موسمیاتی تبدیلی کا مضمون نصاب میں شامل کرنے کی سفارش

سمندر میں روزانہ 12 ہزار ٹن انسانی، صنعتی، اسپتالوں کا فضلہ شامل ہونے سے پانی خراب ہو رہا ہے, چیئرمین کمیٹی

سمندر میں روزانہ 12 ہزار ٹن انسانی، صنعتی، اسپتالوں کا فضلہ شامل ہونے سے پانی خراب ہو رہا ہے, چیئرمین کمیٹی. فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی طرف سے موسمیاتی تبدیلی کا مضمون نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے، اگرچہ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر عمل درآمد حکومتوں کی سطح پر ہی کیا جا سکتا ہے جو ایسی فیکٹریوں اور کارخانوں پر پابندیاں عاید کر سکتی ہے جو گرین ہاؤس گیسیں خارج کرنے میں کسی احتیاط کو مقدم نہیں رکھتے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلی کے مضمون کو طلبا کے نصاب میں شامل کرنے سے بچوں کو ابتدا ہی سے اس معاملے کی اہمیت کا احساس ہو جائے گا اور وہ آگے چل کر اپنی عملی زندگی میں ماحولیات کو بہتر بنانے میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے ماحولیات کے بارے میں آگاہی مہم شروع کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے پروگرام شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔ اجلاس جمعہ کو کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر میر یوسف بادینی کی زیر صدارت ہوا، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے آگاہی ہنگامی بنیادوں پر ضروری ہے۔


چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ کراچی کے سمندر میں روزانہ 12 ہزار ٹن انسانی، صنعتی، اسپتالوں کا فضلہ شامل ہونے کے علاوہ بھینس کالونی سے آنیوالی گندگی سے پانی خراب ہو رہا ہے اور حیوانات مر رہے ہیں، سمندر میں مٹی جمع ہونے سے جہاز رانی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

بلاشبہ ماحولیاتی آلودگی دہشتگردی اور پانی کی کمیابی سے کم بڑا خطرہ اور مسئلہ نہیں ہے' وطن عزیز کے دریا' ندی نالے اور سمندر تک آلودہ ہو چکے ہیں جب کہ پہاڑوں کی توڑ پھوڑ اور جنگلات کی کٹائی نے بھی ماحولیاتی مسائل پیدا کر رکھے ہیں' اس سنگین مسئلے سے آگاہی اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
Load Next Story