انتخابات منشور اور عوام

ہم بحیثیت مجموعی جاگیردارانہ نظام کی پیدا کردہ شخصیت پرستی میں دفن ہیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں انتخابات ووٹ اور منشور کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ عوام آنکھ بند کرکے نہ ووٹ کا استعمال کرتے ہیں نہ سیاسی پارٹیوں کے منشور کو پڑھے بغیر کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملکوں کے عوام میں تعلیم کی شرح سو فیصد ہے اور عوام میں سماجی اور سیاسی شعور موجود ہے۔

اگرچہ کئی پسماندہ ملکوں میں بھی شرح تعلیم 100 فیصد کے لگ بھگ ہے لیکن ان ملکوں کے عوام سماجی اور سیاسی شعور سے محروم ہیں اور اشرافیہ نے مختلف حوالوں سے انھیں اتنے طبقوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے کہ ان کی اجتماعی طاقت پارہ پارہ ہوکر رہ گئی ہے اور وہ انتخابات کے موقع پر پارٹیوں کے منشور کو دیکھے بغیر محض ذات برادری، قومیتوں، نسل و زبان کے حوالوں سے انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے انتخابی نظام میں پروپیگنڈے کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ الیکشن میں عموماً اشرافیہ کے سپوت ہی حصہ لیتے ہیں کیونکہ الیکشن لڑنے کے لیے کروڑوں روپوں کی ضرورت ہوتی ہے اور دال روٹی پر گزارا کرنے والے الیکشن میں حصہ لینے کے تصور ہی سے محروم ہوتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کی عمارت دولت پر ہی کھڑی ہے چونکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت میں قانون ساز اداروں میں پہنچنے کے لیے کروڑوں روپوں کی ضرورت ہوتی ہے سو غریب طبقات اس نظام میں انتخابات لڑنے کی اہلیت ہی سے محروم ہوتے ہیں۔

پاکستان کا شمار پسماندہ ترین ملکوں ہی میں نہیں ہوتا بلکہ یہاں شرح تعلیم بھی دیگر پسماندہ ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ اس سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہم اور بہت ساری تقسیموں کے علاوہ 72 فرقوں میں بھی بٹے ہوئے ہیں اس پر قیامت یہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی جاگیردارانہ نظام کی پیدا کردہ شخصیت پرستی میں دفن ہیں اسی شخصیت پرستی میں ہم اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ کسی پارٹی کے منشور کی طرف تو ہماری نظر جاتی ہی نہیں بلکہ ہماری نظروں میں اشرافیائی شاہوں اور شہزادوں کے سرخ و سفید چہرے اور ان کی کروڑوں قیمت کی چمکتی دمکتی گاڑیوں کو ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے بلکہ ہمارے ملک کی اس حوالے سے یہ شرمناک روایت ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں لیڈروں کے حوالے ہی سے جانی جاتی ہیں ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کے آگے بریکٹ میں (ن) (ف) جیسی شخصیتی علامتیں لگی ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر مسلم لیگ (ن) کا مطلب نواز شریف کی مسلم لیگ۔ جے یو آئی (ف) کا مطلب جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن ہوتا ہے، اسی طرح کئی پارٹیوں نے اپنی شناخت اپنے رہنماؤں کے حوالے سے بنا رکھی ہے۔ اس بیہودہ سیاسی روایت کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی اصل شناخت اس کا منشور سرے سے غائب ہوکر رہ گیا ہے۔

اس شناخت کا ایک المیہ یہ ہے کہ کسی جماعت کا سربراہ خواہ کتنے ہی جرائم میں ملوث کیوں نہ ہو اس کی جماعت اسی کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ پتا نہیں ہماری محترم عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے سربراہوں کی نظر اس انتہائی قابل اعتراض شناخت پر گئی ہے یا نہیں، بہرحال ہزاروں برائیوں کی نمایندگی کرنے والی اس شخصیتی شناخت کو ختم کرکے پارٹیوں کی شناخت اس کے منشور کے کلچر کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

جاگیردارانہ اخلاقیات میں شخصیت پرستی سر فہرست ہوتی ہے اور بدقسمتی سے ہمارے ملک میں شخصیت پرستی ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گئی ہے۔ اس کلچر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری اشرافیہ بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے سیاسی وارثوں کو میدان میں لارہی ہے۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ پارٹیوں میں بہت سارے سینئر ارکان موجود ہیں جن کے بال پارٹیوں کی خدمت کرکے سفید ہوگئے ہیں جنھوں نے پارٹیوں کے نام پر بڑی قربانیاں دی ہیں ان کے سروں پر سیاست کی( الف ب) سے لاعلم نوجوان شہزادوں اور شہزادیوں کو مسلط کیا جارہا ہے اور سینئر لوگ زبان بند کیے بیٹھے ہیں۔


