پاکستان ٹیم نے رسوائیوں کی داستان رقم کردی

عمران فرحت کی مزاحمت نے 43 پر دم توڑا جبکہ سرفراز 40 رنز کے ساتھ نمایاں رہے.

سنچورین ٹیسٹ :پاکستانی بیٹسمین اظہر علی جنوبی افریقی فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کے خطرناک بائونسر سے بچنے کے لیے کوشاں۔ فوٹو: اے پی

پاکستان کرکٹ ٹیم نے رسوائی کی نئی داستان رقم کردی، پروٹیز نے سنچورین ٹیسٹ کے تیسرے روز ہی اننگز اور 18رنز سے شکست دے کر کلین سوئپ مکمل کرلیا۔

سرفراز احمد اور سعید اجمل نے 69 کی شراکت سے ٹاپ اور مڈل آرڈر کو آئینہ دکھایا، بڑے نام بری طرح ناکام ہوئے، عمران فرحت کی مزاحمت 43 پر دم توڑ گئی، لنچ کے بعد دو سیشنز میں پوری ٹیم 235 پر ڈھیر ہوئی،ڈیل اسٹین نے 4 شکار کیے، مین آف دی میچ کائل ایبٹ 9 وکٹیں لے کر کیریئر کے پہلے ٹیسٹ میں مین آف دی میچ قرار پائے،سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ابراہم ڈی ویلیئرز کو حاصل ہوا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے سنچورین ٹیسٹ کے تیسرے روز اپنی اننگز کا آغاز 14 سے کیا تو اننگز کی شکست سے بچنے کیلیے 239 درکار تھے۔

یونس خان 8 اور اظہر علی 5 کے انفرادی اسکور کے ساتھ کریز پر آئے،ٹوٹل میں 25 رنز کے اضافہ پر یونس خان نے ڈیل اسٹین کی گیند پر سلپ میں کھڑے گریم اسمتھ کو کیچ دے دیا،تجربہ کار بیٹسمین کی اننگز 11 تک محدود رہی، عمران فرحت کی آمد کے بعد ایک اچھی شراکت کی اُمید ہو چلی تھی مگر لنچ کا وقفہ ختم ہونے کے ساتھ ہی 93 کے مجموعی اسکور پر اظہر علی (27) کی پُر اعتماد اننگز کا افسوسناک انجام ہوا، سنگل بنانے کے بعد دوسرے رن پر غلط فہمی ہوئی، کریز کی طرف لوٹنے سے قبل ڈی ویلیئرز نے ڈیل اسٹین کی تھرو پر بیلز اڑادیں، 107 کے ٹوٹل پرعمران فرحت کی ہمت بھی جواب دے گئی۔




کائل ایبٹ نے انھیں 43 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے اپنی ٹیم کو خوشیاں منانے کا موقع فراہم کیا، اسی اسکور پر مصباح الحق نے کلینویلڈ کی گیند پر ڈی ویلیئرز کو کیچ کا موقع فراہم کیا، کپتان کی اننگز صرف 5 رنز تک محدود رہی، 114 کے مجموعی اسکور پر اسد شفیق (6) با آسانی ہتھیار ڈالتے ہوئے کلینویلڈ کا دوسرا شکار بن گئے، کیچ مڈ آف پر فلینڈر کے ہاتھوں میں محفوظ ہوا، سعید اجمل 6 پر ریویو کی مدد سے اپنی وکٹ بچانے میں کامیاب ہوئے روبن پیٹرسن کی گیند اسٹمپس سے باہر جا رہی تھی، اگلے ہی اوور میں نمبر 7 پر بیٹنگ کرنے والے سرفراز احمد کو موقع ملا، فلینڈر کی بولنگ پر سلپ میں کیچ نہ دیے جانے پر گریم اسمتھ نے ریویو لیا مگر ری پلے سے ثابت ہوا کہ بال صرف پیڈ سے ٹکرائی تھی۔

سعید اجمل نے پیٹرسن کو چھکا جڑ کر اپنی ٹیم کے نام گرامی بیٹسمینوں کو شرمندہ کرنے کے بعد فلینڈر کا سامنا بھی اعتماد سے کیا، ڈیل اسٹین کے ایک اوور میں سرفراز احمد نے 2،سعید اجمل نے ایک چوکا لگا کر اسکور 169 تک پہنچایا، بالآخر اننگز کی سب سے بڑی 69 رنز کی شراکت سعید اجمل کے 31 رنز پر آئوٹ ہونے سے ختم ہوئی، ڈیل اسٹین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ تبدیل کرانے کیلیے سعید اجمل نے ریویو بھی لیا مگر ناکامی ہوئی، سرفراز احمد کی مزاحمت نے 40 رنز پر دم توڑ دیا، ڈیل اسٹین کی گیند پر تھرڈ مین کی طرف اچھالا گیا مشکل کیچ ڈین ایلجر نے پکڑا، اس سے قبل وہ ٹیم کا مجموعہ 202 تک پہنچا چکے تھے، سعید اجمل اور سرفراز کی بیٹنگ سے ثابت ہوا کہ ٹاپ اور مڈل آرڈر بھی اعصابی دبائوکا شکار ہونے کے بجائے نیچرل گیم کھیلتے تو صورتحال کافی بہتر ہو سکتی تھی۔



اسی ٹوٹل پر احسان عادل( 12) نے کائل ایبٹ پر احسان کرتے ہوئے پل شاٹ پر گیند کلینویلڈ کو تھما دی،آخری وکٹ حاصل کرنے کیلیے میزبان ٹیم کو235 رنز تک انتظار کرنا پڑا،راحت علی 10 کے انفرادی اسکور پر ڈیل اسٹین کے اوور میں دوبار بچے، پہلے ڈی ویلیئرز نے کیچ چھوڑ دیا،بعد ازاں انھوں نے شارٹ لیگ پر کیچ چیلنج کرکے امپائر کا فیصلہ غلط ثابت ہونے پر وکٹ بچائی، 22 رنز بناکر روبن پیٹرسن کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہوئے تو ایک بار پھر ریویو لے کر اننگز کو طویل دینے کی کوشش کی مگر تھرڈ امپائر کا فیصلہ حق میں آنے پر پروٹیز نے کلین سوئپ کی خوشیاں منانا شروع کردیں۔دوسری اننگز میں ڈیل اسٹین سب سے کامیاب بولر رہے انھوں نے 80رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، مین آف دی میچ کائل ایبٹ 39 کے عوض 2 کے ساتھ ڈیبیو میچ میں 9 شکار کرنے میں کامیاب ہوئے، کلینویلڈ نے 33 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔
Load Next Story