ہوش مندی کا مظاہرہ کیا جائے

ناکامیوں اورکوتاہیوں کو تسلیم کرنےکےبجائے سیاسی قیادت ایک دوسرے پر الزامات عائد کرکے خودکو بری الذمہ قرار دے رہی ہے۔

کالعدم لشکر جھنگوی کے حوالے سے وفاقی اور پنجاب حکومت کی اعلیٰ شخصیات بیان بازی میں مصروف ہیں۔ فوٹو : فائل

لاہور:
سانحہ کیرانی روڈ کوئٹہ اور لاہور میں ڈاکٹر علی حیدر اور ان کے کم سن صاحبزادے کے قتل کے بعد انتہا پسند اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کے حوالے سے عوامی سطح پر جو رد عمل سامنے آیا' اب اس کے اثرات اعلیٰ سیاسی سطح پر بھی نمودار ہو رہے ہیں۔

کالعدم لشکر جھنگوی کے حوالے سے وفاقی اور پنجاب حکومت کی اعلیٰ شخصیات بیان بازی میں مصروف ہیں' اس سیاسی مشق کے دوران عوام حیرانی اور بے بسی سے کبھی وفاقی حکومت اور کبھی صوبائی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مسئلہ کسی ایک کالعدم تنظیم کا نہیں بلکہ تمام انتہا پسند اور فاشسٹ تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا ہے۔ یہ کام کسی ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان میں ایسا ہونا چاہیے۔ کالعدم لشکر جھنگوی تو ایک تنظیم ہے' اس کے علاوہ بھی تو ملک بھر میں متعدد ایسی تنظیمیں' گروہ اور مافیاز موجود ہیں' جو قتل و غارت میں ملوث ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے اقتدار کے ساڑھے چار برسوں میں موجودہ جمہوری سیٹ اپ میں شامل وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملک کے بڑے شہروں میں دہشت گردی اور قتل و غارت کرنے والے گروہوں اور تنظیموں کے خلاف کیا کارروائی کی ہے؟ وفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک کہہ رہے ہیں کہ کالعدم لشکر جھنگوی ملک بھر میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور پنجاب میں اس کے بڑے ٹھکانے موجود ہیں' اس تنظیم کے خلاف ملک گیر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت بھی اس کے خلاف ایکشن لے' اگر پنجاب حکومت نے لشکر جھنگوی کے خلاف کارروائی نہ کی تو ایف آئی اے کے ذریعے براہ راست ایکشن لوں گا۔ ان کے بیان کے ساتھ ہی اخبارات میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا بیان بھی موجود ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ رحمٰن ملک بتائیں کہ کوئٹہ میں جو کچھ ہوا اور کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے' اس پر انھوں نے کیا کارروائی کی ہے؟ پنجاب حکومت کے ترجمان پرویزرشید کا بھی بیان موجود ہے جس میں کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کے بارے میں چند حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اصل مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی کوشش کی جا رہی ہے۔


اپنی ناکامیوں' کوتاہیوں اور مصلحت اندیشوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے خود کو ہر ذمے داری سے بری الذمہ قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ آئین پاکستان کی رو سے حکومت عوام کے جان و مال' عزت اور کاروبار کے تحفظ کی ضامن اور ذمے دار ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے خلاف کارروائی کا معاملہ ہو یا دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈائون کا معاملہ سیاسی قیادت نے کبھی سنجیدگی سے ان معاملات پر بات نہیں کی۔ سیاسی قیادت کا طریقہ یہی ہے کہ ایک پریس کانفرنس کریں یا پریس ریلیز کے ذریعے بیان جاری کریں کہ ہم نے یہ کچھ کیا لیکن فلاں نے نہیں ہونے دیا۔

کل کو وفاقی حکومت یا سندھ حکومت کا کوئی ذمے دار کراچی میں ہونے والی قتل و غارت کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ اس میں بھی پنجاب سے دہشت گرد آتے ہیں۔ جمہوری حکومتوں کا یہ طرز عمل نہیں ہوتا' بلوچستان میں جو لوگ قتل و غارت گری کر رہے ہیں' ان کے پشت پناہ کون ہیں' اس کے بارے میں ارباب اختیار یقینی طور پر آگاہ ہوں گے ۔ اسی طرح کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں بھی ارباب اختیار حقائق سے لاعلم نہیں ہوسکتے' خیبر پختونخوا میں جیلیں توڑ کر دہشت گرد فرار ہو رہے ہیں' انھیں کون لوگ مدد فراہم کرتے ہیں' ان کا بھی کوئی نہ کوئی سراغ ضرور ہو گا' اسی طرح پنجاب میں فرقہ پرستوں اور دہشت گردوں کے بارے میں اعلیٰ سطح پر معلومات موجود ہوں گی' لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر بھی ذہنی اور نظریاتی ابہام موجود ہیں۔

کوئی لسانیت کے تعصب کا شکار ہو کر اپنے قاتلوں سے ہمدردی کرنے لگتا ہے' کوئی نسل و قوم کے نام پر اپنے دہشت گردوں کے جرائم پر پردہ ڈالنا چاہتا' کوئی فرقہ و مسلک کا اسیر ہو کر اپنے دہشت گردوں کو راہ حق پر سمجھنے لگتا ہے اور ایک موقع پرست گروپ بھی ہے جو اپنے مفادات کو بچانے کے لیے کسی کو دشمن نہیں بنانا چاہتا' یہ وہ معاملات ہیں جو دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کی راہ کو مسدود کر رہے ہیں۔ اب چونکہ موجود جمہوری سیٹ اپ کی اپنی مدت پوری ہونے والی ہے۔ برسر اقتدار سیاسی جماعتوں نے اب عوام کے پاس ووٹ مانگنے جانا ہے' کسی بھی سیاسی جماعت کے کریڈٹ پر کوئی ایسا کارنامہ نہیں ہے جسے وہ عوام کے سامنے رکھ کر یہ کہہ سکے کہ ہم دوبارہ برسر اقتدار آ کر اس سے بھی بڑھ کر کوئی کام کریں گے۔

لہٰذا وہ مختلف سیاسی ایشوز پیدا کر رہی ہیں' ہم پہلے بھی انھی سطور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت کو حساس معاملات پر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے' ماضی میں سیاستدانوں نے وقتی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایسے ایشوز پیدا کیے جو بعد میں تنازعات کی شکل اختیار کر گئے اور پھر پوری قوم کو مارشل لا کا عذاب بھگتنا پڑا' اس وقت بھی ملک کی تمام سیاسی قیادت کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے انتہائی خطر ناک اور مہلک ایشوز پر سیاسی بیان بازی کرنے کے بجائے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے تا کہ قوم کو پتہ چل سکے کہ ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمایندے ان سے واقعی مخلص ہیں اور ان میں ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کی نہ صرف قابلیت و صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ جرات بھی موجود ہے جس کا موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں۔
Load Next Story