انضی بھائی پلیز اپنے کام پر توجہ دیں
کرکٹ چھوڑنے کا خیال کبھی نہیں آیا کیونکہ کرکٹ میری روزی روٹی ہے میں اسے نہیں چھوڑسکتا،فواد عالم
فوٹوفائل
''آپ ڈومیسٹک کرکٹ میں اتنی محنت سے مسلسل پرفارم کر رہے ہیں، اس کے باوجود سلیکٹرز موقع دینے کو تیار نہیں، کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ بیٹ اور دیگر کرکٹ کے سامان کو آگ لگا کر کھیلنا چھوڑ دوں'' نیشنل اسٹیڈیم میں چند روز قبل express.pkکیلیے ویڈیو انٹرویو کرتے ہوئے میں نے جب فواد عالم سے یہ پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ''ایسا خیال کبھی نہیں آیا کیونکہ کرکٹ میری روزی روٹی ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا''۔
'' مجھے کیوں نکالا ''کے عنوان سے چلنے والا فواد کا یہ انٹرویو ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ شائقین کرکٹ بھی متفق ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، یہاں ایک فواد کی بات نہیں کرتے، آپ گزشتہ تین سیزن کے ڈومیسٹک ٹاپ پرفارمرز کا جائزہ لیں، مگر نمایاں نام قومی ٹیم میں دور دور تک نظر نہیں آئیں گے،آصف ذاکر کو بغیر کھلائے ویسٹ انڈیز کی سیر کرا کے واپس لے آئے، ایکسپریس کے رپورٹر عباس رضا نے بھی اس پر تفصیلی رپورٹس دی ہیں، بولرز میں بھی تابش خان جیسے کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو ڈومیسٹک مقابلوں میں پرفارم کر کے تھک گئے مگر سلیکٹرزکے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، سینئر تو چھوڑیں جونیئر لیول پر بھی یہی حال ہے جس سے نوجوان کرکٹرز مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں، ایک تو خود سوزی کرنے ایل سی سی اے گراؤنڈ لاہور بھی پہنچ گیا تھا مگر اس کے باوجود بورڈ نے کوئی ایکشن نہ لیا، ایک طرف سلیکشن کا یہ حال ہے دوسری جانب چیف سلیکٹر انضمام الحق تقریباً15 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے کر بھی اپنے کام میں دلچسپی نہیں لے رہے۔
میڈیا چاہے جتنا شور مچا لے ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا، ساتھی سلیکٹرز توصیف احمد، وجاہت اﷲ واسطی اور وسیم حیدر بیچارے اس بات پر ہی خوش ہیں کہ چلو نام کے سامنے سلیکٹر تو لکھا ہے،لاکھوں روپے بھی مل رہے ہیں، انضی بھائی جو چاہیں کریں سانوں کی، سب جانتے ہیں کہ ایسے بے ضرر سابق کرکٹرز کو رکھا ہی اس لیے ہے کہ ''جی بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں'' کہتے رہیں، بطور کپتان انضمام کو ڈکٹیٹر کا خطاب ملا اب سلیکشن میں بھی وہ من مانیاں کر رہے ہیں،خوش قسمتی سے ٹیم چیمپئنز ٹرافی جیت گئی تو وہ آسمانوں میں اڑنے لگے،گھر بیٹھے ایک کروڑ کا انعام بھی وصول کر لیا مگر اب ابوظبی ٹیسٹ میں شکست نے مسائل عیاں کر دیے، البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف سلیکٹر کو اس کی کوئی فکر نہیں ، سب جانتے ہیں کہ سری لنکا سے ون ڈے سیریز کیلیے چیمپئنز ٹرافی کا فاتح اسکواڈ ہی برقرار رکھا جائے گا، مگر اس کے باوجود ''مشاورت'' کے لیے چیف سلیکٹر دبئی پہنچ گئے۔
