عقیدہ ختم نبوتایمان کی بنیاد

ترمیم کے وقت ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کے الفاظ میں غلطی ہوگئی تھی,ایاز صادق

ترمیم کے وقت ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کے الفاظ میں غلطی ہوگئی تھی,ایاز صادق۔ فوٹو: فائل

تمام مسلمان عقیدہ ختم نبوت پرکامل یقین رکھتے ہیں، یہ ہمارے ایمان کی بنیاد اورآئین پاکستان کا حصہ بھی ہے۔ کوئی بھی عوامی نمایندہ جب کاغذات نامزدگی حاصل کرتا ہے تو ختم نبوت کے حلف نامے کو پرکرتا ہے اور جب منتخب پارلیمنٹ وجود میں آتی ہے تو ہر مسلمان رکن عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے الفاظ حلف اٹھاتے ہوئے بھی ادا کرتا ہے ، لیکن دو روز قبل انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جو ترمیم سامنے آئی تھی، اس کی وجہ سے ملک بھر میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ انتخابی اصلاحات بل 2017 میں ختم نبوت کے حلف میں ترمیم کے خلاف مذہبی جماعتوں نے ملک بھر میں احتجاج کیا، مختلف شہروں میں جلوس نکالے گئے اور حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اس حساس مسئلے کی نشاندہی کی تو فوری طور پر حکومتی سطح پر قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت تمام پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا ۔


اجلاس کے بعد پارلیمانی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ الیکشن بل میں ترمیم کے وقت ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کے الفاظ میں غلطی ہوگئی تھی، غلطی کو درست کرنا کوئی بری بات نہیں، یہ ایک ٹیکنیکل اورکلریکل غلطی تھی، میں تمام پارلیمانی لیڈرز کا شکرگزار ہوں سب نے سر جوڑ کر معاملے کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ ڈیکلریشن رول، سیاسی جماعتوں، ختم نبوت، بانی پاکستان کے وژن کے حوالے سے لفظ بہ لفظ، جو ایکٹ پاس کیا ہے، اس میں سابق ایکٹ والے الفاظ دوبارہ شامل کیے جائیں گے اور اس قانون کو پہلے والی صورت میں بحال کردیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن نے انتخابی اصلاحات ایکٹ میں کاغذات نامزدگی فارم میں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو دوبارہ اصل شکل میں بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جمعرات کو اس قانون کے دوبارہ اصل شکل میں قومی اسمبلی سے پاس ہونے کا قوم کو یقین بھی دلایا گیا، یوں ایک حساس ترین مسئلے کا نہایت احسن طریقے سے حل نکالا گیا ہے ۔اس سے ملک کے عوام میں پھیلی بے اطمینانی ، بے چینی اور ابہام کی صورتحال کے خاتمے میں خاصی مدد ملی ہے۔ جو سیاسی و مذہبی جماعتیں احتجاج کی کال دے چکی تھیں وہ اب یقیناً اسے واپس لے لیں گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس غلطی کی فوری اور غیرجانبدارانہ اور شفاف انکوائری کروائی جائے ، اور ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آیندہ ایسی غلطی نہ ہو۔
Load Next Story