پھل نہ کھانا موٹا جسمانی مشقت سے گریز دل کا مریض بنا دیتا ہے ماہرین
8گھنٹے کی نیندلینا صحت مند افراد کی نشانی ہوتی ہے، ماہرین
شہری رات کوکھانا کم کھائیں،روزانہ واک کرنے سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، امراض قلب کے عالمی دن پر لیکچر۔فوٹو: فائل
پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض سے بچاؤکا عالمی دن منایا جارہا ہے، اس دن کی مناسبت سے اسپتالوں میں ماہرین صحت نے امراض قلب سے بچاؤکے حوالے سے خصوصی لیکچر بھی دیے۔
ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 29 ستمبرکوامراض قلب کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کو منانے کا مقصدعوام میں دل کے امراض سے آگہی محفوظ اورصحت مندانہ طرززندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔
ماہرین صحت نے کہاکہ مسلسل اور غیر ضروری سوشل میڈیا سے وابستہ ماہرین امراض قلب کا شکار ہورہے ہیں، رات گئے سوشل میڈیا سے غیر ضروری منسلک رہنے سے ذہنی خلفشار اورنفیساتی امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ماہرین کا کہنا تھا کہ جو افراد رات گئے غیر ضروری سوشل میڈیا سے وابستہ رہتے ہیں ، ان میں صحت کے مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں،ایسے افراد کی نیند پوری نہ ہونے کی شکایت عام ہے اور ایسے افراد ذہنی تناؤ کا شکار ہورہے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کو رات گئے سوشل میڈیا سے منسلک رہنے کی عادت کو ترک کرائیں۔ اس سے نوجوانوں میں دل سمیت شدید ذہنی تناؤ تیزی سے جنم لے رہا ہے، رات کو نیند پوری نہ ہونے سے ایسے افراد کی دل کی دھڑکن تیز اور شدید ذہنی تناؤ کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔
ماہرین صحت نے کہا کہ دل سمیت دیگر امراض سے محفوظ رہنے کے لیے طرز زبدگی کو تبدیل کرنا ہوگا ، سادہ اور متوازی غذا امراض قلب سے محفوظ رکھتی ہے، یومیہ واک کرنے سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، پاکستان سمیت دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوںکی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر ، کولیسٹرول اور خون میںشوگرکی سطح میں اضافہ ،تمباکو نوشی، خوراک میں سبزیوں اور پھل نہ کھانا، موٹاپا اورجسمانی مشقت کا فقدان دل کے امراض میں مبتلا ہونے کی بڑی وجوہات ہیں،مرغن غذائیں امراض قلب کا باعث بنتی ہیں، ماہرین نے کہاکہ7 سے8گھنٹے کی نیندلینا صحت مند افراد کی نشانی ہوتی ہے تاہم رات کو کھانا کم کھائیں۔
دریں اثنا ماہرین امراض قلب نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد امراض قلب کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں 10 سال میں مزید اضافہ ہو جائے گا،اس سے80 فی صد اموات کم آمدنی والے ممالک بشمول پاکستان میں ہوںگی۔
ماہرین امراض قلب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 29 ستمبرکوامراض قلب کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کو منانے کا مقصدعوام میں دل کے امراض سے آگہی محفوظ اورصحت مندانہ طرززندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔
ماہرین صحت نے کہاکہ مسلسل اور غیر ضروری سوشل میڈیا سے وابستہ ماہرین امراض قلب کا شکار ہورہے ہیں، رات گئے سوشل میڈیا سے غیر ضروری منسلک رہنے سے ذہنی خلفشار اورنفیساتی امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ماہرین کا کہنا تھا کہ جو افراد رات گئے غیر ضروری سوشل میڈیا سے وابستہ رہتے ہیں ، ان میں صحت کے مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں،ایسے افراد کی نیند پوری نہ ہونے کی شکایت عام ہے اور ایسے افراد ذہنی تناؤ کا شکار ہورہے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کو رات گئے سوشل میڈیا سے منسلک رہنے کی عادت کو ترک کرائیں۔ اس سے نوجوانوں میں دل سمیت شدید ذہنی تناؤ تیزی سے جنم لے رہا ہے، رات کو نیند پوری نہ ہونے سے ایسے افراد کی دل کی دھڑکن تیز اور شدید ذہنی تناؤ کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔
ماہرین صحت نے کہا کہ دل سمیت دیگر امراض سے محفوظ رہنے کے لیے طرز زبدگی کو تبدیل کرنا ہوگا ، سادہ اور متوازی غذا امراض قلب سے محفوظ رکھتی ہے، یومیہ واک کرنے سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، پاکستان سمیت دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوںکی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر ، کولیسٹرول اور خون میںشوگرکی سطح میں اضافہ ،تمباکو نوشی، خوراک میں سبزیوں اور پھل نہ کھانا، موٹاپا اورجسمانی مشقت کا فقدان دل کے امراض میں مبتلا ہونے کی بڑی وجوہات ہیں،مرغن غذائیں امراض قلب کا باعث بنتی ہیں، ماہرین نے کہاکہ7 سے8گھنٹے کی نیندلینا صحت مند افراد کی نشانی ہوتی ہے تاہم رات کو کھانا کم کھائیں۔
دریں اثنا ماہرین امراض قلب نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد امراض قلب کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں 10 سال میں مزید اضافہ ہو جائے گا،اس سے80 فی صد اموات کم آمدنی والے ممالک بشمول پاکستان میں ہوںگی۔