زری پالیسی کااعلان جمعہ کوگورنراسٹیٹ بینک کرینگے
جولائی میں افراط زرمیںکمی اورسیکیورٹیزپرریٹ کم ہونے سے نرمی کا...
جولائی میں افراط زرمیںکمی اورسیکیورٹیزپرریٹ کم ہونے سے نرمی کا اعلان متوقع (فوٹو ایکسپریس
ISLAMABAD:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ 2ماہ کیلیے بنیادی شرح سود کے تعین کیلیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان10 اگست کوکرے گا، بعض مثبت اطلاعات کے باعث امید کی جا رہی ہے کہ اسٹیٹ بینک زری پالیسی کو نرمی کرنے کااعلان کریگا۔ اسٹیٹ بینک کے ترجمان سیدوسیم الدین کے مطابق نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انورپریس کانفرنس میں کریںگے،اس سے قبل گورنر اسٹیٹ بینک کی زیرصدارت اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوگا
جس میں نئی مانیٹری پالیسی کی منظوری دی جائیگی۔ ماہرین کے مطابق مالی سال کے پہلے مہینے میںمہنگائی میں اضافے کی شرح ڈھائی سال کی کم ترین سطح پرآنے کے باعث اسٹیٹ بینک آئندہ مانیٹری پالیسی میں بنیادی شرح سودمیںکمی کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ جولائی کے دوران افراط زر میں اضافے کی شرح 9.6 فیصد رہی، دسمبر 2009 کے بعد پہلی بار مہنگائی میں اضافے کی شرح 10 فیصد سے کم ہوئی ہے۔ جے ایس ریسرچ کے مطابق مہنگائی کی شرح میںکمی اور امریکا کی طرف سے رکی ہوئی امداد کی بحالی کے بعد بنیادی شرح سود میں50 سے 100بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا سکتی ہے،
پاکستان انویسٹمنٹ بانڈکی شرح منافع میں 25 اور 6 ماہ کے ٹی بلز میں 20 بیسیزپوائنٹس کی نمایاں کمی بھی اسی طرف اشارہ کررہی ہے تاہم یہ خدشہ بھی ہے کہ رمضان میں اشیا خورونوش اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے رواں ماہ کے دوران مہنگائی ایک بار پھر 10 فیصدکی حد سے تجاوزکرجائے، اس کے علاوہ مون سون میں کم بارشوں کے باعث پانی میں کمی سے پن بجلی کی پیداوار متاثر ہو گی جو بجلی کی قیمت میںاضافے کاباعث بن سکتی ہے تاہم اس کے باوجود زیادہ تر اقتصادی ماہرین کاخیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں 10 اگست کوپالیسی ریٹ میںکمی کا امکان ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئندہ 2ماہ کیلیے بنیادی شرح سود کے تعین کیلیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان10 اگست کوکرے گا، بعض مثبت اطلاعات کے باعث امید کی جا رہی ہے کہ اسٹیٹ بینک زری پالیسی کو نرمی کرنے کااعلان کریگا۔ اسٹیٹ بینک کے ترجمان سیدوسیم الدین کے مطابق نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انورپریس کانفرنس میں کریںگے،اس سے قبل گورنر اسٹیٹ بینک کی زیرصدارت اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوگا
جس میں نئی مانیٹری پالیسی کی منظوری دی جائیگی۔ ماہرین کے مطابق مالی سال کے پہلے مہینے میںمہنگائی میں اضافے کی شرح ڈھائی سال کی کم ترین سطح پرآنے کے باعث اسٹیٹ بینک آئندہ مانیٹری پالیسی میں بنیادی شرح سودمیںکمی کرسکتا ہے۔ یاد رہے کہ جولائی کے دوران افراط زر میں اضافے کی شرح 9.6 فیصد رہی، دسمبر 2009 کے بعد پہلی بار مہنگائی میں اضافے کی شرح 10 فیصد سے کم ہوئی ہے۔ جے ایس ریسرچ کے مطابق مہنگائی کی شرح میںکمی اور امریکا کی طرف سے رکی ہوئی امداد کی بحالی کے بعد بنیادی شرح سود میں50 سے 100بیسس پوائنٹس کی کمی کی جا سکتی ہے،
پاکستان انویسٹمنٹ بانڈکی شرح منافع میں 25 اور 6 ماہ کے ٹی بلز میں 20 بیسیزپوائنٹس کی نمایاں کمی بھی اسی طرف اشارہ کررہی ہے تاہم یہ خدشہ بھی ہے کہ رمضان میں اشیا خورونوش اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے رواں ماہ کے دوران مہنگائی ایک بار پھر 10 فیصدکی حد سے تجاوزکرجائے، اس کے علاوہ مون سون میں کم بارشوں کے باعث پانی میں کمی سے پن بجلی کی پیداوار متاثر ہو گی جو بجلی کی قیمت میںاضافے کاباعث بن سکتی ہے تاہم اس کے باوجود زیادہ تر اقتصادی ماہرین کاخیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں 10 اگست کوپالیسی ریٹ میںکمی کا امکان ہے۔