تاریکی ہوتے ہی حکومت کا تختہ الٹنے سمیت کئی افواہوں سے خوف و ہراس

ملک بھر سے ملنے والی افواہیں یہ تھیں کہ حساس ادارے امریکا سے چھپ کر کوئی بڑا کام کر رہے ہیں۔

ملک بھر سے ملنے والی افواہیں یہ تھیں کہ حساس ادارے امریکا سے چھپ کر کوئی بڑا کام کر رہے ہیں۔. فوٹو: فائل

شہر کے تاریکی میں ڈوبتے ہی دہشت گردی ، حکومت کے تختہ الٹنے کے ساتھ ساتھ مختلف افواہیں پھیلنا شروع ہو گئیں۔

شہری خوفزدہ ہو کر ایک دوسرے سے موبائل فون میسجز سے معلومات حاصل کرتے رہے ، گھروں میں موجود خواتین اپنے رشتے داروں کو فون کر کے حالات کے بارے میں آگاہی حاصل کرتی رہیں ۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی شب بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد شب پورا شہر تاریکی میں ڈوب گیا ابتدائی طور پر شہریوں نے اپنے دوستوں، رشتے داروں اور دیگر جاننے والوں کو فون کیا اور جیسے جیسے انھیں اس بات کا پتہ چلنا شروع ہوا کہ نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے اس کے بعد شہر بھر کو افواہوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ملک میں مارشل لا لگ رہا ہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کا تختہ الٹ گیا ہے۔


کچھ افواہیں یہ تھیں کہ شہر میں بڑی دہشت گردی ہونے والی ہے، کچھ لوگوں کی طرف سے افواہ پھیلی کے دہشت گرد اسلحہ کی کھیپ شہر میں لے کر داخل ہو رہے ہیں، ایک افواہ تھی کہ شہر میں ایک سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن کے لیے پولیس اور رینجرز کراچی کے مختلف علاقوں کا گھیراؤ کر رہی ہے اور اس کے لیے بجلی بند کی گئی ہے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ حساس اداروں نے حکومت کے 2 اعلیٰ سربراہان کو گرفتار کر لیا ، تمام ٹی وی چینلز پر قومی ترانہ بڑھا جا رہا ہے جبکہ حکومت کے دیگر لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ ملک بھر سے ملنے والی افواہیں یہ تھیں کہ حساس ادارے امریکا سے چھپ کر کوئی بڑا کام کر رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا تھا بجلی کی فراہمی کے معطل ہونے کے بعد بیشتر علاقوں میں شہری خوفزدہ ہوکر گھروں تک محدود ہو گئے، بیشتر علاقوں میں رات میں کھلنے والی دکانیں اور دیگر کاروبار ممکنہ دہشت گردی کے پیش نظر بند ہو گیا جبکہ گھروں سے باہر مردوں کو خواتین نے فون کر کے فوری گھر میں آنے کو کہا جبکہ خواتین اپنے رشتے داروں کو فون کر کے ایک دوسرے سے حالات کے بارے میں آگاہی حاصل کرتی رہیں جبکہ وہ اپنے صلاحیت کے مطابق بجلی کے بند ہونے پر تجزیے بھی کرتے رہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story