سندھ کی 6 ہزار سے زائد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خطرناک ہونے کا انکشاف

سندھ میں فعال اسکولوں کی تعداد39ہزار167 ہے،عارضی طور پر 1495 کام نہیں کر رہے اور 768 بند ہیں، بریفنگ

2500اسکولوں کو ماڈل پرائمری اسکول اور ایک ہزار ماڈل سکینڈری اورہائر سکینڈری ڈکلیئر کریں،وزیراعلیٰ مراد علی شاہ فوٹو : ایکسپریس

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی تعلیمی ایمرجنسی دھری رہ گئی، صوبے میں6 ہزار سے زائد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خطرناک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، اس بات کا انکشاف وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں ہوا۔


تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں محکمہ تعلیم کا اجلاس ہوا اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہر ، چیف سیکریٹری سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے اجلاس کو بریفنگ کے دوران سیکریٹری تعلیم عبدالعزیز عقیلی نے بتایا کہ سندھ میں فعال ہونے والے اسکولوں کی تعداد39ہزار167 ہے، عارضی طور پر 1495 کام نہیں کر رہے اور 768 اسکول بند ہیں، انھیں کھولا جاسکتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ953 اسکولز کافی عرصے سے بند ہیں ان کی ضرورت نہیں کیوں کہ ان اسکولوں کے قریبی اسکول کام کررہے ہیں۔ انھوں نے اجلاس کو بتایاکہ سندھ میں مجموعی طور 42383 اسکول ہیں، اس وقت6157 اسکولوں کی عمارتیں خطرناک ہیں جوکہ حالیہ بارشوں میں کمزور ہوگئی تھیں ۔

جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں شرکاسے کیاکہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ زیادہ تر اسکولوں میں بجلی نہیں ہوتی جس پر سیکریٹری تعلیم نے بتایاکہ کے الیکٹرک کے11کروڑ90لاکھ روپ یواجب الاداہیں جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے اسکولوں کی بجلی کے بلز کی مد میں11 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، آپ کے الیکٹرک حکام سے بات کرکے موجودہ بل اداکریں اور پچھلے بلز ری کنسائل کروائیں ۔ مزید کہا کہ میں برداشت نہیں کروں گا کہ بچے گرمیوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں، وزیراعلیٰ نے کہاکہ2500 پرائمری اسکولوں کو ماڈل پرائمری اسکول اور1 ہزار ماڈل سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری ڈکلیئر کریں اور تمام اسکولوں میں بنیادی سہولیات سمیت مکمل تدریسی عملہ فراہم کریں، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں سرکاری اسکول امتحانی نتائج میں کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ علاوہ ازیں انھوں چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن کو ہدایت کی کہ وہ کے الیکٹرک اور محکمہ تعلیم کو بٹھاکر سرکاری اسکولوں کی بجلی بحال کروائیں اور جلد از جلد مجوزہ مسائل حل کرکے مجھے رپورٹ کریں۔
Load Next Story