انھیں پی سی بی نے بزنس کلاس کا فضائی ٹکٹ، فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کی سہولت اور کئی لاکھ روپے ڈیلی الاؤنس کی مد میں دیے،مگر وہ وہاں نجی ٹی 10 لیگ کی تقریب میں اسٹیج پر نظر آئے، وہاں پتا چلا کہ وہ ایونٹ کے برانڈ مینٹور اور ایک ٹیم کے مالک بھی ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز پی سی بی نے ٹی 10 لیگ جیسے ایونٹس پر دبے الفاظ میں تشویش بھی ظاہر کی تھی، پاکستانی چیف سلیکٹر اپنا کام چھوڑ کر نجی لیگز کو پروموٹ کر رہے اور ٹیم خرید کر پیسہ کمانا چاہتے ہیں کیا یہ مفادات کے ٹکراؤ کی بات نہیں ہے،انھیں اپنے اصل کام پر توجہ دینی چاہیے،چیئرمین نجم سیٹھی ان دنوں روس میں چھٹیاں منا رہے ہیں مگر اطلاعات کے مطابق بورڈ چیف سلیکٹر کے اس اقدام سے خوش نہیں ہے، اس طرح متواتر لیگز ہوتی رہیں تو پی ایس ایل کو کون پوچھے گا، فرنچائزز اپنے اپنے ایونٹس کرانے کے چکر میں لگی ہوئی ہیں اسی نے پی سی بی کو تشویش کا شکار کر دیا ہے۔
ایک دن اتنی لیگز ہونے لگیں گی کہ پلیئرز کے پاس قومی ٹیم کیلیے کھیلنے کا وقت ہی باقی نہیں رہے گا، انضمام کے بھائی اس سے قبل بھی بنکاک میں ہونے والے ایک ایونٹ میں ٹیم لے جا چکے ہیں جس کے کپتان فکسنگ پر تاحیات پابندی کے شکار دانش کنیریا تھے، اس کے باوجود بورڈ نے کوئی نوٹس نہیں لیا، سینئر صحافی واینکر مرزا اقبال بیگ ان چند صحافیوں میں شامل ہیں جو حق بات کرنے سے نہیں ڈرتے، انھوں نے گزشتہ دنوں ٹویٹ کی تھی کہ ''لگتا ہے نجم سیٹھی کا ہنی مون پیریڈ ختم ہو گیا'' یہ بات درست معلوم ہوتی ہے، ابھی سری لنکن ٹیم نے لاہور آنے کی تصدیق نہیں کی، ویسٹ انڈین بورڈ بھی نخرے دکھا رہا ہے، بھارت سے زرتلافی کے معاملے پر پیسہ پانی کی طرح خرچ کیا جانے لگا، ٹیم جس طرح ابوظبی میں جیتا ہوا میچ ہاری وہ بھی غور طلب ہے، اچانک ایسا کیا ہو گیا تھا، سیٹھی صاحب کو ویسے ہی تنقید برداشت نہیں، جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر میڈیا نے کروڑوں کے اخراجات کے باوجود ورلڈ الیون سے سیریز کو سپورٹ کیا اور منفی چیزیں نظر انداز کیں، مگر اب ایسا نہیں ہو گا،انھیں بہتری کیلیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوںگے۔
محمد الیاس کو اس لیے ویمنز چیف سلیکٹر بنایا گیا کہ وہ کہیں نجم سیٹھی کی تقرری کیخلاف کیس نہ کر دیں، وہ میرٹ کے بغیر عہدے پر فائز ہوئے، ٹیم نے ورلڈکپ میں شرمناک پرفارم کیا، الیاس سے اب کام نکل گیا تو باہر کر دیا گیا،وہ بھی جلے بھنے بیٹھے ہیں اور کسی بھی دن میڈیا میں آکر دل کی بھڑاس نکال دیںگے، شکیل شیخ سے بھی جو کام لینے تھے وہ لے لیے گئے، بیچارے اب کرکٹ معاملات سے دور بیٹھے ہیں، امکان کم ہے کہ انھیں دوبارہ کوئی بڑی پوسٹ دی جائے،البتہ وہ بھی اپوزیشن میں جا کر حکام کیلیے پریشانیاں کھڑی کرسکتے ہیں،خود بورڈ کا میڈیا ڈپارٹمنٹ بھی مسائل کا شکار ہے، یو اے ای میں مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے آفیشل کو میڈیا منیجر بنا کر بھیجا گیا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکام کو اپنے میڈیا ڈپارٹمنٹ پر کس قدر ''اعتماد'' ہے، جیت بڑے بڑے مسائل چھپا دیتی ہے چیمپئنز ٹرافی کے بعد بھی ایسا ہی ہوا تھا مگر اب آہستہ آہستہ لوگوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹنا شروع ہوا ہے، چیئرمین کو جلد معاملات میں بہتری لانا ہوگی ورنہ آنے والے دنوں میں بڑے مسائل بانہیں پھیلائے ان کا استقبال کرنے کیلیے تیار کھڑے ہوںگے۔
