طب کا نوبل انعام 3 امریکی سائنسدانوں کے نام
پاکستان میں بھی اعلیٰ دماغ موجود ہیں جو اپنی خدمات سے ملک و قوم کو سرفراز کررہے ہیں
پاکستان میں بھی اعلیٰ دماغ موجود ہیں جو اپنی خدمات سے ملک و قوم کو سرفراز کررہے ہیں. فوٹو: فائل
امریکا کے جینیاتی سائنسدان جیفری سی ہال، مائیکل راس بش اور مائیکل ڈبلیو یونگ کو میڈیسن کے شعبے میں نوبل انعام برائے 2017 دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انھیں یہ ایوارڈ اس حیاتیاتی کلاک کے بارے میں تفصیلات سامنے لانے پر دیا گیا ہے جس کا تعلق زیادہ تر جانداروں کے سونے اور جاگنے کے طریقہ کار سے ہے۔ اس تحقیقی کام سے یہ پہلو سامنے آیا ہے کہ پودے، جانور اور انسان اپنے حیاتیاتی کلاک کو کس طرح زمین پر آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ منطبق کرتے ہیں۔ ان سائنسدانوں نے انسانی جسم کی روز مرہ کے توازن اور حرکت کے حوالے سے اہم معلومات دریافت کی ہیں۔
پروفیسر راس بش میساچیوسیٹس کے شہر وال تھم میں برانڈیس یونیورسٹی کے محقق ہیں، مائیکل یونگ نیویارک کی روکی فیلر یونیورسٹی جب کہ جیفری سی ہال یونیورسٹی آف مین کے ریسرچر ہیں۔ تینوں محققین انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی کے اندر جھانکنے اور اس کے کام کی نوعیت سمجھنے میں کامیاب ہوئے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زمین پر موجود ہر طرح کی زندگی اپنی حیاتیاتی گھڑی کو منظم انداز میں چلانے کے لیے زمین کی گردش اور سورج کی روشنی کا سہارا لیتی ہے۔ مذکورہ سائنسدانوں کی تحقیقات طب کے شعبے میں اور نوع انسانی کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو پاکستان میں طب کا شعبہ زوال پذیر ہے، علمی میدان میں یہاں طب پر تحقیقاتی کام تو دور کی بات عوام تک بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی اعلیٰ دماغ موجود ہیں جو مختلف جہات میں اپنی خدمات سے ملک و قوم کو سرفراز کررہے ہیں لیکن حکومتی بے اعتناعی اور سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث کامیابی کے اعلیٰ مدارج طے کرنا کارِ دشوار محسوس ہوتا ہے۔
ماضی میں پاکستان کی مختلف شخصیات طب اور فزکس کے میدان میں نوبل انعام حاصل کرچکی ہیں لیکن ایک عرصہ سے اس عالمی ایوارڈ کے علمی و تحقیقاتی میدانوں میں پاکستان کے سائنسدانوں کا نام تک شامل نہیں ہوسکا ہے۔ اگر دیگر ممالک کے سائنسدان تحقیقاتی میدان میں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں تو وجہ صرف یہی ہے کہ وہاں کا تعلیمی نظام اور حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف وہ کارگر عوامل مہیا کرتا ہے جس کی بدولت سائنسدان اپنا تحقیقاتی کام بخوبی مکمل کرپاتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی پیروی کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنے ایجوکیشن سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومتی توجہ اور تعلیمی ترجیحات کے بغیر تحقیقاتی میدان میں کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی۔
پروفیسر راس بش میساچیوسیٹس کے شہر وال تھم میں برانڈیس یونیورسٹی کے محقق ہیں، مائیکل یونگ نیویارک کی روکی فیلر یونیورسٹی جب کہ جیفری سی ہال یونیورسٹی آف مین کے ریسرچر ہیں۔ تینوں محققین انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی کے اندر جھانکنے اور اس کے کام کی نوعیت سمجھنے میں کامیاب ہوئے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زمین پر موجود ہر طرح کی زندگی اپنی حیاتیاتی گھڑی کو منظم انداز میں چلانے کے لیے زمین کی گردش اور سورج کی روشنی کا سہارا لیتی ہے۔ مذکورہ سائنسدانوں کی تحقیقات طب کے شعبے میں اور نوع انسانی کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو پاکستان میں طب کا شعبہ زوال پذیر ہے، علمی میدان میں یہاں طب پر تحقیقاتی کام تو دور کی بات عوام تک بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی اعلیٰ دماغ موجود ہیں جو مختلف جہات میں اپنی خدمات سے ملک و قوم کو سرفراز کررہے ہیں لیکن حکومتی بے اعتناعی اور سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث کامیابی کے اعلیٰ مدارج طے کرنا کارِ دشوار محسوس ہوتا ہے۔
ماضی میں پاکستان کی مختلف شخصیات طب اور فزکس کے میدان میں نوبل انعام حاصل کرچکی ہیں لیکن ایک عرصہ سے اس عالمی ایوارڈ کے علمی و تحقیقاتی میدانوں میں پاکستان کے سائنسدانوں کا نام تک شامل نہیں ہوسکا ہے۔ اگر دیگر ممالک کے سائنسدان تحقیقاتی میدان میں کامیابیاں حاصل کررہے ہیں تو وجہ صرف یہی ہے کہ وہاں کا تعلیمی نظام اور حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف وہ کارگر عوامل مہیا کرتا ہے جس کی بدولت سائنسدان اپنا تحقیقاتی کام بخوبی مکمل کرپاتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی پیروی کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنے ایجوکیشن سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومتی توجہ اور تعلیمی ترجیحات کے بغیر تحقیقاتی میدان میں کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی۔