گلوکار ملک اخلاق احمد کوہم بچھڑے 13 برس بیت گئے

1960ء کی دہائی میں اسٹیج پر گلوکاری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا

1960ء کی دہائی میں اسٹیج پر گلوکاری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا (فوٹو ایکسپریس)

پلے بیک سنگنگ میں منفرد انداز گائیکی رکھنے والے اخلاق احمد کو ہم سے بچھڑے تیرہ برس بیت گئے۔ انیس سوچھیالیس میں دہلی میں پیدا ہونیوالے اخلاق احمد نے1960 کی دہائی میں اسٹیج پر گلوکاری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور انیس سو تہتر میں انھیں پلے بیک سنگر کے طور پر فلم پازیب میں چانس ملا۔


اس عرصے میں پاکستانی فلم انڈسٹری احمد رشدی کی آواز کے سحر میں مبتلا تھی اورکسی بھی نئے گلوکار کے لیے جگہ بنانا انتہائی مشکل تھا۔ 1974 میں فلم چاہت کے گانے"ساون آئے، ساون جائے" نے شائقین کے دل جاں کوان کی چاہت کے ساون سے بھگو ڈالا۔ بلڈ کینسر کی وجہ سے وہ صرف 62فلموں میں 90گیت ہی گاسکے۔ موسیقار روبن گھوش کی کمپوزیشن میں ان کے گیت امر ہو چکے ہیں۔ اخلاق احمد کے گائے نغمے آج بھی ان کے چاہنے والوں کے دل و دماغ میں ان کی یاد روشن کیے ہیں۔
Load Next Story