پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں اور حکومت انھیں ریلیف نہیں دے رہی
عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں اور حکومت انھیں ریلیف نہیں دے رہی ۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2سے 4روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، قیمتوں میں اضافہ اوگرا کی سفارش پر وزیراعظم کی منظوری کے بعد کیا گیا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر اور 2اکتوبر کی درمیانی رات 12بجے سے ہو گیا جو31اکتوبر تک نافذ العمل رہے گا۔ پٹرول کی قیمت 2.35روپے کے اضافے سے 73.50روپے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 79.40 اور لائٹ ڈیزل کی 46روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پر بوجھ بڑھے گا۔
عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں اور حکومت انھیں ریلیف نہیں دے رہی۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں درست سمت میںرواں نہیں اور ناقص پالیسیوں کے باعث پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے اس نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا آسان ہدف تلاش کر لیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ماہ ردوبدل کے نظام نے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ۔ پٹرول کی قیمت میں ہر ایک ماہ بعد کمی بیشی سے کاروباری سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ پٹرول کے نرخ بڑھیں تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن نرخ کم ہوں تو ٹرانسپورٹ کرائے کم نہیں ہوتے۔ اس صورت حال سے نکلنے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سالانہ میزانیے میں کر دیا جائے' ماضی میں وفاقی حکومت ایسا ہی کیا کرتی تھی' بھارت میں اب بھی تیل کی قیمتوں کا فیصلہ سالانہ بجٹ میں ہی ہوتا ہے اور یہ قیمتیں سارا سال برقرار رہتی ہیں' اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سال ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی یکساں رہتے ہیں اوراپنی گاڑی رکھنے والے طبقے کا تیل کا بجٹ بھی یکساں رہتا ہے۔
مینوفیکچرز کی پیداواری لاگت میں کم از کم فیول کی حد تک کوئی اضافہ نہیں ہوتا' وفاقی حکومت کو اس اصول کی طرف واپس پلٹنا چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات' بجلی' گیس اور کوئلہ کے نرخ سالانہ میزانیے میں ایک ہی بار متعین کیے جائیں' اس طریقے سے فیول اور انرجی کی قیمتیں سارا سال مستحکم رہیں گی جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔دنیا کے جن ترقی پذیر ممالک نے تیزی سے ترقی کی ہے، انھوں نے مستحکم اور منصوبہ بند معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی ترقی کی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں 5سالہ معاشی منصوبہ بندی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ معیشت کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے'یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں سارا سال بڑھتی رہتی ہیں اور ان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی شامل ہیں۔پٹرول کی قیمتیں معیشت کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں۔
عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جا رہے ہیں اور حکومت انھیں ریلیف نہیں دے رہی۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں درست سمت میںرواں نہیں اور ناقص پالیسیوں کے باعث پڑنے والے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے اس نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا آسان ہدف تلاش کر لیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ماہ ردوبدل کے نظام نے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ۔ پٹرول کی قیمت میں ہر ایک ماہ بعد کمی بیشی سے کاروباری سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ پٹرول کے نرخ بڑھیں تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن نرخ کم ہوں تو ٹرانسپورٹ کرائے کم نہیں ہوتے۔ اس صورت حال سے نکلنے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین سالانہ میزانیے میں کر دیا جائے' ماضی میں وفاقی حکومت ایسا ہی کیا کرتی تھی' بھارت میں اب بھی تیل کی قیمتوں کا فیصلہ سالانہ بجٹ میں ہی ہوتا ہے اور یہ قیمتیں سارا سال برقرار رہتی ہیں' اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پورا سال ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی یکساں رہتے ہیں اوراپنی گاڑی رکھنے والے طبقے کا تیل کا بجٹ بھی یکساں رہتا ہے۔
مینوفیکچرز کی پیداواری لاگت میں کم از کم فیول کی حد تک کوئی اضافہ نہیں ہوتا' وفاقی حکومت کو اس اصول کی طرف واپس پلٹنا چاہیے۔ پٹرولیم مصنوعات' بجلی' گیس اور کوئلہ کے نرخ سالانہ میزانیے میں ایک ہی بار متعین کیے جائیں' اس طریقے سے فیول اور انرجی کی قیمتیں سارا سال مستحکم رہیں گی جس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔دنیا کے جن ترقی پذیر ممالک نے تیزی سے ترقی کی ہے، انھوں نے مستحکم اور منصوبہ بند معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی ترقی کی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں 5سالہ معاشی منصوبہ بندی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ معیشت کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے'یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں سارا سال بڑھتی رہتی ہیں اور ان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی شامل ہیں۔پٹرول کی قیمتیں معیشت کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں۔