خواجہ آصف ٹلرسن ملاقات
خواجہ آصف اور ریکس ٹلرسن کی ملاقات کو اعتماد سازی کی جانب اہم پیش رفت کہنا غلط نہ ہوگا
خواجہ آصف اور ریکس ٹلرسن کی ملاقات کو اعتماد سازی کی جانب اہم پیش رفت کہنا غلط نہ ہوگا.فوٹو: فائل
DIYARBAKIR:
وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کی امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن سے ملاقات نہ صرف اہم اور ناگزیر تھی بلکہ ملک کے داخلی سیناریو کو دیکھتے ہوئے اس میں خطے کو درپیش کثیر جہتی چیلنجز سے نمٹنے کی جستجو بھی ہویدا ہوئی ہے، میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی پر خواجہ آصف نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا، پاکستان کے عوام میں اس حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے، اقتصادی سرگرمیاں بڑھی ہیں اور پاکستان نے تمام دہشت گرد اور عسکریت پسند گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی ہیں۔
بلاشبہ پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا اور افغانستان کے لیے پالیسی کا اعلان کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ ٹرمپ نے دہشتگردی ،خطے میں بدامنی، امریکا کی افغانستان جنگ میں ہزیمت ، نیٹو فورسز کے بریک تھرو میں ناکامی اور دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا سارا ملبہ پاکستان پر گرا دیا ، مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا جاری دورانیہ پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی، بد اعتمادی ، غیرمنطقی امریکی رویے اور اسٹریٹجیکل بے سمتی کی افسوسناک داستان ہے جس میں امریکی دھمکیاں گونجتی رہیں جب کہ پاکستان کے نان نیٹو اسٹیٹس تک کو ختم کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا۔
تاہم ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے نہایت تدبر اور عملیت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے قومی امنگوں کی مکمل ترجمانی کی اور ان تمام الزامات کو مسترد کردیا جو صدر ٹرمپ، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ، وزیر دفاع جیمز میٹس،امریکی جنرلز اور افغانستان میں موجود کمانڈروں کی جانب سے وقتا فوقتاً لگائے جاتے رہے، اسی تناؤ، دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت میں پاکستان نے امریکا کی نمایندہ برائے افغانستان و پاکستان ایلس ویلز کے طے شدہ دورہ پاکستان کو روکنے کا فیصلہ کیا اور بعد ازاں دونوں ملکوں نے سفارتی سطح پر اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ دورہ مناسب وقت میں ہوگا، چنانچہ اس التوا کے پیش نظر خواجہ آصف اور ریکس ٹلرسن کی ملاقات کو اعتماد سازی کی جانب اہم پیش رفت کہنا غلط نہ ہوگا۔
اس وقت امریکا کو دہشتگردی،انتہاپسندوں کے محفوط ٹھکانوں اور پاکستان کی داخلی صورتحال اور خطے کی اصل جدلیات سے آگاہ کرنا لازمی ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار کی حقیقت سے آگہی حاصل ہو، کوئی مس ایڈونچر نہ ہو، یوں دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے زیر بحث ملاقات کو امن،استحکام کے امکانات تلاش کرنے کی صائب کوشش سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے ٹلرسن کو بتایا کہ پاکستان اور امریکا افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کی مشترکہ خواہش رکھتے ہیں دونوں ممالک کے 70 دہائیوں پر مشتمل تعلقات ہیں، افغانستان میں سرحد پار سے پاکستانی علاقوں میں حملے کیے جاتے ہیں، امریکا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کشمیری عوام پر جارحیت کا نوٹس لے، خطے میں مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل تک پائیدار امن ممکن نہیں۔ ذرایع کے مطابق ملاقات میں امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری اور پاکستانی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن بھی موجود تھے۔
خواجہ آصف نے امریکی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے پاک امریکا تعاون انتہائی ضروری ہے، جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی پر پاکستان کے تحفظات کا خیال رکھا جائے گا، دونوں اطراف سے خطے میں امن و استحکام اور معاشی خوش حالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مثبت رابطوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع جیمزمٹیس نے سینیٹ کی آرمڈسروسزکمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد پاکستان کادورہ کریں گے۔ جیمزمیٹس نے کہا کہ افغان پالیسی بنانے کے لیے پاکستان سے پھر بات کرنا ہوگی۔ افغان اسٹرٹیجی پر پاکستان کے ساتھ چلنے کی ایک اور کوشش کی جائے گی، اگر ہم اس میں ناکام ہوئے توامریکی صدرڈونلڈٹرمپ اپناآپشن دیںگے۔
اب جب کہ پاکستان کی طرف سے امریکا کو حقائق سے آگہی کی ابتدا ہوئی ، رابطے بحال ہوئے ہیں، ارباب اختیار کو پاک امریکا تعلقات میں مزید غیر معمولی پیش رفت کے لیے اپنے تمام سفارتی اور سیاسی آپشنز استعمال کرنے کی انتھک کوششیں جاری رکھنی چاہئیں ۔ ٹرمپ عالمی سیاست میں بلائے ناگہانی کی صورت موجود ہیں، ان کا ''امریکا پہلے '' کا نعرہ مجذوب کی بڑ نہیں، ان کی حکمت عملی اور اعلانات پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے، ٹرمپ کو سابق صدر جمی کارٹر نے شمالی کوریا کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے ،اسی انداز کی مثبت حکمت عملی ٹرمپ جنوبی ایشیا اور برصغیر میں امن و استحکام کے لیے وضع کرلیں تو انھیں مزید امریکی فوجیں افغانستان بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑیگی، پاک افغان تعلقات اور خطے کو خطرہ طالبان ،داعش اور ٹی ٹی پی کے ان مفرور دہشت گردوں سے ہے جو افغانستان میں موجود ہیں، امریکا اس کا نوٹس لے۔
وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کی امریکی ہم منصب ریکس ٹلرسن سے ملاقات نہ صرف اہم اور ناگزیر تھی بلکہ ملک کے داخلی سیناریو کو دیکھتے ہوئے اس میں خطے کو درپیش کثیر جہتی چیلنجز سے نمٹنے کی جستجو بھی ہویدا ہوئی ہے، میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی پر خواجہ آصف نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا، پاکستان کے عوام میں اس حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے، اقتصادی سرگرمیاں بڑھی ہیں اور پاکستان نے تمام دہشت گرد اور عسکریت پسند گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی ہیں۔
بلاشبہ پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا اور افغانستان کے لیے پالیسی کا اعلان کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ ٹرمپ نے دہشتگردی ،خطے میں بدامنی، امریکا کی افغانستان جنگ میں ہزیمت ، نیٹو فورسز کے بریک تھرو میں ناکامی اور دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا سارا ملبہ پاکستان پر گرا دیا ، مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا جاری دورانیہ پاک امریکا تعلقات میں کشیدگی، بد اعتمادی ، غیرمنطقی امریکی رویے اور اسٹریٹجیکل بے سمتی کی افسوسناک داستان ہے جس میں امریکی دھمکیاں گونجتی رہیں جب کہ پاکستان کے نان نیٹو اسٹیٹس تک کو ختم کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا۔
تاہم ہماری سیاسی و عسکری قیادت نے نہایت تدبر اور عملیت پسندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے قومی امنگوں کی مکمل ترجمانی کی اور ان تمام الزامات کو مسترد کردیا جو صدر ٹرمپ، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ، وزیر دفاع جیمز میٹس،امریکی جنرلز اور افغانستان میں موجود کمانڈروں کی جانب سے وقتا فوقتاً لگائے جاتے رہے، اسی تناؤ، دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت میں پاکستان نے امریکا کی نمایندہ برائے افغانستان و پاکستان ایلس ویلز کے طے شدہ دورہ پاکستان کو روکنے کا فیصلہ کیا اور بعد ازاں دونوں ملکوں نے سفارتی سطح پر اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ دورہ مناسب وقت میں ہوگا، چنانچہ اس التوا کے پیش نظر خواجہ آصف اور ریکس ٹلرسن کی ملاقات کو اعتماد سازی کی جانب اہم پیش رفت کہنا غلط نہ ہوگا۔
اس وقت امریکا کو دہشتگردی،انتہاپسندوں کے محفوط ٹھکانوں اور پاکستان کی داخلی صورتحال اور خطے کی اصل جدلیات سے آگاہ کرنا لازمی ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کردار کی حقیقت سے آگہی حاصل ہو، کوئی مس ایڈونچر نہ ہو، یوں دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے زیر بحث ملاقات کو امن،استحکام کے امکانات تلاش کرنے کی صائب کوشش سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے ٹلرسن کو بتایا کہ پاکستان اور امریکا افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کی مشترکہ خواہش رکھتے ہیں دونوں ممالک کے 70 دہائیوں پر مشتمل تعلقات ہیں، افغانستان میں سرحد پار سے پاکستانی علاقوں میں حملے کیے جاتے ہیں، امریکا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کشمیری عوام پر جارحیت کا نوٹس لے، خطے میں مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل تک پائیدار امن ممکن نہیں۔ ذرایع کے مطابق ملاقات میں امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری اور پاکستانی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن بھی موجود تھے۔
خواجہ آصف نے امریکی ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ یہ اطلاع خوش آیند ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے پاک امریکا تعاون انتہائی ضروری ہے، جنوبی ایشیا کے حوالے سے پالیسی پر پاکستان کے تحفظات کا خیال رکھا جائے گا، دونوں اطراف سے خطے میں امن و استحکام اور معاشی خوش حالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مثبت رابطوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع جیمزمٹیس نے سینیٹ کی آرمڈسروسزکمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد پاکستان کادورہ کریں گے۔ جیمزمیٹس نے کہا کہ افغان پالیسی بنانے کے لیے پاکستان سے پھر بات کرنا ہوگی۔ افغان اسٹرٹیجی پر پاکستان کے ساتھ چلنے کی ایک اور کوشش کی جائے گی، اگر ہم اس میں ناکام ہوئے توامریکی صدرڈونلڈٹرمپ اپناآپشن دیںگے۔
اب جب کہ پاکستان کی طرف سے امریکا کو حقائق سے آگہی کی ابتدا ہوئی ، رابطے بحال ہوئے ہیں، ارباب اختیار کو پاک امریکا تعلقات میں مزید غیر معمولی پیش رفت کے لیے اپنے تمام سفارتی اور سیاسی آپشنز استعمال کرنے کی انتھک کوششیں جاری رکھنی چاہئیں ۔ ٹرمپ عالمی سیاست میں بلائے ناگہانی کی صورت موجود ہیں، ان کا ''امریکا پہلے '' کا نعرہ مجذوب کی بڑ نہیں، ان کی حکمت عملی اور اعلانات پر گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے، ٹرمپ کو سابق صدر جمی کارٹر نے شمالی کوریا کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے ،اسی انداز کی مثبت حکمت عملی ٹرمپ جنوبی ایشیا اور برصغیر میں امن و استحکام کے لیے وضع کرلیں تو انھیں مزید امریکی فوجیں افغانستان بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑیگی، پاک افغان تعلقات اور خطے کو خطرہ طالبان ،داعش اور ٹی ٹی پی کے ان مفرور دہشت گردوں سے ہے جو افغانستان میں موجود ہیں، امریکا اس کا نوٹس لے۔