعی دعویٰ یہ ہے کہ ہم دنیا کی دیگر قوموں میں ایک برتر قوم ہیں اور ہمارا مذہب دنیا کے دیگر مذاہب سے اعلیٰ اور بدتر مذہب ہے۔ کیا اس قسم کے ضابطہ اخلاق ہمارے دعوؤں سے مطابقت رکھتے ہیں؟ ہمارا پڑوسی ملک بھارت ایک کافر ملک ہے اور کفر وہ کیفیت ہے جس میں دنیا بھر کی برائیاں اور خرابیاں جمع ہیں لیکن دیکھا یہی جاتا ہے کہ اس کافر ملک کی مذہبی تقریبات میں کسی قسم کے اخلاقی ضابطوں کی ضرورت عموماً نہیں پڑتی۔ غنڈہ عناصر ہر ملک، ہر قوم میں موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی غنڈہ گردی غیر مذہبی ہوتی ہے اور مذہبی قیادت کو مذہبی تہواروں کے موقعوں پر کسی ضابطہ اخلاق کی ضرورت نہیں ہوتی بغیر ان ضابطوں کے ان کی تقریبات پرامن طور پر منعقد ہوتی ہیں۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مذاہب کے ماننے والے فرقوں اور مسلکوں میں بٹے ہوئے نہیں ہیں؟

بلاشبہ ہندو مذہب ذات پات کے بندھنوں میں بندھا ہوا ہے لیکن ان ملکوں کے سیاستدان اور دانشور اب ذات بات کی تفریق کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے بے شمار ثبوت ہیں جن میں سے ایک تازہ ثبوت یہ ہے کہ حال ہی میں دنیا کے اس دوسرے بڑے ملک میں ملک کا صدر ایک نچلی ذات کے عام آدمی کو بنایا گیا ہے اور اسی ملک کا وزیر اعظم ایک انتہائی نچلی سطح کا شخص ہے جو ایک چٹائی ہوٹل میں ''باہر والے'' کا کام انجام دیتا رہا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں اگر ہم اپنے مذہبی تہواروں کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قوم اور مذہب کے حوالے سے ہماری اخلاقیات کا عالم یہ ہے کہ ہر اہم مذہبی تہوار ہمارے لیے خوف اور دہشت کا سامان لے آتا ہے اور اس خوف اور دہشت سے بچنے کے لیے ہمیں ہر سال کئی بار ضابطہ اخلاق کی ضرورت پیش آتی ہے۔


اس حوالے سے سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ آج ساری دنیا جس بلا یعنی مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی سے خوفزدہ ہے اس کے پیچھے بھی مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلافات موجود ہیں۔ ایک دہشتگرد گروہ مسجدوں کو بموں سے اڑا رہا ہے تو دوسرا مکتبہ فکر امام بارگاہوں کو بارود سے اڑا رہا ہے۔ ایک مکتبہ فکر شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے سادہ لوح انسانوں کو شناخت کر کے بیدردی سے قتل کر رہا ہے تو دوسرا مکتبہ فکر سنیوں کو چن چن کر مار رہا ہے۔ یہ ہولناک سلسلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بیشتر مسلم ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔ خاص طور پر عراق، شام اور بعض افریقی ملک اس حوالے سے اس قدر انتہا پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ایک فقہ کے ماننے والے دوسرے فقہ کے ماننے والوں کے علاقوں میں نہیں جا سکتے ورنہ ان کی لاشیں بے گور و کفن ایک دوسرے کے علاقوں میں پڑی رہتی ہیں۔

یہ بڑی اچھی بات ہے کہ مذہبی تہواروں کے موقعے پر خون خرابے سے بچنے اور عوام کو مشتعل ہونے سے بچانے کے لیے ہماری مذہبی قیادت بڑے خلوص سے ضابطہ اخلاق بناتی ہے اور اس سے اتفاق کرتی ہے لیکن کیا یہ ایک اعلیٰ قدیم اور برتر مذہب کے شایان شان ہے کہ ہم ہر مذہبی تہوار پر ضابطہ اخلاق بناتے رہیں اور اس سے اتفاق کرتے رہیں یہ مسئلہ نہ علاقائی ہے نہ عارضی ضابطہ اخلاق سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ مسلم ملکوں میں مسلمانوں کے مسائل اور اختلافات حل کرنے کے لیے کئی بڑی تنظیمیں موجود ہیں جن میں او آئی سی ہے، عرب لیگ ہے، سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والی پچاس سے زیادہ ملکوں کی تنظیم ہے جو دہشتگردی کے خلاف بنائی گئی ہے۔ کیا ان تنظیموں، ان ملکوں کے رہنماؤں کو یہ علم نہیں کہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کی عمارت فقہی اختلافات کی بنیادوں پر کھڑی ہوئی ہے؟

ہمارا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے اور اس پسماندگی کی دو قسمیں ہیں ایک معاشی دوسرے معاشرتی۔ معاشی پسماندگی ایک عمومی بیماری ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے اور دنیا کے باسی معاشی پسماندگی اور طبقاتی استحصال سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر ملک ہر قوم کے اہل علم اہل قلم اہل دانش دنیا کے مفلوک الحال انسانوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ معاشی پسماندگی اور طبقاتی استحصال قسمت اور خدا کا عطیہ نہیں بلکہ اس معاشی نظام کی دین ہے جسے دنیا سرمایہ دارانہ نظام کے نام سے جانتی ہے جس میں باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا رپیہ ہوتا ہے۔ لیکن جن ملکوں میں معاشرتی پسماندگی ہوتی ہے ان ملکوں کے عوام نہ صرف دین دھرم کے حوالوں سے بٹے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ ان کی ذیلی تقسیم فرقہ واریت کے زہر سے بھی آلودہ ہوتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اس تقسیم کو اور گہرا کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں کہ تقسیم شدہ انسانوں کی طاقت بھی بٹی ہوئی ہوتی ہے اور وہ جابر و ظالم سرمایہ داروں اور ان کے ایجنٹوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

معاشرتی پسماندگی کے مضر اور خطرناک نقصانات یہ ہیں کہ جمہوریت میں ملنے والے مواقعوں کو بھی معاشرتی پسماندگان کھو دیتے ہیں۔ اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے بجائے ظالموں، لٹیروں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اپنے طبقاتی مفادات کے پس منظر میں اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کے بجائے اشرافیہ کے بددیانت اور اربوں کی کرپشن کا ارتقاب کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ اس معاشرتی پسماندگی سے عوام کو نکالنے کے لیے انھیں فقہی، مسلکی اختلافات سے نکالنا انتہائی ضروری ہے۔ کاش ہماری مذہبی قیادت اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے عوام کو فقہی تقسیم سے بچا سکے۔
Load Next Story