کراچی مالکان کا ماربل فیکٹریزغیرمعینہ مدت کیلیے بند کرنے پرغور
90فیصدبرآمد کراچی کی فیکٹریوں سے ہوتی ہے، معطلی کا خدشہ پیدا ہوگیا
حال ہی میں بھتا نہ دینے پر ایک فیکٹری پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
بھتا خوروں سے تحفظ نہ ملنے پر کراچی کی ماربل فیکٹری مالکان نے کاروبار غیرمعینہ مدت کیلیے بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔
بندش کی صورت میں پاکستان سے ماربل کی برآمدات معطل ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان سے 90فیصد ماربل کراچی کی فیکٹریوں سے برآمد کیا جاتا ہے جو زیادہ تر پاک کالونی اورنگی ٹائون اور منگھو پیر میں قائم ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلیٰ حکام کی جانب سے فیکٹری مالکان کو زبانی طور پر مطمئن کیا گیا تاہم فیکٹریوں کی حفاظت کیلیے عملی اقدامات نہ کیے جانے سے بھتا مافیا کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور اب بھتا نہ دینے والی فیکٹری کے مالکان پر براہ راست فائرنگ کے واقعات شروع ہوگئے ہیں۔
ماربل فیکٹری کے مالکان نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاک کالونی، اورنگی ٹائون، پیر آباد پولیس اسٹیشنز کی حدود میں 300 سے 400 بڑی فیکٹریاں جبکہ 600کے لگ بھگ چھوٹے کارخانے قائم ہیں جو گزشتہ کئی سال سے بھتا مافیا کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ماربل فیکٹریوں میں بھتا خوری کے خلاف گزشتہ سال بھی احتجاجاً کاروبار غیرمعینہ مدت کے لیے بند کیا گیا جو اعلیٰ حکام کی یقین دہانیوں اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث بحال ہوگیا تاہم یہ اقدامات عارضی ثابت ہوئے اور ایک بار پھر ماربل فیکٹری مالکان اور ورکرز بھتا مافیا کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں بھتا نہ دینے پر ایک فیکٹری پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے فیکٹریوں کو 10لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کا بھتا موبائل فون پر دھمکیوں اور ایس ایم ایس کے زریعے طلب کیا جارہا ہے بھتا مافیا ایس ایم ایس کے زریعے فیکٹری مالکان کو اس بات سے بھی مطلع کرتی ہے کہ بھتا مافیا کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور فیکٹری مالکان چاہیں تو بھتا مافیا کے نمبر قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور اعلیٰ حکام کو دے کر آزما سکتے ہیں متاثرہ فیکٹری مالکان نے بتایا کہ بھتا مافیا کے ہاتھوں تنگ متعدد فیکٹری مالکان نے فیکٹریوں کو تالے ڈال دیے ہیں اور بھتا مافیا کے بڑھتے ہوئے عزائم علاقے میں آزادانہ آمدورفت کے باعث تمام فیکٹریاں مستقل طور پر بند کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔
بندش کی صورت میں پاکستان سے ماربل کی برآمدات معطل ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان سے 90فیصد ماربل کراچی کی فیکٹریوں سے برآمد کیا جاتا ہے جو زیادہ تر پاک کالونی اورنگی ٹائون اور منگھو پیر میں قائم ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلیٰ حکام کی جانب سے فیکٹری مالکان کو زبانی طور پر مطمئن کیا گیا تاہم فیکٹریوں کی حفاظت کیلیے عملی اقدامات نہ کیے جانے سے بھتا مافیا کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور اب بھتا نہ دینے والی فیکٹری کے مالکان پر براہ راست فائرنگ کے واقعات شروع ہوگئے ہیں۔
ماربل فیکٹری کے مالکان نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاک کالونی، اورنگی ٹائون، پیر آباد پولیس اسٹیشنز کی حدود میں 300 سے 400 بڑی فیکٹریاں جبکہ 600کے لگ بھگ چھوٹے کارخانے قائم ہیں جو گزشتہ کئی سال سے بھتا مافیا کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ماربل فیکٹریوں میں بھتا خوری کے خلاف گزشتہ سال بھی احتجاجاً کاروبار غیرمعینہ مدت کے لیے بند کیا گیا جو اعلیٰ حکام کی یقین دہانیوں اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث بحال ہوگیا تاہم یہ اقدامات عارضی ثابت ہوئے اور ایک بار پھر ماربل فیکٹری مالکان اور ورکرز بھتا مافیا کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں بھتا نہ دینے پر ایک فیکٹری پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے فیکٹریوں کو 10لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کا بھتا موبائل فون پر دھمکیوں اور ایس ایم ایس کے زریعے طلب کیا جارہا ہے بھتا مافیا ایس ایم ایس کے زریعے فیکٹری مالکان کو اس بات سے بھی مطلع کرتی ہے کہ بھتا مافیا کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور فیکٹری مالکان چاہیں تو بھتا مافیا کے نمبر قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور اعلیٰ حکام کو دے کر آزما سکتے ہیں متاثرہ فیکٹری مالکان نے بتایا کہ بھتا مافیا کے ہاتھوں تنگ متعدد فیکٹری مالکان نے فیکٹریوں کو تالے ڈال دیے ہیں اور بھتا مافیا کے بڑھتے ہوئے عزائم علاقے میں آزادانہ آمدورفت کے باعث تمام فیکٹریاں مستقل طور پر بند کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