جدید رجحانات کا فقدان خلیج یو اے ای میں پاکستانی پھل اور سبزیوں کی تجارت زوال پذیر

دبئی پاکستانی پھل اور سبزیوں کی متحدہ عرب امارات کو ری ایکسپورٹ کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔

دبئی کے ساتھ گلف اور متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں میں پاکستانی پھلوں کی بہت مانگ ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

شیلف لائف میں کمی، پیکنگ کے جدید رجحان کے فقدان اور لاجسٹک کے مسائل کی وجہ سے دبئی کے ذریعے خلیج اور متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں کو پھل اور سبزیوں کی ری ایکسپورٹ کی وسیع منڈی میں پاکستانی پھل اور سبزیوں کے لیے بھارت سے مقابلہ دشوار ہوگیا ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی کاوشوں سے کینو کی برآمد کے آغاز کے لیے تاریخ مقرر کیے جانے سے دبئی کی مارکیٹ میں اس سال پاکستانی سیزن ریکارڈ قیمت پر فروخت کیا گیا ہے۔ دبئی میں پھل اور سبزیوں کی تجارت کے بانی پاکستان کے معروف تاجر چوہدری محمد الطاف نے ایکسپریس سے ملاقات میں بتایا کہ دبئی پاکستانی پھل اور سبزیوں کی متحدہ عرب امارات کو ری ایکسپورٹ کا بڑا مرکز بن سکتا ہے دبئی اور خلیجی ریاستوں میں پاکستانی پھلوں کو متعارف کرانے اور ایکسپورٹ کو منظم شکل دینے میں پاکستانی تاجر حاجی افتخار احمد نے اہم کردار ادا کیا پاکستانی تاجروں نے ساٹھ کی دہائی سے دبئی میں کاروبار شروع کیا۔

دبئی کے ساتھ گلف اور متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں میں پاکستانی پھلوں کی بہت مانگ ہے دبئی کی مارکیٹ حقیقت میں ری ایکسپورٹ مارکیٹ ہے جہاں سے پھل اور سبزیاں مسقط، بحرین، قطر، دوحا، کویت اور سعودی عرب کو ری ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں تاہم شیلف لائف کم ہونے، جدید اور خوبصورت پیکنگ کے فقدان اور اجتماعی حکمت عملی کے بجائے انفرادی سوچ نے اہم ترین منڈی میں بھارتی مصنوعات سے مقابلہ دشوار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کینو کی برآمد میں بہتری آرہی ہے اور کینو کا معیار اور پیکنگ بھی تیزی سے بہتر ہورہی ہے یکم دسمبر سے کینو کی برآمد شروع کرنے کے فیصلے سے دبئی کی مارکیٹ میں پاکستانی کینو کو بہترین رسپانس ملا ہے دسمبر کے مہینے میں پاکستانی کینو 30درہم فی 10کلو سے زائد تک کی قیمت پر فروخت ہوا۔




اس سے قبل کینو کی برآمد کے سیزن کے آغاز پر پاکستان سے بغیر پکا کھٹا اور سبز رنگ کا کینو دبئی بھیجا جاتا تھا جسے ایک مرتبہ خریدنے والا گاہک پورے سیزن پاکستانی کینو سے دور رہتا تھا جس سے پاکستانی ایکسپورٹرز اور دبئی یں پاکستانی پھلوں کی آڑؑہت کرنے والوں کو بھی نقصان کا سامنا تھا تاہم اس سال پہلی مرتبہ ایک تاریخ سے برآمدات کے آغاز سے کینو کا معیار بہتر ہوا ہے اور پاکستانی کینو دبئی کے ساتھ خلیج اور متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں میں ہاتھوں ہاتھ خریدا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی تاجروں اور ایکسپورٹرز پر زوردیا کہ پاکستانی پھل اور سبزیوں کی شیلف لائف بڑھانے کے لیے جدید رجحانات اختیار کریں جدید اور چھوٹی پیکنگ کے استعمال سے پھلوں کی بہترین قیمت حاصل کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے آلو کی اوپن ٹاپ کنٹینر میں درآمد پر پابندی عائد کردی ہے اور اس حوالے سے پاکستانی آلو کو بھی مشکلات کا سامنا ہے تاہم اس پابندی سے آلو کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملیگی، انہوں نے بتایا کہ آم کے لیے بھی اوپن ٹاپ کنٹینرز کے ذریعے درآمد اور لکڑی کی پیٹیوں کے استعما پر بھی پابندی کی اطلاعات ہیں جس کے لیے پاکستانی ایکسپورٹرز اور تاجروں کو پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ گلف اور متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں بھارتی مصنوعات کو غلبہ حاصل ہے جس کی بنیادی وجہ بہترین معیار کے ساتھ جدید اور دیدہ زیب پیکنگ اور بھارتی تاجروں کی اجتماعی حکمت عملی ہے پاکستانی تاجر آپس میں مسابقت کرکے مارکیٹ خراب کرتے ہیں جس سے پاکستانی پھل اور سبزیاں کم قیمت پر فروخت ہوتے ہیں پاکستانی مال کی منڈی میں کھلے عام نمائش کی جاتی ہے جبکہ بھارتی تاجر اپنا مال گوداموں میں محفوظ کرتے ہوئے ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ پاکستان سے اوپن ٹاپ کنٹینر میں آنے والا آم راستے میں پک کر تیار ہوجاتا ہے اس لیے دیگر ریاستوں تک ترسیل مشکل ہوتی ہے پھل اور سبزیوں کی ایکسپورٹ کے لیے ریفر کنٹینرز کے استعمال سے شیلف لائف بڑھائی جاسکتی ہے۔
Load Next Story