کرزئی کا 2 افغان صوبوں سےامریکی فوج کو نکل جانے کا حکم 3خودکش دھماکے 4 فوجی ہلاک
اسپیشل فورسز گمشدگیوں اور تشدد میں ملوث ہیں، ترجمان حامد کرزئی، الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں،امریکی ترجمان
جلال آباد میں خفیہ ایجنسی کے دفتر پر کار بم حملہ،کابل میں سفارتی علاقے پر حملے کی کوشش ناکام، لوگر میں پولیس ہیڈکوارٹر پر دھماکا. فوٹو: فائل
BRIGHTON, UK:
افغانستان کے مشرقی علاقوں میں طالبان کے 3 مختلف خودکش حملوں میں 4 افغان فوجی مارے گئے ہیں ، دارالحکومت کابل میں سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی فوج کو صوبہ اور لوگر سے نکل جانے کا حکم دیا ہے ۔ سب سے خطرناک حملہ طلوع آفتاب کے بعد جلال آباد میں ہوا جب افغان خفیہ ادارے کی عمارت کے سامنے ایک کار بم دھماکا ہوا۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت کے علاقائی ترجمان احمد ضیاء عبدالزئی نے بتایا کہ سیکیورٹی کے قومی ڈائریکٹوریٹ کے احاطے کے دروازے سے ٹکرا کر ایک کار دھماکے سے اڑادی گئی جس سے 2 سیکیورٹی اہل کار ہلاک اور 3 افراد زخمی ہو گئے۔ جلال آباد حملے سے قبل لوگر صوبے میں ایک شاہراہ پر ایک پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
دریں اثنا کابل کے نائب پولیس چیف جنرل محمد داؤد امین کے مطابق ایک مشتبہ خودکش حملہ آور کو انٹیلیجنس ایجنٹوں نے پہلے ہی تاڑ لیا اور اس سے قبل کہ وہ اپنی گاڑی کو دھماکے سے اڑاتا، اسے گولی مار دی گئی۔ حملہ آور کی گاڑی دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی تھی اور وہ شہر کے سفارتی رہائشی علاقے وزیر اکبر خان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ لوگر صوبے کے سرکاری ترجمان دین محمد درویش کا کہنا ہے کہ صبح کو ایک حملہ آور نے برکی بارک ضلع کے علاقے پلی عالم میں پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
لوگر کے پولیس چیف عبد الصبور نصرتی نے اے ایف پی کو بتایا کہ کابل سے 70 کلومیٹر جنوب میںپلی عالم پر ہونے والا حملہ کافی شدید تھا جس سے آس پاس کے گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جلال آباد اور پلی عالم میں خود کش حملوںکی ذمے داری قبول کرلی ہے تاہم کابل کے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صوبے وردک اور لوگرمیں تعینات امریکی ا سپیشل فورسز کو گمشدگیوں اور تشدد کے الزامات کے بعد وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
صدر کرزئی کے ترجمان نے ایک نیوز کانفرس میں بتایا کہ امریکی فورسز کو آئندہ 2 ہفتوں کے اندر اندر مذکورہ صوبوں سے نکلنا ہو گا۔ ترجمان کاکہنا ہے کہ کابل کے پڑوسی صوبوں میں بدامنی کی ذمے دار امریکی فوج ہے کیونکہ اس نے مقامی لوگوں کو مسلح کیا ہے جو لوگوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ ترجمان ایمیل فیضی نے کہا کہ صدر کرزئی نے وزارت دفاع سے کہا ہے کہ امریکی فوج کو ان صوبوں سے نکال باہر کریں۔ ادھرامریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ خلاف ورزیوں کے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ تازہ پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے ۔
افغانستان کے مشرقی علاقوں میں طالبان کے 3 مختلف خودکش حملوں میں 4 افغان فوجی مارے گئے ہیں ، دارالحکومت کابل میں سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی فوج کو صوبہ اور لوگر سے نکل جانے کا حکم دیا ہے ۔ سب سے خطرناک حملہ طلوع آفتاب کے بعد جلال آباد میں ہوا جب افغان خفیہ ادارے کی عمارت کے سامنے ایک کار بم دھماکا ہوا۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت کے علاقائی ترجمان احمد ضیاء عبدالزئی نے بتایا کہ سیکیورٹی کے قومی ڈائریکٹوریٹ کے احاطے کے دروازے سے ٹکرا کر ایک کار دھماکے سے اڑادی گئی جس سے 2 سیکیورٹی اہل کار ہلاک اور 3 افراد زخمی ہو گئے۔ جلال آباد حملے سے قبل لوگر صوبے میں ایک شاہراہ پر ایک پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
دریں اثنا کابل کے نائب پولیس چیف جنرل محمد داؤد امین کے مطابق ایک مشتبہ خودکش حملہ آور کو انٹیلیجنس ایجنٹوں نے پہلے ہی تاڑ لیا اور اس سے قبل کہ وہ اپنی گاڑی کو دھماکے سے اڑاتا، اسے گولی مار دی گئی۔ حملہ آور کی گاڑی دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی تھی اور وہ شہر کے سفارتی رہائشی علاقے وزیر اکبر خان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ لوگر صوبے کے سرکاری ترجمان دین محمد درویش کا کہنا ہے کہ صبح کو ایک حملہ آور نے برکی بارک ضلع کے علاقے پلی عالم میں پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
لوگر کے پولیس چیف عبد الصبور نصرتی نے اے ایف پی کو بتایا کہ کابل سے 70 کلومیٹر جنوب میںپلی عالم پر ہونے والا حملہ کافی شدید تھا جس سے آس پاس کے گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جلال آباد اور پلی عالم میں خود کش حملوںکی ذمے داری قبول کرلی ہے تاہم کابل کے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صوبے وردک اور لوگرمیں تعینات امریکی ا سپیشل فورسز کو گمشدگیوں اور تشدد کے الزامات کے بعد وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
صدر کرزئی کے ترجمان نے ایک نیوز کانفرس میں بتایا کہ امریکی فورسز کو آئندہ 2 ہفتوں کے اندر اندر مذکورہ صوبوں سے نکلنا ہو گا۔ ترجمان کاکہنا ہے کہ کابل کے پڑوسی صوبوں میں بدامنی کی ذمے دار امریکی فوج ہے کیونکہ اس نے مقامی لوگوں کو مسلح کیا ہے جو لوگوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ ترجمان ایمیل فیضی نے کہا کہ صدر کرزئی نے وزارت دفاع سے کہا ہے کہ امریکی فوج کو ان صوبوں سے نکال باہر کریں۔ ادھرامریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ خلاف ورزیوں کے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ تازہ پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے ۔