پاکستان کی ابوظہبی ٹیسٹ میں شکست

اس ٹیسٹ میچ میں پاکستانی بلے بازوں کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں

اس ٹیسٹ میچ میں پاکستانی بلے بازوں کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں. فوٹو: فائل

ابوظہبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو21رنز سے شکست دے دی۔پاکستانی ٹیم میچ کے آخری روز صرف 136رنز کے آسان ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 114 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی اور پاکستان کا کوئی بھی بلے باز رنگانا ہیراتھ کی گھومتی گیندوں کے آگے نہیں ٹھہر سکا۔ ہیراتھ میچ میں گیارہ کھلاڑی آوٹ کرکے مین آف دی میچ رہے۔ اس ٹیسٹ میچ میں پاکستانی بلے بازوں کی کمزوریاں کھل کر سامنے آ گئیں، اگر ذمے دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا جاتا تو میچ میں فتح حاصل کی جاسکتی تھی۔


اس ٹیسٹ میچ کے لیے جو وکٹ بنائی گئی، وہ آخری روز خاصی حد تک خراب ہو گئی تھی اوراس پر بلے بازی کرنا مشکل تھا تاہم اس کے باجود پاکستانی بلے بازوں کو یہ میچ جیتنا چاہیے تھا کیونکہ 136 رنز کا ہدف ایسا نہیں تھا کہ حاصل نہ کیا جا سکتا ہو۔ابتدائی بلے بازوں میں کوئی ایک بھی پچاس رنز بنا لیتا تو میچ باآسانی جیتا جا سکتا تھا۔ ابوظہبی ٹیسٹ میں جو ٹیم اتاری گئی وہ بھی وکٹ کی کنڈیشن سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اس وکٹ پر کم ازکم دو اسپیشلسٹ اسپنرز کھلائے جانے چاہیے تھے، شاید ٹیم مینجمنٹ وکٹ کو درست ریڈ (Read) نہیں کر سکی۔

سری لنکا کو ٹاس جینے کا بھی فائدہ ہوا اور اس نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، بہرحال ابوظہبی ٹیسٹ نے پاکستان کی کئی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت فاسٹ باؤلنگ ہے جب کہ ٹیسٹ کے لیے وکٹ اسپنرز کے لیے تیار کی گئی ، اس کے باوجود صرف یاسر شاہ پر اکتفا کیا گیا، اس ٹریک پردوسرا ریگولرا سپنر کھیلایا جاتا تو بھی میچ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔
Load Next Story