آئندہ حکومت میں بھی 1979 کا نظام نافذ رہیگا خورشید شاہ

متحدہ نگراںوزیراعظم کانام دے،مجھے سندھ کا وزیر اعلیٰ بنانیکا فیصلہ پارٹی کریگی۔

فخرالدین سوچیں کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر فوج، باہر رینجرزہونی چاہیے،پریس کانفرنس۔ فوٹو: آن لائن/فائل

KARACHI:
وفاقی وزیر مذہبی امورسید خورشیداحمدشاہ نے کہا ہے کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو5 سال کا مینڈیٹ دیا تھا۔

مقررہ مدت سے ایک گھنٹا بھی زائد حکومت نہیں رہے گی، 16مارچ کو اسمبلیاں ختم ہونے کے بعد مئی کی27-26 یا 28 تاریخ کو عام انتخابات ہر صورت میں ہونگے، آئندہ حکومت میں بھی1979کا بلدیاتی نظام نافذ رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سکھرپریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے ابھی نگراں وزیراعظم کے نام کا فیصلہ نہیں کیا، صدرآصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعد اس سلسلے میں پارٹی کا مشاورتی اجلاس بلایا جائے گا۔ متحدہ نگراں وزیراعظم کے لیے نام تجویز کرے، ڈاکٹر طاہرالقادری سے بھی نگراں وزیراعظم کیلیے نام لیا جائیگا کیونکہ حکومت نے ان سے اس کا وعدہ کیا تھا۔




انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے پیپلزلوکل گورنمنٹ ایکٹ واپس لیا جس کا کریڈٹ دوسری پارٹیاں لینے کی کوشش کررہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آئندہ حکومت میں بھی 1979کا بلدیاتی نظام نافذ رہے گا۔ خورشیدشاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن دیگر معاملات میں الجھنے کی بجائے اپنی توجہ شفاف و بروقت انتخابات کرانے پر مرکوز رکھے، چیف الیکشن کمشنر اخبارات کے کالم پڑھ کر فیصلے تبدیل کرنے کے بجائے اس بات پر غور کریں کہ پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد کتنی ہونی چاہیے، اندر فوج اور باہر رینجرز ہونی چاہیے، انھوں نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر انتخاب لڑوں گا، سندھ کا وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ پارٹی کریگی، گورنرسندھ کی لندن میں صدرزرداری سے ملاقات ہوسکتی ہے، گورنر کے استعفے کا فیصلہ متحدہ کریگی۔
Load Next Story