'' مجھے کیوں نکالا ''کے عنوان سے چلنے والا فواد کا یہ انٹرویو ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ شائقین کرکٹ بھی متفق ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، یہاں ایک فواد کی بات نہیں کرتے، آپ گزشتہ تین سیزن کے ڈومیسٹک ٹاپ پرفارمرز کا جائزہ لیں، مگر نمایاں نام قومی ٹیم میں دور دور تک نظر نہیں آئیں گے،آصف ذاکر کو بغیر کھلائے ویسٹ انڈیز کی سیر کرا کے واپس لے آئے، ایکسپریس کے رپورٹر عباس رضا نے بھی اس پر تفصیلی رپورٹس دی ہیں، بولرز میں بھی تابش خان جیسے کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو ڈومیسٹک مقابلوں میں پرفارم کر کے تھک گئے مگر سلیکٹرزکے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، سینئر تو چھوڑیں جونیئر لیول پر بھی یہی حال ہے جس سے نوجوان کرکٹرز مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں، ایک تو خود سوزی کرنے ایل سی سی اے گراؤنڈ لاہور بھی پہنچ گیا تھا مگر اس کے باوجود بورڈ نے کوئی ایکشن نہ لیا، ایک طرف سلیکشن کا یہ حال ہے دوسری جانب چیف سلیکٹر انضمام الحق تقریباً15 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لے کر بھی اپنے کام میں دلچسپی نہیں لے رہے۔
میڈیا چاہے جتنا شور مچا لے ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا، ساتھی سلیکٹرز توصیف احمد، وجاہت اﷲ واسطی اور وسیم حیدر بیچارے اس بات پر ہی خوش ہیں کہ چلو نام کے سامنے سلیکٹر تو لکھا ہے،لاکھوں روپے بھی مل رہے ہیں، انضی بھائی جو چاہیں کریں سانوں کی، سب جانتے ہیں کہ ایسے بے ضرر سابق کرکٹرز کو رکھا ہی اس لیے ہے کہ ''جی بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں'' کہتے رہیں، بطور کپتان انضمام کو ڈکٹیٹر کا خطاب ملا اب سلیکشن میں بھی وہ من مانیاں کر رہے ہیں،خوش قسمتی سے ٹیم چیمپئنز ٹرافی جیت گئی تو وہ آسمانوں میں اڑنے لگے،گھر بیٹھے ایک کروڑ کا انعام بھی وصول کر لیا مگر اب ابوظبی ٹیسٹ میں شکست نے مسائل عیاں کر دیے، البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف سلیکٹر کو اس کی کوئی فکر نہیں ، سب جانتے ہیں کہ سری لنکا سے ون ڈے سیریز کیلیے چیمپئنز ٹرافی کا فاتح اسکواڈ ہی برقرار رکھا جائے گا، مگر اس کے باوجود ''مشاورت'' کے لیے چیف سلیکٹر دبئی پہنچ گئے۔
