مصنوعی چمڑا امپورٹرز اور کسٹمز میں ریٹ تنازع شدید

ایم سی سی اپریزمنٹ ویسٹ کراچی نے معاملہ نمٹانے کیلیے ایف بی آر سے رجوع کرلیا

31 اگست کو جاری نوٹیفکیشن کے پرانی کھیپوں پراطلاق کی وضاحت کی استدعا۔ فوٹو: فائل

مصنوعی لیدر درآمد کرنے والے کمرشل درآمد کنندگان اور کسٹمز کلکٹریٹس کے درمیان مصنوعی لیدر کی پرانی درآمدی کنسائنمنٹس پر زیرو سیلز ٹیکس کا تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔

ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ نے تنازع کے حل کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) ہیڈ کوارٹرز سے رجوع کرلیا ہے جس پر ایف بی آر نے معاملے کاجائزہ لینا شروع کردیا ہے تاہم ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ماتحت اداروں کو مروجہ قوانین کے مطابق ہدایات و رولنگ جاری کی جائیں گی۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے ماتحت ادارے کسٹمز ہاؤس کراچی کی جانب سے ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کو موصول ہونے والے لیٹر میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان مصنوعی لیدر امپورٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے مصنوعی لیدرکی پرانی درآمدی کنسائنمنٹس پر صفر سیلز ٹیکس کی سہولت مانگی گئی ہے اور اس سہولت کے لیے ایف بی آر کی جانب سے 31 اگست 2017 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن868(I) کو بنیاد بنایا گیا ہے۔


درآمد کنندگان 31 اگست سے پہلے کی درآمدی کنسائنمنٹس پر بھی صفر سیلز ٹیکس کلیم کررہے ہیں جبکہ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر لکھا ہے کہ اس کا اطلاق نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کی تاریخ سے ہوگا۔ لیٹر میں کہا گیاکہ وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2017 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن 584(I)کے تحت ایس آر او 1125(I)/2011 میں ترمیم کرتے ہوئے کمرشل درآمد کنندگان کیلیے ہر قسم کی فیبرک کی درآمد پر 6 فیصد سیلز ٹیکس اور 2 فیصد ویلیو ایڈیشن سیلز ٹیکس عائد کیا تھا جس پر تاجروں کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو درآمد کنندگان کی زیر التوا درآمدی کنسائنمنٹس میں سے کچھ کنسائنمنٹس مسئلے کے حل تک کے لیے عبوری طور پر کلیئر کی گئی تھیں۔

بعد ازاں ایف بی آر نے معاملہ حل کرنے کیلیے 31 اگست کو نوٹیفکیشن نمبر 868(I) جاری کردیا اور نوٹیفکیشن کے تحت جن اقسام کی فیبرکس کی درآمد پر 6 فیصد سیلز ٹیکس اور 2 فیصد ویلیوایڈڈ سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ان کی نشاندہی کرکے ان کے لیے پی سی ٹی کوڈ سے آگاہ کیا گیا جبکہ چیپٹر کو اس نوٹیفکیشن میں سے نکال دیا گیا جس سے واضح ہوگیا کہ مصنوعی لیدر کی درآمد پر ایس آر او نمبر 1125(I)/2011کے تحت صفر سیلز ٹیکس کی سہولت حاصل ہے۔

دستاویز میں کہا گیاکہ پاکستان مصنوعی لیدر امپورٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے 31 اگست کے نوٹیفکیشن کے تحت 31 اگست سے پہلے کی درآمدی کنسائنمنٹس پر صفر سیلز ٹیکس کی سہولت مانگی جارہی ہے جبکہ نوٹیفکیشن میں اس کی وضاحت نہیں اور لکھا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن اجرا کی تاریخ سے نافذ العمل ہوگا لہٰذا لیدر سیکٹر چونکہ 5 اہم شعبوں میں آتا ہے اس لیے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کو صورتحال سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ اس بارے میں فیلڈ فارمشنز کوکوئی وضاحت جاری کی جائے اور رولنگ دی جائے کہ پرانی کنسائنمنٹس پر زیرو ریٹنگ کی سہولت دینا ہے یا ان پر 6فیصد سیلز ٹیکس اور 2 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کی وصولی کرنا ہے تاکہ یہ معاملہ حل ہوسکے۔

اس بارے میں جب ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایم سی سی اپریزمنٹ ویسٹ کراچی کسٹمز ہاؤس کی جانب سے لیٹر موصول ہوا ہے جس کا جائزہ لیا جارہا ہے اور مروجہ ٹیکس قوانین اور رولز کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بارے میں جلد رولنگ جاری کی جائے گی۔
Load Next Story