یہ کام بڑی مہارت سے ہمارے عیار سیاست دان اس لیے کررہے ہیں کہ آیندہ کئی نسلوں تک سیاست اور اقتدار پر ان کا قبضہ برقرار رہے۔ اس حوالے سے دیگر پسماندہ ملکوں پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شناخت شخصیتوں کے حوالے سے نہیں بلکہ پارٹیوں کے منشور کے حوالے سے کی جاتی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شخصیتوں کی نمایندگی کرنے والے جاگیردارانہ نظام کو ان ملکوں میں حصول آزادی کے فوری بعد ختم کردیاگیا۔

ہمارے پڑوسی ملکوں ہی پر نظر ڈالیے ان ملکوں میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے فوری بعد سخت زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کردیا گیا، جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ان ملکوں میں نہ شخصیت پرستی سیاست میں رہنماؤں کی پہچان بنی ہوئی ہے نہ پارٹیوں کے آگے بریکٹ میں ن اور ف قسم کے لفظ لگاکر پارٹیوں کے منشور کو دبایا جارہا ہے۔

اس حوالے سے دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ صنعتی اشرافیہ بھی اس جاگیردارانہ کلچر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو شخصیت پرستی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اس مکروہ کھیل کی وجہ سے ہمارے ملک کا جمہوری مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے۔

اس حوالے سے افسوس کی بات یہ ہے کہ صبح شام جمہوریت کی مالا جپنے والی پارٹیاں اس کلچر کے خلاف آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے کے بجائے ان جدید بادشاہوں کے امرا کا کردار ادا کررہی ہیں، اس حوالے سے ایک اور دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ مڈل کلاس پر مشتمل بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں بھی اپنی پارٹیوں کو منشور کے بجائے شخصیتوں کے حوالے سے عوام میں روشناس کرا رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آمریت کی مخالفت کو اپنا سیاسی فرض قرار دینے والی سیاسی جماعتیں کیوں اس جاگیردارانہ شخصیت پرستی کو پروان چڑھا رہی ہیں؟

اگرچہ ملک ایک انتہائی سیاسی انارکی کے دور سے گزر رہا ہے لیکن امکان یہی ہے کہ 2018 میں ملک میں عام انتخابات ہوںگے۔ اشرافیائی پارٹیاں ہی نہیں بلکہ مڈل کلاس پر مشتمل سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی ابھی سے 2018کے ممکنہ انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں لیکن ماضی میں بھی یہی ہوتا رہا اور اب بھی یہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے انتخابات بھی منشوروں کے بجائے شخصیتوں اور فراڈ نعروں کی بنیاد پر ہی لڑے جائیں گے۔

اس حوالے سے سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک کے 21 کروڑ عوام انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کے منشور کو دیکھے بغیر شخصیتوں کی بنیاد پر ذات برادری زبان اور قومیت کی بنیاد پر اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آنے والے پانچ سال بھی وہ اشرافیہ کی غلامی میں گزاردیتے ہیں۔

اس حوالے سے جمہوریت کے مبلغ پارٹیوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سب سے پہلے اہم قومی مسائل کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں۔ اس حوالے سے پہلا نمبر زرعی اصلاحات کا آتا ہے، آج ہمارا ملک شخصیت پرستی کے جس دلدل میں دھنسا ہوا ہے اسے اس دلدل سے نکالنے کے لیے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ انتخابی اصلاحات کا ہے جب تک موجودہ سرمایہ کاری انتخابی نظام باقی رہے گا، اس وقت تک عوام کے حقیقی نمایندے قانون ساز اداروں میں نہیں پہنچ سکیں گے۔

اس حوالے سے ہمارے سرمایہ دارانہ انتخابی نظام میں ایسی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس کی بدولت نچلے طبقات کے اہل اور تعلیم یافتہ لوگ انتخاب لڑسکیں، اس کے لیے ایک ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کروڑوں کے سرمائے کی ضرورت نہ ہو، صرف صلاحیتوں یعنی میرٹ پر عوام انتخابات میں حصہ لے سکیں اور ووٹر میرٹ ہی کی بنیاد پر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔
Load Next Story