انھیں پی سی بی نے بزنس کلاس کا فضائی ٹکٹ، فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کی سہولت اور کئی لاکھ روپے ڈیلی الاؤنس کی مد میں دیے،مگر وہ وہاں نجی ٹی 10 لیگ کی تقریب میں اسٹیج پر نظر آئے، وہاں پتا چلا کہ وہ ایونٹ کے برانڈ مینٹور اور ایک ٹیم کے مالک بھی ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز پی سی بی نے ٹی 10 لیگ جیسے ایونٹس پر دبے الفاظ میں تشویش بھی ظاہر کی تھی، پاکستانی چیف سلیکٹر اپنا کام چھوڑ کر نجی لیگز کو پروموٹ کر رہے اور ٹیم خرید کر پیسہ کمانا چاہتے ہیں کیا یہ مفادات کے ٹکراؤ کی بات نہیں ہے،انھیں اپنے اصل کام پر توجہ دینی چاہیے،چیئرمین نجم سیٹھی ان دنوں روس میں چھٹیاں منا رہے ہیں مگر اطلاعات کے مطابق بورڈ چیف سلیکٹر کے اس اقدام سے خوش نہیں ہے، اس طرح متواتر لیگز ہوتی رہیں تو پی ایس ایل کو کون پوچھے گا، فرنچائزز اپنے اپنے ایونٹس کرانے کے چکر میں لگی ہوئی ہیں اسی نے پی سی بی کو تشویش کا شکار کر دیا ہے۔
ایک دن اتنی لیگز ہونے لگیں گی کہ پلیئرز کے پاس قومی ٹیم کیلیے کھیلنے کا وقت ہی باقی نہیں رہے گا، انضمام کے بھائی اس سے قبل بھی بنکاک میں ہونے والے ایک ایونٹ میں ٹیم لے جا چکے ہیں جس کے کپتان فکسنگ پر تاحیات پابندی کے شکار دانش کنیریا تھے، اس کے باوجود بورڈ نے کوئی نوٹس نہیں لیا، سینئر صحافی واینکر مرزا اقبال بیگ ان چند صحافیوں میں شامل ہیں جو حق بات کرنے سے نہیں ڈرتے، انھوں نے گزشتہ دنوں ٹویٹ کی تھی کہ ''لگتا ہے نجم سیٹھی کا ہنی مون پیریڈ ختم ہو گیا'' یہ بات درست معلوم ہوتی ہے، ابھی سری لنکن ٹیم نے لاہور آنے کی تصدیق نہیں کی، ویسٹ انڈین بورڈ بھی نخرے دکھا رہا ہے، بھارت سے زرتلافی کے معاملے پر پیسہ پانی کی طرح خرچ کیا جانے لگا، ٹیم جس طرح ابوظبی میں جیتا ہوا میچ ہاری وہ بھی غور طلب ہے، اچانک ایسا کیا ہو گیا تھا، سیٹھی صاحب کو ویسے ہی تنقید برداشت نہیں، جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر میڈیا نے کروڑوں کے اخراجات کے باوجود ورلڈ الیون سے سیریز کو سپورٹ کیا اور منفی چیزیں نظر انداز کیں، مگر اب ایسا نہیں ہو گا،انھیں بہتری کیلیے ہنگامی اقدامات کرنے ہوںگے۔
محمد الیاس کو اس لیے ویمنز چیف سلیکٹر بنایا گیا کہ وہ کہیں نجم سیٹھی کی تقرری کیخلاف کیس نہ کر دیں، وہ میرٹ کے بغیر عہدے پر فائز ہوئے، ٹیم نے ورلڈکپ میں شرمناک پرفارم کیا، الیاس سے اب کام نکل گیا تو باہر کر دیا گیا،وہ بھی جلے بھنے بیٹھے ہیں اور کسی بھی دن میڈیا میں آکر دل کی بھڑاس نکال دیںگے، شکیل شیخ سے بھی جو کام لینے تھے وہ لے لیے گئے، بیچارے اب کرکٹ معاملات سے دور بیٹھے ہیں، امکان کم ہے کہ انھیں دوبارہ کوئی بڑی پوسٹ دی جائے،البتہ وہ بھی اپوزیشن میں جا کر حکام کیلیے پریشانیاں کھڑی کرسکتے ہیں،خود بورڈ کا میڈیا ڈپارٹمنٹ بھی مسائل کا شکار ہے، یو اے ای میں مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے آفیشل کو میڈیا منیجر بنا کر بھیجا گیا، اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکام کو اپنے میڈیا ڈپارٹمنٹ پر کس قدر ''اعتماد'' ہے، جیت بڑے بڑے مسائل چھپا دیتی ہے چیمپئنز ٹرافی کے بعد بھی ایسا ہی ہوا تھا مگر اب آہستہ آہستہ لوگوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹنا شروع ہوا ہے، چیئرمین کو جلد معاملات میں بہتری لانا ہوگی ورنہ آنے والے دنوں میں بڑے مسائل بانہیں پھیلائے ان کا استقبال کرنے کیلیے تیار کھڑے ہوںگے۔