کراچی ہڑتالیں 40 فیصد تاجرمارکیٹ کے نادہندہ ہوگئے
کاورباری سرگرمیاں 70فیصد تک کم،چھوٹے تاجروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہوگیا
سندھ تاجر اتحاد کے وائس چیئرمین کاشف صابرانی کے مطابق کراچی شہر میں بدامنی کی وجہ سے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ فوٹو: فائل
کراچی میں بدامنی اور آئے روز ہڑتال کی سبب 40فیصد سے زائد چھوٹے تاجر مارکیٹ کے نادہندہ ہوگئے ہیں۔
اہم تجارتی مراکز میں پراپرٹی کی قیمت میں 50فیصد تک کمی واقع ہوچکی ہے، کاروبار کی دیگر شہروں کو منتقلی تیز ہوگئی ہے۔ سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ کے مطابق جنوری کے مہینے میں ہڑتالوں اور بدامنی کے سبب کاروبار 12روز جبکہ فروری کے مہینے میں 10روز بند رہا اتوار کو ہونے والی تعطیل اس کے علاوہ ہے کاورباری سرگرمیاں 70فیصد تک کم ہوچکی ہیں اور چھوٹے تاجروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ متاثر اولڈ سٹی ایریا میں دکانوں کی قیمت 50فیصد تک کم ہوچکی ہے اور 50لاکھ روپے والی دکان کے لیے 25لاکھ روپے کا بھی گاہک نہیں مل رہا کراچی میں بدامنی اور کاروبار کی بندش کے سبب دکانوں کو مال سپلائی کرنے والے کارخانے بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور اب تک شہر کے مختلف علاقوں میں قائم کارخانوں کی بڑی تعداد بند ہوچکی ہے جس سے بے روزگاری اور سماجی مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے، انہوں نے بتایا کہ حکومت تجارتی مراکز میں سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے اور آئے روز کسی نہ کسی بازار میں فائرنگ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلا کر کاروبار بند کرادیا جاتا ہے پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔
سندھ تاجر اتحاد کے وائس چیئرمین کاشف صابرانی کے مطابق کراچی شہر میں بدامنی کی وجہ سے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔پہلے بھتہ خوری، پھر ٹارگٹ کلنگ اور اب کئی روز کی ہڑتالوں نے کاروبارِ زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق کراچی کے تاجروں کو گزشتہ 2 ماہ میں 40 سے 50 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 65 سال کی تاریخ میں تاجروں پر اتنا کڑا وقت کبھی نہیں آیا جتنا گزشتہ 4 سالوں میں تاجر برادری پریشانیوں کا شکار رہی ہے۔ کاشف صابرانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور تاجر برادری کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ آج تاجر اس حد تک پریشان ہیں کہ اگر کسی تاجر کی دکان میں 5 لاکھ کا مال ہے تو وہ تاجر 10 لاکھ کا قرضدار ہے یعنی تاجر اپنی جمع پونجی تو ایک طرف اب بازار کا قرضہ بھی دینے کے قابل نہیں رہے۔
اہم تجارتی مراکز میں پراپرٹی کی قیمت میں 50فیصد تک کمی واقع ہوچکی ہے، کاروبار کی دیگر شہروں کو منتقلی تیز ہوگئی ہے۔ سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل پراچہ کے مطابق جنوری کے مہینے میں ہڑتالوں اور بدامنی کے سبب کاروبار 12روز جبکہ فروری کے مہینے میں 10روز بند رہا اتوار کو ہونے والی تعطیل اس کے علاوہ ہے کاورباری سرگرمیاں 70فیصد تک کم ہوچکی ہیں اور چھوٹے تاجروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ متاثر اولڈ سٹی ایریا میں دکانوں کی قیمت 50فیصد تک کم ہوچکی ہے اور 50لاکھ روپے والی دکان کے لیے 25لاکھ روپے کا بھی گاہک نہیں مل رہا کراچی میں بدامنی اور کاروبار کی بندش کے سبب دکانوں کو مال سپلائی کرنے والے کارخانے بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور اب تک شہر کے مختلف علاقوں میں قائم کارخانوں کی بڑی تعداد بند ہوچکی ہے جس سے بے روزگاری اور سماجی مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے، انہوں نے بتایا کہ حکومت تجارتی مراکز میں سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے اور آئے روز کسی نہ کسی بازار میں فائرنگ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلا کر کاروبار بند کرادیا جاتا ہے پولیس اور رینجرز خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔
سندھ تاجر اتحاد کے وائس چیئرمین کاشف صابرانی کے مطابق کراچی شہر میں بدامنی کی وجہ سے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔پہلے بھتہ خوری، پھر ٹارگٹ کلنگ اور اب کئی روز کی ہڑتالوں نے کاروبارِ زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق کراچی کے تاجروں کو گزشتہ 2 ماہ میں 40 سے 50 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 65 سال کی تاریخ میں تاجروں پر اتنا کڑا وقت کبھی نہیں آیا جتنا گزشتہ 4 سالوں میں تاجر برادری پریشانیوں کا شکار رہی ہے۔ کاشف صابرانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور تاجر برادری کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ آج تاجر اس حد تک پریشان ہیں کہ اگر کسی تاجر کی دکان میں 5 لاکھ کا مال ہے تو وہ تاجر 10 لاکھ کا قرضدار ہے یعنی تاجر اپنی جمع پونجی تو ایک طرف اب بازار کا قرضہ بھی دینے کے قابل نہیں رہے۔